شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران اور بشریٰ بیگم کو سزا سنائی، اور سرکار کی طرف سے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش ہوتے رہے۔ یعنی سزا سنانے والے اور سزا دلوانے والے دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بن گئے، کوئی رہ تو نہیں گیا؟ بشارت راجہ
@BasharatRaja786#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
صنم جاوید کی کڈنی میں شدید درد ہے
بجائے اس کے کہ ہسپتال شفٹ کیا جائے روزانہ تین تین انجیکشن لگائے جا رہے ہیں نہ وہ لیٹ سکتی ہے نہ بیٹھ سکتی ہے
جب سپرڈنٹ کو کہا کہ ہسپتال منتقل کریں تو وہ کہتا ہے اوپر سے آرڈر ہے اس کو جو بھی ہو جائے ہسپتال شفٹ نہیں کرنا
افسوس کتنا ظلم کرنا ہے اور ۔۔
فیر کہندے نیں اور سکھ نیں ۔ اگر وہ تم پر ہنس رہے ہیں تو ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ فرق ایک ہی ہے کہ وہ الیکشن جیت کر آیا ہے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہے ۔ ہماری والی پس پردہ قوتوں کے ملاپ اور انکی طاقت کے بل بوتے پر بے ایمانی سے برسر اقتدار آئی ہے ۔ ایسے میں عوام کی کس کو پرواہ
"آج کا دور جنرل مشرف دور سے کہیں زیادہ برا ہے۔
جنرل مشرف دور میں ایسی لاقانونیت کبھی نہیں تھی جیسی آج ہے۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نواز شریف اتنا کرپٹ آدمی نکلے گا" -
سابق ن لیگی سینیٹر ظفر علی شاہ
اگر شریف فیملی کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا، تو ڈیفنس تھانہ کے ایس ایچ او کس کے کہنے پر رات مجسٹریٹ کے گھر گیا اور اسکے گھر کا دروازہ توڑ کر کہا اظہر محمود(مجسٹریٹ) کدھر ہے نکالوں اسکو، جب وہ آئے تو تہکیر آمیز لہجے میں کہا DIG's تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اسد اللہ خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@AUKhanOfficial1
عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی ایک اور واضح دستاویز! فارم 45 اور فارم 47 کا ناقابلِ تردید تضاد موجودہ کٹھ پتلی راج کی آئینی حیثیت پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوام کے حقیقی فیصلے کو پسِ پشت ڈال کر رات کے اندھیرے میں مسلط کیے جانے والے حکمران کبھی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں لا سکتے۔
#نااہل_کرپٹ_غلام_حکومت
حیرت ہے نکاح اور عدت پر ہر روز گند اچھالنے والے آج خواتین کے اغوا تاوان زیادتی پر بالکل خاموش بلکہ گونگے بہرے اور اندھے ہوکر صفائیاں دے رہے ہیں، صابر شاکر
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@ARYSabirShakir
حدیث تو یہ بھی ہے
"تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا یا معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور یا غریب چوری کرتا تو اس پر حد (سزا) نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔"