سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے
لُٹا اے چشمِ تر گوھر مدینہ آنے والا ہے🥺
الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاک طیبہ میں
الٰہی کر نثارِ در مدینہ آنے والا ہے😔😔
غبارِ راہِ انور کس قدر پرنور ہے اخترؔ
تنی ہے نور کی چادر مدینہ آنے والا ہے✨️❤️
#مدینہ
क्या बदकिस्मती है उस बाप की…
जिस बेटी को उसने सीने से लगाकर प्यार से पाला, आज उसी की तलाश में दर-दर भटकता फिर रहा था। उसे खबर मिली कि उसकी बेटी अदालत में शादी करने आ सकती है, इसलिए उम्मीद के सहारे वह मुजफ्फरनगर अदालत तक जा पहुंचा। लेकिन किस्मत को कुछ और ही मंजूर था। वहां उसे
अपनी बेटी की एक झलक तक नसीब नहीं हुई बल्कि लोगों ने उसे जेबकतरा समझ लिया। बिना सच जाने उसे भीड़ ने घेर लिया, मारपीट की और बेइज़्ज़ती का बोझ उसके सिर पर डाल दिया।
एक पिता के लिए औलाद से बिछड़ने का दर्द ही कम नहीं होता, और उस पर झूठा इल्ज़ाम लगना, अपमान सहना, यह पीड़ा और भी गहरी
ہم اس سے پہلے اسی سے ملتی جلتی ایک راویت کا تحقیقی جائزہ مع حوالہ جات پیشِ کر چکے ہیں آپ اگر یہ تحقیقی جائزہ پڑھنا چاہتے ہیں تو لنک یہ ہے
https://t.co/AGCSPc8qsj
https://t.co/4rmPyh9Jvz
آج ہم اس پوسٹر کا تحقیقی جائزہ پیش کریں گے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس پوسٹر میں روایت کی سند نہیں ہے کتاب کا نام عقد الفرید ہے اور پوسٹر کا عنوان بنایا گیا ہے
" معاویہ کا مولا علی پر لعنت اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا خط "
عموماً روافض کی فکر کو تقویت دینے والا طبقہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت کو مشتبہ بنانے کیلئے ایسی ہی بلا سند نہ قابل اعتبار حوالہ جات کا سہارا لیتے ہیں اور درحقیقت یہ ایک فکری یلغار کا ہی حصہ ہوتی ہیں
ہم انشاء اللہ اس کتاب عقد الفرید کی حقیقت کو ہی بے نقاب کر کے اس بے اصل بلا سند غیر ثابت قول کی حقیقت واضح کریں گے
عقد الفرید کے مصنف کا نام احمد بن محمد عبد ربہ ہے پہلے ہم اسکا علمی مقام پیش کرتے ہیں پھر اس کے مسلک پر گفتگو کریں گے
التعریف بلكتاب و مولفہ بقلم سعید العریان لکھتے ہیں کہ
"ابن عبد ربہ کی تاریخ معلوم نہیں ہو سکی صرف اتنا پتہ چلا ہے کہ وہ جوانی میں لہو و لعب کا شوقین اور گانے بجانے کا شائق تھا ۔۔۔ مورخین نے ابن عبد ربہ کے بارے میں ہمارے لئے کوئی تاریخی مواد نہیں ذکر کیا جو اسکی اچھی عادات اور صفات پر دلالت کرتا ہو ہاں اس قدر موجود ہے کہ جوانی میں اسکے بارے میں لہو و لعب کی بہت سی باتیں مذکور ہیں "
مندرجہ بالا عبارت میں ابن عبد ربہ کو ایک مجہول شخص قرار دیا گیا ہے اور اس کی زندگی کے بارے میں جو کچھ احوال ملتے ہیں تو وہ بلکل اس پر اعتبار نہ کرنے والے ہیں آپ نے مصنف عقد الفرید کے عادات و اطوار اور علمی مقام پڑھ لیا اب آئیں اسکے مسلک و مشرب جانتے ہیں
آقائے بزرگ طہرانی نے شیعہ علماء کی تصانیف کے تعارف کے حوالے سے" الذریعہ الی تصانیف الشیعہ " تحریر کی اس کتاب میں آقائے بزرگ طہرانی عقد الفرید کے مصنف ابن عبد ربہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
" ابو عمر احمد بن المعروف ابن عبد ربہ متوفی ۳۲۸ کی تصنیف عقد الفرید ہے جو " الحمدللہ الاول بلا ابتدا" کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے - کتاب مذکورہ الحاج معتمد الدولہ فرہاد مرزا کے کتب خانے میں تھی - ابن خلکان سے کشف الظنون میں روایت ہے کہ یہ کتاب معمولی سی معمولی نفع کی باتوں پر مشتمل ہے - اور ابن کثیر نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص اہل تشیع میں سے تھا"
( الذریعہ الی تصانیف الشیعہ)
آقائے بزرگ طہرانی نے اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے کہ " عقد الفرید" کا مصنف ابن عبد ربہ شیعہ ہے تب ہی اسکا ذکر اپنی کتاب " الذریعہ الی تصانیف الشیعہ" میں کیا ہے اور ابن کثیر کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا کہ یہ واقعی شیعہ تھا
ایک ایسا شخص جسکی سوانح ناپید ہو گانے بجانے اور لہو و لعب کے علاوہ اسکی زندگی کی کوئی اچھی صفت تاریخ میں ناپید ہو ایسے مجہول شخص کی کوئی تحریر کب حجت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے ؟ اور تین سو اٹھائیس ہجری میں فوت ہونے والا کئی سو سال پہلے کا واقعہ نقل کر رہا ہے اور وہ بھی بغیر کسی سند ہے ۔۔۔
شیخ عباس قمی نے صاحب عقد الفرید کو اپنی کتابِ میں مالکی لکھا حالانکہ یہ تقیہ ہی ہے جیسا کہ نور اللّٰہ شوشتری سنی بنکر چھپا رہا حتیٰ کہ اسی لبادہ تقیہ میں اس نے مجالس المومنین لکھ ڈالی
درحقیقت عقد الفرید کا یہ حوالہ فکری عناد دھوکہ علمی و تحقیقی معیار سے گرا ہوا ایک حوالہ ہے اس پوسٹر کا انداز بیان طرز استدلال اور جملوں کی ترکیب سب اس کا برملا اظہار ہے کہ اس طبقے کے دلوں میں بغض صحابہ کرام علیہم الرضوان بھرا ہوا ہے اور اس بغض کو تحقیق کا عنوان دے کر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر حملہ کیا گیا ہے
@muftihamdard@muftihamdard72 نے
اپنے والد ماجد " ابلیس" کی رہائی کے مطالبے پر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے۔🖐️
ذرائع کے مطابق موصوف اپنے والد ابلیس کی جدائی کے صدمے میں اس قدر نڈھال ہیں کہ ہوش و حواس جواب دے چکے ہیں اور غم فراق نے ان کی بصیرت کو مکمل طور پر مفلوج
کر دیا ہے۔🙂
@28122812S कल की स्पेस से तेरा भागना साबित कर गया कि तुम जैसे नजदी चूहे सिर्फ पीठ पीछे भौंकना जानते हैं। असल में तुम्हारी नजदी रगों में वही खून है जिसने गुंबद ए खज़रा की तौहीन की उम्मत को मुशरिक कहा।
सुन लो नज्द की इन बदतमीज़ औलादों के लिए अहले सुन्नत का बच्चा-बच्चा ही काफी है।