جب پورا پاکستان اپنی عید اپنے پیاروں کے ساتھ منا رہا ہو گا تو قوم کے ہیرو ،محسن اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ایک اور عید اپنوں سے دور ، جیل کی قید میں ایک کال کوٹھری میں ہو گی ۔۔!!
ایک سو ستر پھولوں کو سپرد خاک کرنے کے لیے قبروں کی تیاری۔
ان پھولوں کو مسل دینے والے ٹرمپ کو @CMShehbaz نے دو بار نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے اور اب @BBhuttoZardari اور @MaryamNSharif جیسوں کی زبان سے اس بارے میں سوال کا جواب نہیں نکل رہا ۔
🚨 MEDICAL ALERT: Imran Khan’s health is in critical condition at Adiala Jail. Only 15% vision remaining in his right eye. 2+ years of solitary confinement, denied personal physicians, zero dental care, repeated food poisoning. This is systematic neglect.
#FreeImranKhan
#ImranKhanNotSafeInAdiala
اس وقت سب سے خطرناک بات عمران خان کی Isolation ہے، عمران خان کو انھوں نے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے ، بشری بی بی جو کہ کوئی سیاسی گفتگو بھی نہیں کرتیں انھیں بھی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،
شاہد خٹک
سہیل آفریدی نے تقریر کے آغاز میں کہا ’ایاک نعبد وایاک نستعین‘ جس پر طلباء نے شور مچا دیا جواب میں سہیل آفریدی نے کہا ’دیکھو یہ ہے پبلک انٹرسٹ اور پبلک انٹرسٹ ہی عمران خان ہے‘
آج صرف 4 گھنٹے کی شہزادی دھرنے میں آئے تھی، بچی کے والد نے علیمہ خان سے کہا کہ اسے آپ شہد کی گھٹی دے اور نام بھی رکھ دے۔
علیمہ خان نے بچی کو خود شہد کی گھٹی دی اور بچی کا نام آیت رکھ دیا ♥️
“I am deeply saddened to hear about the passing of Lady Annabel Goldsmith. My family shared this heartbreaking news with me today while I am in prison.
Annabel was a wonderful grandmother to my sons and an exceptionally kind and compassionate person. During my visits to London, I would stay with her along with my sons. She became like a mother to me, especially after losing my own mother in 1985.
Her passing is a profound loss. My heartfelt thoughts are with all her children and grandchildren. She will be dearly missed by all of us. If I were not in prison, I would have attended her funeral along with my sons, Sulaiman and Kasim”
Illegaly incarcerated Imran Khan's message from Adiala Jail (October 21, 2025)
🧵Part 1/n
“عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔ جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners