میری زندگی کا بس ایک ہی مقصد رہ گیا ہے اپنے بھائی کے لیے انصاف انصاف لینے تک جدوجہد جاری رہے گی ہمارا مقابلہ کسی سیاسی سے نہیں ہمارا مقابلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے جس نے ڈی چوک میں نوجوانوں کا قتل عام کیا ہمارے بھائیوں کو بے گناہ شہید کیا اور ہمارے قائد کو تین سال سے بے گناہ جیل میں قید کیا انشاءاللہ امید کے ساتھ ایک دن انصاف کا بول بالا ہوگا اور یہ عمران خان کی زندگی کے قیمتی ایک ایک منٹ کا حساب لیا جائے گا اللہ پاک ہمیں حق اور سچ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
ایک چیز کا کریڈٹ عاصم منیر کو بہرحال دینا پڑے گا- اس نے کبھی عوام کے سامنے مقبول ہونے کی نہ کوشش کی اور نہ ہی ان کی بہتری کے لئے کچھ بھی کیا ہے-
یہ جانتا ہے کہ قوم اس سے شدید نفرت کرتی ہے اور اس نے بھی ان کی زندگی جہنم سے بدتر بنانے کی ٹھان رکھی ہے-
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
مجھ پر اور میرے دامادوں مخدوم زاہد بہار ہاشمی اور بیرسٹر مخدوم شاہزیب ہاشمی پر بجلی چوری کا مقدمہ درج۔
مجھے گرفتار کرلیں میں ضمانت بھی نہیں کراؤں گا۔ جو بھی الزام لگائیں میں ضمانت نہیں کراؤں گا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں آئیں اور گرفتار کریں۔ نا کہیں چھپوں گا نہیں کہیں جاؤں گا۔
روزانہ مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی میڈیا پر ہورہاہے
یہ میڈیا بلوچستان میں سڑکوں پر پڑے ہوئے پولیس شہداء کے لاشوں پر کیوں بات نہیں کر رہا؟مولانا صاحب کے خلاف 42 پریس کانفرنسز اور زیارت شہداء کے بارے میں خاموشی
کیا یہ شہداء کی توہین اور بے توقیری نہیں ہے
نہ کوئی شرم نہ کوئی حیا
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
ذہنی مریض کی تشخیص ہونے کے بعد سے اس نے صرف ایک کام میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔
اس مرض کو داخلی اور بین الاقوامی طور پر ثابت کرنا۔
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور JUI سے اگرچہ میرا کوئی تعلق نہیں، مگر جو بات انہوں نے کی ہے،
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔
فوج کے جوانوں کو میں شہید سمجھتا ہوں، لیکن طالبان کیا اسی فوج نے نہیں بنائے؟ تحریکِ لبیک، جن کو یہ آج دہشت گرد کہتے ہیں، کس نے بنائی؟ کیا ایک فوجی فیض آباد میں سرِعام پیسے نہیں بانٹ رہا تھا؟ کیا یہی فوج امریکا کے لیے جنگیں نہیں لڑتی رہی؟
جرنیلوں نے ان سپاہیوں کا استعمال پریشر الیکشنز میں دھاندلی، چلتی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے کیا۔
اس فوج کو فوج رہنے دیں، کرائے کی فوج نہ بنائیں۔
آج اندرونی بیرونی غداروں کو آگ لگ چکی ہے اب یہ سب غدار ملُکر کوشش کریں گے کہ علیمہ خان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے
عمران خان کی رہائی کے لیے علیمہ خان کا ایسے عوام میں جانا نہایت ضروری تھا
بلوچستان کے حالات دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ یہ تو ایک SHO کی مار نہیں تھے؟
عاصم منیر صاحب، آپ کو بھی اپنی تقریریں بھول گئیں؟
بلوچستان، آزاد کشمیر اور پختونخوا کے حالات کی ذمہ داری عاصم منیر پر ہے۔
جلد آپ پاکستان کی عوام کے آگے، ان کے ووٹ کے آگے سرنڈر کریں گے! باقی ڈکٹیٹروں کی طرح آپ بھی صدر بننا تو چاہتے ہیں، آپ کے نہ بننے کا افسوس رہے گا۔
attention, about turn quick march, go back' to your barracks and never come again'
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
تحریک انصاف کی سیٹیں جب چھینی گئیں اور جب بانٹی گئیں تو کسی نے لینے سے انکار نہیں کیا جب وردی میں لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ کر بیچیں گے اور 40 چالیس کروڑ میں روکنیت بیچیں گے تو وہ شخص پاکستان کی عوام کی جیبوں سے 40 کروڑ نکالے گا
محمود خان اچکزئی کا بلوچستان اے پی سی سے خطاب
دشمنوں کو بلوچستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
یہ ہے وہ ترقی جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں نے بلوچستان کو 78 برسوں میں دی ہے، 18 گھنٹوں تک سینکڑوں دھشتگردوں سے پرانی بندوقوں کے ساتھ لڑنے والے بلوچستان پولیس کے بہادر جوانوں کی میتوں کے لیے بلوچستان حکومت اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے پاس ایمبولینس تک نہیں ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
میرے کسی بھی ٹویٹ یا بیان سے میری فیملی کا کوئی تعلق نہیں ہر بیان اور ہر ٹویٹ میری ذاتی رائے ہے اور اس کا مکمل ذمہ دار میں خود ہوں
آپ کا مسئلہ اگر مجھ سے ہے تو میرے خاندان کو اس میں شامل نہ کیا جائےاور ناجائز حکمرانوں کے خلاف آواز بلند ہوتی رہے گی اور یہ جدوجہد انشاء اللہ قائد کی
ٹرین الٹ جاتی ہے، وزیر استعفیٰ دے دیتا ہے۔ لیکن یہ جو ابھی واقعہ ہوا، 12 بجے زیارت کے معاملے میں ان لوگوں نے اپنے افسران کو کہا ہے کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں، لوگ زیادہ ہیں، خدا کے لیے ہم تک امداد پہنچائیں۔ پانچ بجے تک وہ محنت کرتے رہے، ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا جو بھی بلا ہے۔ پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ بھئی ہم تو بالکل بے بس ہو گئے ہیں، مہربانی کریں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ مہربانی کریں اور کچھ امداد پہنچائیں۔
وزیر اعلیٰ صاحب! کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا یا کسی کو تو نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا۔ بس انسان ہیں، مرتے رہیں گے اور آپ بس 'پاکستان زندہ باد' کہتے رہیں گے، پاکستان اس طرح زندہ باد نہیں ہو گا۔ پاکستان بہت بڑی بربادی کی طرف چلا جائے گا۔
ہم درخواست کرتے ہیں، ہم اپنی افواج اور اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کو چاہیے، مہربانی کریں۔ جو آئین کا حلف آپ نے اٹھایا ہے اس کا آپ خیال رکھیں، جو ہم نے اٹھایا ہے ہم اس کا خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک، ان کا حلف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھیں، پاکستان بچ جائے گا، پاکستان چل جائے گا۔
اور تھوڑی سی مہربانی ہمیں بھی کرنی ہو گی۔ ہمارے یہ اکابرین بیٹھے ہیں، دوست بیٹھے ہیں۔ یہ جو کچھ ہمارے آئین میں ہوا—26ویں ترمیم، فلانی ترمیم—میں معافی چاہتا ہوں، میں کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا لیکن تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے چھوٹے صوبوں کے ووٹ نہ ہوتے تو یہ آئین نہیں بگڑنا تھا۔ ہمارے چھوٹے صوبوں کے بلوچ، سندھی، پشتون؛ ہماری قومی اسمبلی میں اتنے ووٹ تھے اور سینیٹ میں اتنے ووٹ تھے کہ اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی تھی۔ ہم نے مصلحت کے تحت یہ کام کیا ہے۔
ہم نے مصلحتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی بربادی کی ہے، اپنی عدالت کے ہم نے پر کاٹے ہیں، اپنے آپ پر پابندی لگائی ہے، اپنے ہاتھوں کو ہم نے خود باندھا ہے۔ 26ویں ترمیم دو ووٹوں سے کامیاب ہوئی؛ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ملا کر دو ووٹوں سے، جبکہ ہمارے ووٹ کم از کم 15، 20 تھے۔ پیپلز پارٹی کے ووٹ، ہمارے ووٹ، تحریک انصاف کے ووٹ اور بلوچ علاقوں کے ووٹ۔ ہم نے اپنے خلاف خود ووٹ دیے۔
کھوکھر صاحب نے جو بات کی کہ بھئی سینیٹ کے انتخابات ڈائریکٹ ہوں یا ان ڈائریکٹ، سینیٹ کو وہ اختیارات دینے چاہئیں جو قومی اسمبلی کے پاس ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات ڈائریکٹ ہوں یا ان ڈائریکٹ، مانیٹری بل میں یا دیگر معاملات میں؛ جہاں مختلف قومیں رہتی ہیں وہاں اسی لیے بائی کیمرل (دو ایوانی) نظام لایا جاتا ہے کہ چھوٹے ہاؤس اور بڑے ہاؤس میں سب برابر ہوں۔ پنجاب کے بھی 25 یا 20 ہوں، سندھ کے بھی 20، بلوچوں کے بھی 20 اور پشتونوں کے بھی 20 ہوں۔ اس طرح ایک توازن قائم رہتا ہے۔
آج بھی اگر سینیٹ میں نمائندگی دے دی جائے، اور اگر جرگہ ہو سکتا ہے تو جرگہ بنا دیں۔ ہم جرگہ بنا کر آرمی چیف کے پاس چلے جائیں گے کہ خدا کو مانیں، اپنا کام کریں، پاکستان ہم بنا دیں گے۔ میں بلوچوں کو راضی کروں گا، آپ صرف پشتونوں کو یہ یقین دلائیں کہ 18ویں ترمیم نے جو آپ کے صوبے کو دیا ہے، اس پر پہلا قانونی اور آئینی حق آپ کے بچوں کا ہو گا۔ یہ سندھیوں اور بلوچوں سے کہہ دیں کہ آپ کے ساحل اور وسائل پر آپ کا حق ہے، تو یہ ٹینشن ختم ہو جائے گی۔
آپ نے مارنا ہے تو کتنوں کو ماریں گے؟ فرعون سے زیادہ تو آپ نہیں مار سکتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، آئیں عہد کریں، ہر ادارہ عہد کرے۔ جہاں تک بات معافی مانگنے کی ہے، تو معافی سب مانگیں، سارے ادارے۔ افواجِ پاکستان بھی، ایجنسیاں بھی، ادارے بھی اور سیاسی لوگ بھی۔ مصلحتوں سے کام نہ لیں۔ چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کی وجہ سے آپ نے بربادی کر دی ہے۔
ازراہِ تفنن، لیکن میں دل کی بات کرتا ہوں؛ جب تحریک انصاف کی چھینی ہوئی سیٹیں بانٹی گئیں تو کسی نے انہیں لینے سے انکار نہیں کیا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، وہ ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے تھے اور ہم نے اپنی جیبیں کھلی رکھی ہوئی تھیں کہ اس میں ڈال دو۔ کیا ملک ایسے چلے گا؟
آئیں وعدہ کریں، عہد کریں۔ جب افواج اس حد تک آ جاتی ہیں، جب وردی والے لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ دیتے ہیں کہ 'بسم اللہ! یہ بولی ہے، سیٹوں کا ریٹ کتنے کا؟ بسم اللہ، 30 کروڑ، 40 کروڑ'۔ جب آپ 40 کروڑ میں اسمبلی کی سیٹیں بیچیں گے اور ان کو وزیر بنائیں گے، تو وہ یہ 40 کروڑ پاکستان کے پیٹ سے ہی نکالیں گے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟
غلطیاں ہوئی ہیں، سب نے کی ہیں لیکن توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ ہماری طرف سے، میں ان کا چاچا ہوں، بلوچوں کا بھی چاچا ہوں، سندھیوں کا بھی چاچا ہوں۔ ہم آپ کو قرآن کریم کے صفحات پر لکھ کر دے دیں گے کہ ہماری عزت کا خیال رکھیں، ہماری خود مختاری کا خیال رکھیں، ہمیں اپنے وسائل پر ہمارا آئینی حق دے دیں، پاکستان سنور جائے گا۔ اور اگر آپ نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ہے، تو پھر آپ کی مرضی، آپ نے جو کرنا ہے کریں بسم اللہ، لیکن اس کا نتیجہ جو کچھ بھی ہو گا اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی