او ہیلو!
فیصل واڈا نے ڈیڑھ ہفتہ پہلے نہیں کہا تھا کہ ان کے انٹرنیشنل سکینڈل آنے والے ہیں۔
دھیرے دھیرے شہباز حکومت کے پر کاٹے جائیں گے، شہباز سے اپنے کام نکلوائے جائیں گے پھر مریم اور شہباز کا بھی سکینڈل آئے گا۔
کیونکہ Bigg Brother کسی کا سگہ نہیں ہے۔
مرحوم مشاہد اللہ خان نے 2017 میں کہا تھا ’’عمران خان اپنے بچوں کی نانی کی سہیلی کی کرپشن پر چپ ہیں‘‘۔ مطلب جمائما خان کی والدہ کی سہیلی کی کرپشن پر عمران خان ذمہ دار تھا،،، اور جہاں ڈائریکٹ نواسہ ہے وہاں ’اک فرد اپنے رشتےداروں کا ذمہ دار تو نہیں ہوتا نا‘‘۔
پاناما میں 6 جولائی 2018 کو سزا ہوئی
تیرہ جولائی 2018کو گرفتار ہوئیں انیس ستمبر 2018 کو سزا معطل ہوئی یعنی دو ماہ چھ دن گفتگو ایسے جیسے دنیا جہاں کے ظلم ہوئے ہیں سپریم کورٹ میں والیم ٹین بھی نہ کھلا کیلبری فونٹ بھی جعلی تھا جب سزا ہوئی تحریک انصاف کی حکومت کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔
جس فلیٹ کی ملکیت سے انکار کیا اسی فلیٹ پہ کھڑے ہو کر کہتے ہیں کدھر ہیں ثبوت ۔ویسے ہی جیسے جہاز پنجاب کی عوام کی خدمت کے لئیے لیا
پی ٹی آئی سے زیادہ فیصل واوڈا حکومت کے لتے لیتے ہیں لیکن حکومت نے ہمیشہ واواڈا کو جواب دینے سے گریز کیا ہے
جبکہ پی ٹی آئی ارکان کو سخت الفاظ میں جواب دیا جاتا ہے
حکومت فیصل واوڈا کو جواب کیوں نہیں دیتی
کشمیر الیکشن کے بائیکاٹ کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی و پنجاب اسمبلی سے استعفوں کا بھی اعلان کردینا چاہیے
استعفوں کا اعلان اس نظام کو زندہ لاش بنا دے گا
عادی مجرموں کی گندی اولادوں کو پاکستان آرمی نے پروٹوکول کے ساتھ واپس پاکستان لا کر حکمرانی سونپ دی ۔۔
اب یہ گندی اولادیں اپنے کرتوت دکھا رہی ہیں تو زمہ دار پاکستان آرمی ھے، نیوی اور فضائیہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں
جنید اکبر کو عمران خان نے پیغام بھیجا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے باہر نکلو اور تنظم سازی پر سارا فوکس کرو،اور پھر تحریک چلاؤ۔
سہیل آفریدی کو آخری پیغام عمران خان نے بھیجا تھا کہ وہ سٹریٹ مومنٹ شروع کرے اور پھر سڑکوں پر ائے۔
اب دوبارہ ہماری ملاقات ہوتی ہے تو عمران خان اس کے علاوہ اور کیا کہیں گے؟وہ تو کہہ چکے ہیں سڑکوں پر او۔
علیمہ خان
" محترمہ مان رہی ہیں کہ ان کی بچوں سے ملاقات کانفرنس روم میں بٹھا کے کروائی جاتی تھی جبکہ اس کے پاس کوئی عہدہ بھی نہیں تھا اور یہاں سابق وزیراعظم کی آٹھ ماہ سے ملاقات بند ہے۔" عتیق ریاض
@attique_riaz06
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
🚨🚨🚨 اہم ترین ‼️ مقدمہ نمبر 1560/26 میں رضا ڈار کے جس "باس" کا ذکر ہے اسکی شناخت چیف منسٹر پنجاب کے قریبی عزیز کی طرف نشان دہی کرتی ہے تفتیش کے درست سمت میں آگے بڑھنے کا انتظار ہے اسلیئے قبل ازوقت نام نہیں لے رہا ورنہ کرپٹو کرنسی کے دھندے میں فراڈ کر کے دوبئی سے بھاگنے والوں کا بچنا مشکل ہے۔
میں کہتا جا رہا ہوں کے لاہور پولیس کے آپریشن اور انوسٹیگیشن کے سربراہان فیصل اور زیشان دونوں نواشریف کے ذاتی سیکورٹی کے ملازم بنے ہوئے ہیں دیکھیں انٹرویوز میں کیسے یہ لوگ پروفیشنل ازم کا ڈھونگ رچا رہے ہیں جبکہ کل رات تک DIG آپریشنز اپنے ایس ایچ او فریاد کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر چھاپا مرواتا ہے تاکہ مرکزی ملزم کی ضمانت لے کر رات و رات اسکو ملک سے فرار کروایا جا سکے مقدمہ نمبر 661/26 اسکی واردات اور سازش کی کھلم کھلا عکاسی کر رہا ہے!!!
یاد رہے خاندان کا سربراہ اسی طرح ماضی میں طیارہ لے کر فرار ہوا تھا‼️