@soulat_pasha اس طرح وہ مضبوط ہو جائے تھے۔ دھاتی برتنوں کے مقابلے میں سستے پڑتے تھے۔
اس کی مثال آج سے پچاس سال پہلے آپ نے فقیروں کے پاس کشکول کی صورت میں دیکھی ہوگی۔
@soulat_pasha تیل کو عام زبان میں تارکول کہا جاتا تھا امریکنوں نے اسی تارکول کو ریفائن کر کے پیٹرول ڈیزل اور کیروسین کا نام دیا باقی جو کچرا بچا اسے تارکول اور ڈامر کا نام دیا۔
صحابہ کے دور میں اکثر برتن کدو کے جھلکوں سے بنتے تھے پھر ان پر تارکول سے لیپ کر لیتے +++
مذہب نے عربوں کو بتایا کہ اوپر دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، 72 حوریں ہیں، عیش ہی عیش ہے مگر سب کچھ مرنے کے بعد ملے گا۔
پھر انگریز آئے اور بتایا کہ نیچے تیل ہی تیل ہے۔ اسے نکالو بیچو اور اتنا کما لو کہ دنیا میں ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دو اور 72 کیا، 7200 حوریں بھی خرید لو۔
عربوں نے دوسرے آپشن کو چن لیا۔ 😻
اور ہم نے پہلا چن لیا۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ 😎
واجد احساس
مارکیٹنگ کے الفاظ کا جادو
ادھر ارینج میرج میں جب ہم لڑکی دیکھنے جاتے ہیں تو ایک سوال تو فکس ہی ہوتا ہے:
"لڑکا کیا کرتا ہے؟" 😉
بھورا کے گھر والے اس کے لیے لڑکی دیکھنے گئے۔ ڈرائنگ روم میں چائے ناشتہ اور ادھر ادھر کی باتیں ختم ہونے کے بعد لڑکی کے والد نے آہستہ سے اصلی موضوع
امریکہ میں حرامی بیٹی پیدا کرکے ولدیت سے مُکر جانے والے کو مدر فگر کہتے ہیں ، سعودیہ میں یہی عمل کرنے والے کو ولد الحرام کہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایسے زانی کو “ امت مسیلمہ کا لیڈر “ کہا جاتا ہے جس کے آپ پیروکار ہیں
یار سہیل آفریدی, سب کو اپنی پھٹی ہوئی دکھانے کے بجائے تم لاہور میں اپنے تیرہ منٹ کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرواؤ- پھر دیکھنا سب کیسے سیدھے ہوتے ہیں 😂😂
@SohailAfridiISF
کل شاید عمران اسماعیل صاحب بھی قالین پر تنقید کررہے تھے، تنقید ضرور بنتی ہے پر ایسے حکمران اشرافیہ جو خود یہی سب کرتے رہے وہ منافق ہی لگتے ہین۔
خان دور،تھر کی غربت کا ذاتی طور پر مشاہدہ کرنے کے لیے گورنر سندھ 50 plus گاڑیوں کے قافلے میں، ریڈ کارپٹ استقبال،شہر بھی بند کروایا گیا
آج سے سو برس بعد جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا، مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بے رحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوگا۔ سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بے رحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا، کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم حجاج کی طرح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے….. کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا!
منقول
" مذاہب کی تجارت جاہل معاشروں میں عروج پر ہوتی ہے۔ مذھبی علماء کو ھم لوگ دراصل اپنی جہل اور بےعلمی کی وجہ سے بڑے عالم سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ فکری اور علمی لحاظ سے بالکل معمولی افراد ھوا کرتے ہیں۔۔۔"
~ ابن رشد، بارہویں صدی کے عظیم اندلسی ریشنل مفکر ، قانون دان، سکالر
سونے کی غیر قانونی کان کنی پر جب صوبائی حکومت نے کارروائی کرنے سے کامل انکار کردیا تو وفاق نے کارروائی کی تو کوہاٹ میں دھماکہ ہو گیا۔
جب کسٹمز نے وزیرستان سے سمگلنگ کے خلاف میں کارروائی کرنے کی کوشش کی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر دھماکہ ہو گیا۔
یہ معاشی نہیں بلکہ بدمعاشی مفادات کا مسئلہ ہے مائی ڈیر
قدیم یونانی فلسفی افلاطون Plato نے اپنی معروف کتاب Republic میں عورت اور مرد کی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک اہم بحث کی۔ سقراط کے مکالمے کے ذریعے افلاطون یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر کسی عورت میں نگہبانی، حکمرانی یا کسی دوسرے کام کی صلاحیت موجود ہو تو صرف عورت ہونے کی بنیاد پر اسے اس کام سے کیوں روکا جائے؟ افلاطون کے نزدیک اصل سوال جنس نہیں بلکہ صلاحیت اور فطرت ہے!!!
Mary Wollstonecraft
نے عورت کی آزادی
پر اپنی کتاب
A Vindication of the Rights of Woman
میں وہ عورت کو محض کمزور، جذباتی یا مرد کی تابع مخلوق سمجھنے کے تصور کو چیلنج کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کو بھی ایک عقلی اور ذمہ دار انسان سمجھا جانا چاہیے۔ عورت کو تعلیم اور عقل کی نشوونما سے محروم رکھ کر پھر اسی محرومی کو اس کی کمزوری کا ثبوت بنانا ایک فکری ناانصافی ہے۔
Ahmed Ayaz Ghanchi
بیٹیوں کو عزت دینے کا رواج پی ٹی آئی میں کہاں، وہ تو اپنی بیٹیاں ہی تسلیم ہی نہیں کرتے، بہنوں اور ماؤں کے کرش جلسوں میں بتاتے ہیں کہ ابے کو بھی اعتراض نہیں ہوگا، وہ کیا جانیں کہ پاکستان میں بیٹی کی عمر جیسی عورت سے کیسے ملا جاتا ہے