‼️سرکاری ہسپتالوں کے ہوتے ہوئے نجی ہسپتالوں کو بخشنے کے لیے صحت کارڈ کا استعمال کیوں؟؟ ‼️
🚨اگر غرض غریب کو مفت علاج کی تھی تو وہ سرکاری ہسپتالوں کو بہت کم رقم میں اچھا کر کے بھی کی جا سکتی تھی۔ اصل وجہ منظر عام پر
🚨دجالی ٹولے نے کرپشن کے لیے ایسا انوکھا طریقہ نکالا کہ شیطان بھی حیران۔ اس ایک طریق سے ان کی جیبیں بھی بھریں اور ووٹ بینک بھی۔
🚨جب بھی غریب بندہ علاج کے لیے آیا اس کو اپنڈیکس اور دل کے مرض سے ڈرایا گیا، پھر اس کو لاکھوں کا خرچہ بتایا گیا، جب وہ مجبور پیسوں کا سن کر بے ہوش ہوا تو اس کو صحت کارڈ کا لولی پاپ دیا گیا۔ جس مریض کو ��ہ سٹنٹ کی ضرورت تھی نہ اپنڈیکس کے علاج کی، ان کے جھانسے میں وہ معصوم سمجھا کہ صحت کارڈ نہ ہوتا تو وہ مر جاتا۔
🚨اب صحت کارڈ پہ آتے ہیں۔ صرف اپر دیر کے ایک نجی ہسپتال اخلاص میڈیکل سنٹر جس کا مالک سرکاری ڈاکٹر سمیع اللہ ہے، اس میں ایک سال میں 2602 آپریشن کیے گئے جن میں صرف 1826 اپنڈیکس کے ہیں۔ 773 تو صرف سمیع اللہ نے خود کیے۔ تحقیقات کے مطابق ایک ہی خاندان کے دو سے تین لوگوں کا اپنڈیکس کا آپریشن ہوا۔ ستم ظریفی وہاں سرکاری ہسپتال موجود ہے جس کے ایم ایس ہونے کی تنخواہ یہ سمیع اللہ کھا رہا ہے پر اس نے اس کو صحت کارڈ پینل میں شامل نہیں ہونے دیا۔
🚨اب سمجھ آئی کہ کیوں گنڈا پور نے حلف لیتے ہی 7 ارب روپے کی رقم صحت کارڈ کے لیے کیوں مختص کی۔ دوسرا یہ جو امریکن ڈاکٹر کی تنظیم کو عمرانی محبت کا جوش چڑھا اس کی اصل وجہ کیا ہے۔
ایسی شیطانی سوچ ان دجال کے انٹرنیز کو ہی آ سکتی ہے کہ پیسے بھی بٹورے اور غریب کو بے وقوف بھی بنایا۔
چند منٹ نکال کر اپنے اور نوجوانوں کے ایمان کو بچانے کی خاطر اس فتنہ حاضرہ کا ضرور مطالعہ کریں۔۔۔
*جاوید احمد غامدی کی پوری حقیت*
*جاوید احمد غامدی* اصلی نام: *”شفيق احمد“*
1951ء میں پنجاب کے ایک ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ ایک مقامی اسکول سے میٹرک پاس کرنے کے بعد وہ 1967ء میں لاہور آگیا۔
اس نے مختلف اساتذہ سے اپنی ابتدائی زندگی میں روایتی انداز میں اسلامی علوم پڑھے۔
1973ء میں یہ امین احسن صاحب اصلاحی صاحب کی شاگردی میں آگیا جنھو�� نے اس کی زندگی پر گہرا اثرڈالا۔
دس سال سے زیادہ (1979ء تا 1991ء) عرصے تک سول سروسز اکیڈمی لاہور میں بطور عربی ٹیچر کے ملازمت ک��تا رھا، نائن الیون کے واقعے کے بعد جب امریکن سی آئی اے اپنے وزیر دفاع ریمزے فیلڈ کی ھدایت پر پاکستان میں کوئی ایسا شخص ڈھونڈ رھی تھی جو پاکستانی عوام کو اسلام کے امریکن ایڈیشن کی تعلیم دے سکے تو قرعہ فال جاوید احمد غامدی جو اس وقت شفیق احمد تھا کے نام نکلا اور یہ پوری تندھی سے امریکن اسلام کی تبلیغ میں جت گیا_
*جاوید احمد غامدی* دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک *عظیم* *فتنہ* ہے خصوصی طور پر ہمارا بنیادی دینی تعلیم سے محروم نوجوان ، دنیاوی تعلیم یافتہ ، اردو دان طبقہ کافی حد تک اس فتنہ کی لپیٹ میں آچکا ہے۔
