عمران خان پہلے کہا میں آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لوں گا اس سے پاکستان کی معیشت کو آئی سی یو پہ لے آیا اس کے بعد ایسی ظالمانہ شرائط پہ قرض لیا کے پاکستان کی معیشت کبھی اپنے پیروں پہ کھڑی نہ ہوسکے پھر جاتے جاتے پروگرام بھی خراب کر گیا جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔
ان کمیٹی والوں کی کشمیر کیلئے کیا قربانی ہے جبکہ قربانی تو پاکستانی دے رہے ہیں چوٹیوں پر بیٹھ کر انہی کی حفاظت کررہے ہیں اور اصل جدوجہد تو مقبوضہ کشمیر کے لوگ کررہے ہیں جو پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑ کر سینے پر گولی کھارہے ہیں
ناظرین خواجہ آصف نے پوری بےامن کمیٹی کو تہہ کردیا ہے
تحریک انصاف ایک دہشتگرد جماعت ہے اور عمران خان پاکستان کا نظریاتی قتل کررہا ہے اور یہ ایک فتنہ ہے جو ماضی کے تمام فتنوں سے زیادہ زہریلا فتنہ ہے
اور ناظرین انجینئر لے دے گیا جے
پرچی دیکھ پڑھنے کا طعنہ دینے والے یوتھیو مر نہیں گئےتو آنکھیں کھولو۔
ترکی جاۓ تو ترک میں، سعودیہ جاۓتو عربی میں تقریر کرنے والے شہزادے وزیراعظم نے برگن سٹوک آمد پر وہاں موجود صحافیوں سے جرمن زبان میں بات کرکے سب کو حیران کردیا۔
فخر امت مسلمہ
وزیراعظم شہباز شریف
@Shamylaroy YMT
عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں شدت پسند ہجوم کے ھاتھوں مارے جانے والے جرنلزم کے طالبعلم مشال خان کی بہن صبا اقبال نے کینیڈا کی ٹورانٹو یونیورسٹی سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کر لی !
یہ کتّے چار دن سے مسلسل یوٹیوب پر بھونک رہے تھے کہ پاکستان کا امن معاہدے سے کوئی تعلق نہیں اور آج پوری دنیا پاکستان کو امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کرتے لائیو دیکھ رہی ہے
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف سے شکوہ کیا کہ حضرت! کیا وجہ ہے کہ اب مدرسے میں بچوں کا داخلہ کم ہو گیا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کے لیے پہلے کی طرح نہیں بھیج رہے؟ امام ابو یوسف نے خلیفہ کی بات سن کر مسکرا دیا اور فرمایا کہ آپ کے اس سوال کا جواب اگلے سال دوں گا۔
کچھ دن گزرے عید آ گئی۔ خلیفہ ہارون الرشید نمازِ عید کے لیے عیدگاہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مصلےسے امام صاحب غائب ہیں۔ خلیفہ کے انتظار اور بلاوے کے باوجود امام صاحب نہیں آئے۔ سورج بلند ھونے لگا، خلیفہ نے سختی سے لوگوں کو بھیجا تو لوگ آ کر کہنے لگے کہ انہوں نے شرط رکھی ہے کہ میں باہر تب آؤں گا، جب میری پالکی کے ایک کونے کو خود خلیفہ ہارون الرشید اپنے کندھے پر اٹھا کر لے جائے۔
ہارون الرشید ایک عالم دوست حکمران تھا، وزراء اور لوگوں کی حیرانگی اور منع کرنے کے باوجود شرط مان لی اور آگے بڑھ کر امام ابویوسف کی پالکی کا ایک کونا اپنے کندھے پر اٹھا کر بھرے ھوئے عید گاہ کیطرف چلنا شروع دیا۔ عیدگاہ میں پہلے ہی ہزاروں کا مجمہ تھا لیکن خلیفہ اور امام صاحب کے مطالبات کا سن کر مجمہ بیسیوں گنا بڑھ چکا تھا۔
