اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ جو کچھ انہوں نے اس قوم کے ساتھ کیا ہے اور پٹھانوں کے ساتھ کیا ہے گھروں میں گھس کر ہماری عورتوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے عمران خان کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے عدت اور پیریڈز کے جو شرمناک کیسز بنائے ہیں یہ اب ایک سیاسی لڑائی نہیں رہی یہ ایک کلچرل لڑائی ہو گئی ہے یہ ایک عزت و آبرو کی لڑائی ہو گئی ہے یہ لمبی لڑائی ہو گئی ہے۔ وجاہت سعید خان
#PakistanUnderMartialLaw
#FascismUnderAsimLaw
#QasimKhanSuri
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
تم اگر کسی پوسٹ پر بیٹھے ہو تم سمجھتے ہو آج تم یزید کے حامی ہو جاؤ گے؟قیامت تک جب بھی یزید جیسا کوئی ائے گا تو حسینیت اسکے مقابلے میں کھڑی ہو گی۔
واہ قبلہ کیا کہنے آپکے۔۔۔
آرمی چیف سے علمائے کرام کی ملاقات کا احوال
آرمی چیف نے کہا اگر آپ کو ایران سے محبت ہے تو آپ ایران چلے جائیں۔ علامہ شفا نجفی
آرمی چیف کا بزرگ علما کی موجودگی میں لہجہ انتہائی سخت اور توہین آمیز تھا۔ علامہ شفا نجفی
عمران ریاض خان کے انکشافات 🛑
عمران خان نے عاصم منیر کو گیدڑ کہہ دیا!
ڈاکٹروں کی موجودگی میں عمران خان نے عاصم منیر کو للکارا ہے!!
مجھے کچھ لوگو نے بھی بتایا, عمران خان جیل میں بے باک گفتگو کرتا ہے!!
عاصم منیر کو للکارتا ہے, جس سے جرنیل خوفزدہ ہے!!
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
راولپنڈی کی سڑکوں پر عوام سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ
حکومت یہ اعلان کرے کہ عمران خان کو آنکھوں کی ضرورت ہے تو آپ کیا کریں گے؟؟
عوام کے جو جوابات سامنے آئے انہوں نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ عمران خان محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظریہ بن چکا ہے
ایک شخص نے کہا کہ میری 4 بیٹیاں اور 1 اہلیہ ہیں اگر عمران خان کو ان میں سے کسی کی آنکھ درکار ہو تو میں بلا تردد قربان کر دوں گا
ایک اور فرد نے کہا کہ اگر مجھے اپنی دونوں آنکھیں عمران خان کے لیے نثار کرنی پڑیں تو میں یہ کروں گا
جو لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ عمران خان کو عوام کے دلوں سے نکال دیں گے وہ یہ جان لیں کہ عوام نے عمران خان کو اپنے دلوں میں اس مقام پر فائز کر دیا ہے جہاں سے اسے جدا کرنا اب محال ہو چکا ہے
وجاہت خان کے تاریخی الفاظ!!
عمران خان شروع سے ہی دلیر نڈر لیڈر ہے, جب شوکت خانم میں دھماکہ ہؤا تو, عمران خان نے کہا میں مزید طاقت سے اس ہسپتال کو بناؤ گا!!
عمران خان تم لوگو سے جیت چکا ہے!!
تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی طاقت مخالفین کی نیندیں حرام کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ریاست کی بیانیہ بنانے کی طاقت اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے، ہر طرح کی کوشش کی باوجود عمران خان پاکستانی سیاست کا مرکزی خیال ہے، حبیب اکرم