1798 میں اردو کا جنم ہوا اور پہلی مرتنہ قران کا ترجمہ اردو میں ہوا جس پر ملاؤں نے کفر کا فتوہ جاری کر دیا مگر پھر اسی زبان کو سرف پچاس سال بعد ٹوپی پہنا کر داڑھی لگا کر مسلمان بنا دیا گیا
https://t.co/B0JNnt3tBZ
@Adljaferi زبان ہندوؤں کی چرائ ، لباس ہندوؤں والا ، کلچر بھی وہی ، شادی بیاہ کی رسمیں بھی ہندوؤں کی ، سوچ بھی وہی - پھر کہتے اوروں کو ہندوں کا غلام ہیں وہ لوگ جن کی اصل کا پتا نہ نسل کا
دیکھو تو کون دوسروں کو نسل پرست کہ رہا ہے جن کی بنیاد ہی نسل پرستی پر ہے - 78 سالا ہسٹری کو کیسے جھٹلاؤ گے جو جھوٹے کلیموں سے کی لوٹ مار سے شروع ہو کر ، بوری بند لاشوں، ڈرل مشین سے جسموں مے سوراخ، آنکھوں اور کانوں میں ایلفی اور ان سے بھی کئ گنا زیادہ ہیبتناک داستانوں سے گزر کر ابھی تک ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی
حکایاتِ رومی ۔ مولانا جلال الدین رومی
حضرت عیسی علیه السلام تیز قدم اٹھاتے ہوۓ ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ایک آدمی نے بلند آواز سے پکار کر کہا ’’اے خدا کے رسول علیه السلام! آپ اس وقت کہاں تشریف لے جارہے ہیں ۔ وجہ خوف کیا ہے؟ آپ علیه السلام کے پیچھے کوئی دشمن تو نظر نہیں آتا ۔حضرت عیسی علیه السلام نے فرمایا : میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں تو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال “ اس آدمی نے کہا:''یا حضرت آپ کیا وہ علیه السلام نہیں ہیں؟ جن کی برکت سے اندھا اور بہرا شفایاب ہو جا تا ہے ۔ آپ علیه السلام نے فرمایا ہاں ۔اس آدمی نے کہا، کیا آپ علیه السلام وہ بادشاہ نہیں ہیں جومر دے پر کلام الہی پڑھتے ہیں اور وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔‘‘ آپ علیه السلام نے فرمایا: ہاں ۔اس آدمی نے کہا: کیا آپ علیه السلام وہ ہی نہیں ہیں کہ مٹی کے پرندے بنا کر ان پر دم کر دیں تو وہ اس وقت ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ۔‘‘آپ علیه السلام نے فرمایا: بے شک میں وہی ہوں ۔‘‘پھر اس شخص نے حیرانگی سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے آپ علیه السلام کو اس قدر قوت عطا کر رکھی ہے تو پھر آپ علیه السلام کو کس کا خوف ہے ۔“ حضرت عیسی علیالسلام نے فرمایا: ’اس رب العزت کی قسم کہ جس کے اسم اعظم کو میں نے اندھوں اور بہروں پر پڑھا تو وہ شفایاب ہو گئے پہاڑوں پر پڑھا وہ ہٹ گئے ۔ مردوں پر پڑھاوہ جی اٹھے۔ لیکن وہی اسم اعظم میں نے ان پر لاکھوں بار پڑھا لیکن اس پرکچھ اثر نہ ہوا۔‘‘ اس شخص نے پوچھا : یا حضرت علیه السلام یہ کیا ہے کہ اسم اعظم اندھوں ، بہروں اور مردوں پر تو اثر کرے لیکن احمق پر کوئی اثر نہیں کرتا۔ حالانکہ حماقت بھی ایک مرض ہے ۔ حضرت عیسی علاسلام نے جواب دیا: ’حماقت کی بیماری خدائی قہر ہے ۔‘‘
درس حیات: بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔
اس عبارت کا PTI سے کوئ تعلق نہیں