جب پالکی عید گاہ پہنچی تو امام صاحب نے اسے رکوانے کا حکم دیا، وہ نیچے اترے اور ہارون الرشید کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ بادشاہ سلامت! یاد ہے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مدرسے میں بچوں کا داخلہ کیوں کم ہو گیا ہے؟ اب اپنے چاروں طرف اس ہجوم کو دیکھو۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ دین کا علم پڑھنے والے کی پالکی کو وقت کا بادشاہ کندھا دے رہا ہے، تو اگلے سال نہیں،کل صبح ہی دیکھنا کہ لوگ اپنے بچوں کو بازوؤں سے پکڑ پکڑ کر مدرسے لائیں گے تاکہ ان کے بچے بھی علمِ دین حاصل کر کے اس بلند مقام پر پہنچ سکیں۔
۔
پاکستان میں 2024، 25 اور 26 کے تین سالوں کے صدارتی ایوارڈز میں سے 73 ایوارڈز اداکاروں، فنکاروں، گلوکاروں، سوشل میڈیا انفلوانسرز اور فلمی ڈائریکٹرز کو، 10 ایوارڈز سائنٹسٹ اور ایجوکیشنسٹ کو اور 4 ایوارڈز مختلف مسالک کے علماء کو ملے۔
حکومتی ترجیحات فیصلہ کرتی ہیں کہ ملک چند سالوں میں کس پوزیشن پہ کھڑا ھو گا۔
اب ہمارا ملک کس سمت میں جا رہا ہے یا جائے گا اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
منقول
مرد کی ماں طوائف
ازقلم : ریحان انصاری
مولوی عبدالرحمن کی داڑھی میں سفیدی اتر آئی تھی۔
لوگ کہتے تھے، "بڑا نیک آدمی ہے۔"
اور لوگ اکثر جھوٹ نہیں بولتے، بس سچ کا آدھا حصہ بیان کرتے ہیں۔
شہر کے کنارے ایک گلی تھی، جس کا نام کوئی زبان پر نہیں لاتا تھا۔ وہاں سکینہ رہتی تھی۔
سکینہ طوائف تھی۔
یہ اس کا پیشہ تھا، اس کا شوق نہیں۔
اس کی ماں بھی طوائف تھی، اور نانی بھی۔
غربت بعض خاندانوں کا خاندانی شجرہ ہوتی ہے۔
ہر رات مولوی عبدالرحمن اسی گلی میں آتا۔
اپنی سفید پگڑی اتار کر بغل میں دباتا اور سکینہ کے کمرے میں داخل ہو جاتا۔
وہاں نہ وعظ ہوتا، نہ تقویٰ کی باتیں۔
وہ صرف ایک عام آدمی رہ جاتا تھا۔
بہت عام۔
اتنا عام کہ اپنی تمام نصیحتیں دروازے کے باہر اتار دیتا تھا۔
ایک رات سکینہ نے پوچھا:
"مولوی صاحب، دن میں آپ مجھے جہنم کا ایندھن کہتے ہیں اور رات کو میرے پاس آ جاتے ہیں۔ آخر میں ہوں کیا؟"
مولوی عبدالرحمن نے سگریٹ کا کش لیا۔
کافی دیر خاموش رہا۔
پھر بولا:
"تم عورت ہو۔"
سکینہ ہنس پڑی۔
"اور آپ؟"
مولوی صاحب کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
کچھ سوال کتابوں میں نہیں ملتے۔
اگلے دن مسجد میں مولوی عبدالرحمن کا بیان تھا۔
وہ منبر پر کھڑا چیخ رہا تھا:
"معاشرے کی برائیاں ختم کرو۔ فحاشی ختم کرو۔ طوائفوں کا خاتمہ کرو۔"
لوگ سر ہلا رہے تھے۔
سب سے زیادہ زور سے مولوی صاحب خود سر ہلا رہے تھے۔
اسی وقت مسجد کے دروازے پر سکینہ نمودار ہوئی۔
اس نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔
بس مولوی عبدالرحمن کو دیکھا۔
ایسے دیکھا جیسے قصائی اپنی ہی چھری کو دیکھتا ہے۔
مولوی صاحب کی آواز لڑکھڑا گئی۔
پیشانی پر پسینہ آگیا۔
سکینہ مسکرائی۔
وہ جانتی تھی کہ اس شہر میں سب سے بڑی بدکاری اس کے کمرے میں نہیں، لوگوں کے ضمیر میں رہتی ہے۔
وہ خاموشی سے پلٹی اور چلی گئی۔
مسجد میں وعظ جاری رہا۔
گلی میں رات بھی آتی رہی۔
اور شہر کے شریف لوگ بدستور شرافت کے قصے سناتے رہے۔
💥اس نے الماری سے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈالے تو اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ اپنا باپ نہیں، اپنی عمر بھر کی کمائی کو گھر سے بے دخل کر رہا ہے۔🥹💔
جون 2024 کی ایک حبس زدہ، سرمئی شام تھی۔
راولپنڈی کے اس پرانے مکان کی دیواریں،
اپنی اداسی میں کچھ ایسے راز چھپائے ہوئے تھیں جنہیں باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا تھا۔
عبدالرحمن، ستر سالہ ریٹائرڈ کلرک،
اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا اپنی ذات کے گہرے کنویں میں اتر چکا تھا۔
دوسرے کمرے سے ولید اور نمرہ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
یہ آوازیں نہیں، گھر کا معمول تھا جو اب زہر بن چکا تھا۔
نمرہ کی تلخ اور چبھتی ہوئی آواز فضا میں تیر رہی تھی:
"میں کب تک اس بوڑھے آدمی کا بوجھ ڈھوتی رہوں گی ولید؟"
ولید کا جواب دھیما تھا، مگر اس میں ایسی تھکاوٹ تھی
جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اگلی صبح کا منظر، کسی پرانی فلم کے دھندلے فریم جیسا تھا۔
ولید کا ہاتھ الماری کے ہینڈل پر تھا، جیسے وہ اپنی کسی پرانی غلطی کو سمیٹ رہا ہو۔
عبدالرحمن چوکھٹ پر ساکت کھڑا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نہ شکوہ تھا، نہ ہی کوئی شکایت۔
شاید وہ سمجھ چکا تھا کہ محبت کا ایک موسم ہوتا ہے،
اور وہ موسم کب کا گزر چکا تھا۔
ولید نے نظریں چرا کر کہا:
"ابو، نمرہ ٹھیک کہتی ہے۔ یہاں جگہ کم ہے۔"
"آپ کچھ دن اپنی بہن کے ہاں چلے جائیں۔"
عبدالرحمن نے کوئی دلیل نہیں دی۔
محض گردن ہلائی۔
وہ "ٹھیک ہے" اس کے حلق سے ایسے نکلا،
جیسے کوئی سوکھی لکڑی ٹوٹتی ہے۔
اس نے اپنا چھوٹا سا بیگ اٹھایا،
اور گھر کی دہلیز پار کر گیا۔
جس لمحے بھاری دروازہ بند ہوا،
گھر میں ایک مصنوعی آزادی کا احساس لہرایا۔
دو سال گزر گئے۔
یہ وقت نہیں، ایک طویل، ٹھہرا ہوا تعطل تھا۔
گھر کی دیواریں تو وہی رہیں،
مگر اندر کا رنگ ماند پڑ گیا۔
نمرہ کی شکایتیں اب بوڑھے کے بجائے،
زندگی کے بے معنی پن پر مرکوز تھیں۔
خاموشی اب اس گھر کی روح بن چکی تھی۔
پھر ایک رات، ہسپتال سے فون آیا۔
عبدالرحمن کی حالت نازک تھی۔
ولید جب ہسپتال پہنچا،
تو بوڑھا بستر پر موت کے دہانے پر تھا۔
عبدالرحمن نے اپنی ماند پڑتی آنکھیں کھولیں،
اس کی مسکراہٹ میں برسوں کی تنہائی کی تلخی تھی۔
"بیٹا،" اس نے پھسپھسایا،
"تم نے گھر تو خالی کر لیا..."
"...مگر اپنی ذات کا خالی پن کیسے بھرو گے؟"
ولید کے آنسو ہاتھ پر گرے،
مگر عبدالرحمن خاموش ہو چکا تھا۔
وہ چلا گیا۔ کوئی بڑا منظر نہیں،
صرف ایک ایسا خلا جو گھر کی دیواروں میں گونجتا رہا۔
گھر واپس آ کر ولید نے باپ کی الماری کھولی،
تو ایک پرانا ڈبہ ہاتھ لگا۔
اندر کاغذات نہیں، خطوط تھے۔
وہ خطوط جو باپ نے اسی کے نام لکھے تھے، مگر کبھی بھیجے نہیں تھے۔
ہر خط میں صرف دعائیں تھیں،
وہ محبت جو لفظوں کی محتاج نہیں تھی۔
ولید نے پہلا خط پڑھا، پھر دوسرا،
تو اسے احساس ہوا کہ وہ جسے بوجھ سمجھتا تھا، وہ دراصل اس کی بنیاد تھی۔
اس رات ولید کے کمرے میں روشنی جل رہی تھی،
مگر وہ اجالا نہیں، ایک اعتراف تھا۔
دروازے کے پیچھے وہ خاموشی اب کان پڑنے نہیں دیتی تھی،
وہ چیخ کر ایک سچ دہرا رہی تھی:
"کچھ رشتے مکان سے نہیں جاتے، وہ ہمارے وجود سے رخصت ہوتے ہیں،"
"اور پیچھے صرف ایسی ویرانی چھوڑ جاتے ہیں،"
"جسے ساری زندگی کبھی آباد نہیں کیا جا سکتا۔"
@miandawoodadv@professor_Hasan ایسے لگتا ہے کہ ہر گلی اور ہر مکان پر ٹاور لگنے جا رہے ہیں۔میاں صاحب آپ توسمجھدار ہو
ایسے ٹاور کسی شہر یا علاقے میں ایک آدھ ہی لگتے ہیں وہ بھی PTA کی منظوری اور مالک کی رضامندی سے
ٹاور لگانے والے لاکھوں روپےکرایہ دیتےہیں۔
پہلا ٹاور میرے گھر لگوا دیں ایک ماہ کا کرایہ آپ کا ہو گا