فی زمانہ غامدی فکر ایک مکمل مذہب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
یہ دور حاضر کاایک ایسا تجدد پسند گروہ ہے۔
جس نے اپنے امریکی آقاؤں کی ھدایت پر دین اسلام کا امریکن ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم تک بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔
یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ بھیڑ کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے یا جیسے رنگین خوشنما کیپسول میں زہر بھر کے بیچ رھا ھے
ان میں سے ایک سلسلہ عبداﷲ چکڑالوی اور شیخ اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا چوھدری غلام احمد پرویز بٹالوی (معروف منکرِ حدیث) تک پہنچتا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے عزائم اور فاسد نظریات کی ترویج میں احادیث کو رکاوٹ گردانا ، انہوں نے حجیت حدیث کا انکارکیا جبکہ قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ
وما اٰتٰکم الرسول فاخذوہ ومانہٰکم عنہ فانتھوا (اعشر آیت 59، ع 7)
ترجمہ: رسول جو کچھ تمہیں دیں، اس کو لے لو، اور جس چیز سے روکیں اس سے باز رہو۔
غامدی نہ صرف منکر ِحدیث ہے بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کا علمبردار ہے ۔
یہ شخص اپنی چرب زبانی کے ذریعے اس فتنے کو خوب پھیلا رہا ہے اور اس مقصد کے لیئے امرہکی ایجنسی سی آئی اے کی مدد سے اُس کو پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی پوری توجہ و سرپرستی بھی حاصل ہے۔
غامدی کے منکر ِحدیث ہونے کے کئی وجوہات ہیں ۔
وہ اپنے من گھڑت اُصولِ حدیث رکھتا ہے ۔
حدیث و سنت کی اصطلاحات کی معنوی تحریف کرتا ہے اور ہزاروں اَحادیث ِصحیحہ کی حجیت کا انکار کرتا ہے آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ وہ صحیح حدیثِ رسول ﷺ کو بھی دین اسلام میں دلیل تسلیم نہیں کرتا
"جاوید احمد غامدی کے چند معروف عقائد ذیل میں اسی کی کتابوں کے حوالہ جات کے ساتھ درج ھیں تا کہ آپ کو اس فتنہ کی حقیقت جاننے میں آسانی ھو”
…. عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔
[میزان، علامات قیامت، ص:178،طبع 2014]
….
قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا۔
[میزان، علامات قیامت، ص:177،طبع مئی2014]
….
(مرزا غلام احمد قادیانی) غلام احمد پرویز سمیت کوئی بھی کافر نہیں، کسی بھی امتی کو کسی کی تکفیر کا حق نہیں ہے۔ [اشراق،اکتوبر2008،ص:67]
….
حدیث سے دین میں کسی عمل یا عقیدے کا اضافہ بالکل نہیں ہوسکتا۔[میزان، ص:15]
…
.سنتوں کی کل تعداد صرف 27 ہے۔[میزان،ص:14]
….ڈاڑھی سنت اور دین کا حصہ نہیں ۔
[مقامات، ص:138،طبع نومبر2008]
….مرتد کی شرعی سزا نبی کریم ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھی۔ [اشراق، اگست2008،ص:95]
…. رجم اور شراب نوشی کی شرعی سزا حد نہیں۔[برہان،ص:35 تا 146،طبع فروری 2009]
…. اسلام میں ”فساد فی الارض“ اور ”قتل نفس“کے علاوہ کسی بھی جرم کی سزا قتل نہیں ہوسکتی.
۔[برہان، ص:146،طبع فروری 2009]
….قرآن پاک کی صرف ایک قرآت ہے، باقی قراءتیں عجم کا فتنہ ہیں۔[میزان،ص:32،طبع اپریل2002..
….ہرآدمی کو اجتہادکاحق ہے۔ اجتہاد کی اہلیت کی کوئی شرائط متعین نہیں، جو سمجھے کہ اسے تفقہ فی الدین حاصل ہے وہ اجتہاد کرسکتا ہے۔
[سوال وجواب،ہٹس 612،تاریخ اشاعت:10 مارچ 2009]
….نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بعد غلبہ دین کی خاطر (اقدامی)جہاد ہمیشہ کے لیے ختم ہے۔ [اشراق، اپریل2011، ص:2]
….تصوف عالم گیر ضلالت اور اسلام سے متوازن ایک الگ دین ہے۔ [برہان، ص:181، طبع 2009]
….مسلم وغیر مسلم اور مردوعورت کی گواہی میں فرق نہیں ہے۔ [برہان، ص:25 تا 34،طبع فروی 2009]
…. زکوٰة کے نصاب میں ریاست کو تبدیلی کا حق حاصل ہے۔ [اشراق، جون 2008، ص:70]
1/2
عمران خان اگر آج مرزا قادیانی کی طرح پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر دے تو پی ٹی آئ والے مان لیں گے ایسی اُسکی فالونگ ہے
اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ تحریکِ انصاف کے سپورٹرز کو طنز کر رہا ہے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں ایک پلاننگ کے تحت اس نے یوتھیوں کا ذہن بنایا ہے
#گندی_زبان_اوریا_مقبول_جان
المیہ یہ ہے کہ آپکا مقابلہ اس مخلوق سے ہے جو اپنی مما کا ویاہ عمران سے کرانا چاہتی ہے اور پاپا کو اس ویاہ پر کوئی اعتراض نہیں لہذا اگر عمران بقلم خود یہ کہے کہ میں نے دوران عدت زنا کیا گھڑی چوری کی توشہ خانہ چرلو پھیرا ٹھیکیدار سے مل کر کھمنٹو کمائے سائفر کو پبلک کیا لیبری ڈور اور مُراد سعید کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا تو پھر بھی یہ زومبیز عمران کو فرشتہ ہی سمجھیں گے
مسلم لیگ ن کی MPA ثوبیہ شاہد کو KP اسمبلی میں حرامی عمرانڈو ارکان اسمبلی رات گزارنے کے عوض 20 سے 50 لاکھ آفر کر کے اس کی عزت کی بولی لگا رہے ہیں۔
حافظ عاصم منیر صاحب؟
جنرل ندیم انجم صاحب؟
میاں نواز شریف،شہب��ز شریف صاحب؟
اگر یہ الفاظ کوئی آپ کی فیملی بارے کہتا تو آپ کیا کرتے؟
بس ہو گئی ہماری۔۔۔یہ دیکھ کر
اس عورت کی بے بسی دیکھیں۔۔۔
لعنت ہے ان سمیت ان پشتونوں پر جنہوں نے ووٹ دیا اور جو اس کو دیکھ کر چپ رہیں۔
پٹھانوں کی عزت ختم ہو گئی آج سے ہ��اری نظر میں۔
(اسد آر چوہدری)
لوگوں نے ہمیشہ مولوی پہ تنقید کی ہے لیکن مولوی نے بدلے میں معاشرے کی اپنی استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ ان سے ملیے یہ مفتی طلحہ عتیق الراعی ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الفطر کے موق�� پہ ایک ہزار سے زائد یتیم بچے بچیوں کے چہروں پہ مسکراہٹیں بکھیرنے کیلیے کام میں جتے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں عید سے قبل ادارۃ الحرمین اتحاد ٹاؤن کراچی میں ایک منفرد بازار سجایا جاتا ہے جہاں بچوں سے متعلقہ ہر چیز رکھی جاتی ہے اور یتیم بچوں سے کہا جاتا ہے کہ جو انکا دل کرے یہاں سے لے سکتے ہیں، اسی طرح جیسے اپنے باپ سے فرمائش کر کے لیتے تھے۔ ساتھ لفافے میں بچوں کو انکی عمر کے لحاظ سے نقد عیدی بھی تھمائی جاتی ہے۔ایسے درجنوں بلکہ سینکڑوں علماء معاشرے میں ہمارے آس پاس موجود ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ صرف ڈھونڈ ڈھونڈ کے منفیت پہ مبنی چیزیں پھیلا کر علماء و دین سے لوگوں کو بدظن ��رنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے علماء کو پروموٹ کرنا ہم پہ لازم ہے۔
مفتی صاحب کا ٹویٹر اکاؤنٹ @muftitalhaatiq
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے اجازت دینے کا فیصلہ شریعت ،آئین اور قانون کے خلاف ہے،جس کو ہم علی الاعلان مسترد کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ مغرب کی خواہشات پر کیا گیا ہے،فیصلے میں پیش کئے گئے قرآن کریم کے حوالے غلط اور بددیانتی پر مبنی ہیں،جو ان کے شان نزول اور پس منظر سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے،آئمہ اور خطباء اپنے خطبوں میں اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں۔
جمعیت علماء اسلام نے قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے اور اس کے خلاف فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک سو اسی نشستوں کے جعلی فارم پنتالیس تیار تھے، یہی کچھ قیادت کو بتایا گیا تھا، اسی لئے علیمہ باجی اور گوہر نے اتنی نشستوں کے جیتنے کا دعویٰ کیا۔ میڈیا سے بھی یہی بیانیہ سپورٹ کیا گیا۔ لیکن شاہ بانو کے پکڑے جانے والے جعلی فارمز نے کام خراب کردیا۔
🤔
میں اپنے قائدمحترم حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی آنے والی تحریک کو سوشل میڈیا اور زندگی کے ہر پلیٹ فام پہ مکمل سپورٹ کرنے کا اعلان کرتا ہوں.
#ایوان_نہیں_میدان
سرخ دائرے میں شخص چکو جہانگیر ہے جو عمران کے بچپن کا دوست اور مسجد نبوی کی توہین کے لئے سپیشل لندن سے بھیجا گیا تھا- اس کی ویڈیوز موجود ہیں - اور جونہی وہ ویڈیوز سعودی حکومت کو ٹیگ ہوئیں یہ اسی رات واپس لندن نکل گیا- طارق جمیل صاحب ٹویٹر کا استعمال کرتے ہیں اور سارے ثبوت دیکھ چکے ہونگے- تو کیا وجہ بن سکتی ہے کہ مولانا انہی کے پاس فنڈز ریزنگ کرنے مانچسٹر گیا؟ ساتھ میں بیٹھا انیل مسرت ہے جو عمران کے لوٹ مار کا فرنٹ میں تھا- ویسے مولانا صاحب تو پنجاب کی سب سے کرپٹ عورت عمران اور پنکی کی فرنٹ مین فرح گوگی کے بھی مداح ہیں اور ہاں عدالت میں ثابت شدہ عدت میں نکاح والے عورتوں کو پاکستانی مسلمان عورتوں کے لئے نمونہ بنا کے پیش کیا؟ سوچیئے !! سچ جاننے کے لئے ذہن کا استعمال ضروری ہے- اک عام انسان نام کے ساتھ صرف مولانا لکھنے سے ہم سچ پہ خاموش نہیں بیٹھ سکتے -