تحریک انصاف آئندہ الیکشن مولانا فضل الرحمٰن سے مل کر کڑے گی۔ تحریری معاہدہ کیا جائے گا ۔ شفیع جان
کس سے پیمان وفا باندھ رہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم جب DGIS بنےتو عمران خان کا رویہ کچھ اچھا نہیں تھا، ملنے کےلیے کافی انتظار کراتےتھے
پھر وقت ایسا پلٹا ک DGIS نے عمران کے ساتھ ملنا ملنا ہی چھوڑا 😄اور کہا جو بات کرنا ہےآرمی چیف سے کریں
جب بھی عمران بات کرنےکی کوشش کرتا تھا تو جواب دیا جاتا تھا DGi بزی ہیں
فرعونیت اور غلامی کی انتہا۔ ایک فرعون اور دوسرا غلام۔ لعنت ایسے نظام پر۔ یہ 2024 میں ہو رہا ہے۔ 60 اور 70 میں کیا ہوتا ہوگا۔ یہ سوچ کر دل گھبرا جاتا ہے۔
میں آپکو انتہائی ذمہ داری سے آپکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتارہا ہوں کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سے جو کمپیوٹر اٹھایا گیا ہے، اس میں کرسٹینا لیمب کے وہ سوالات موجود تھے جو زلفی بخاری نے احمد جنجوعہ کو بھیجے تھے، قیدی نمبر 804 کے اس سے پہلے بھی ٹیلی گراف اور دوسری جگہوں پر انٹرویو چھپ چکا ہے مگر کرسٹینا لیمب کو انٹرویو دینے کے اثرات بہت زیادہ ہیں کیونکہ انہیں پاکستان پر ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے، سینئر صحافی نصرت جاوید کی گفتگو
#PublicNews #NewsUpdates #PublicProgram #KhabbarNashar @_AdnanHaider@javeednusrat
خدا کے لیے اپنی قومی زبان میں بات کرو۔ یہ جج اپنے آپ کو اب بھی آقا اور قوم کو غلام سمجھتے ہیں۔ اگر انگریزی بولنے کا اتنا ہی شوق ہے تو انگلینڈ چلے جاؤ۔ایک مہینہ بھی نوکری نہیں کر سکو گے۔
جسٹس منصور علی شاہ کے سوالات پر وکیل الیکشن کمیشن لاجواب، لا آفیسر سے مدد مانگی، لا آفیسر بھی جواب دینے سے قاصر
آپ نے کیسے آسان طریقے سے فیصلہ کردیا کہ بلے کا نشان نہیں تو اُمیدواروں کو آزاد کردیں، جسٹس منصور علی شاہ کا سادہ سوال۔۔۔!!!
آپ نے کب میٹنگ کرکے فیصلہ کیا کہ انکو آزاد ڈکلیئر کرنا ہے؟ منصور علی شاہ کا چیئرمین لا سے مکالمہ، چیئرمین لا نے کہا میں ریکارڈ چیک کر کے بتاوں گا۔۔۔!!!
ڈی جی آئی ایس پی آر DG ISPR کی اھم ترین پریس کانفرنس!!! پریس کانفرنس پر میرا تجزیہ :
عمران خان ختم شد!!!
پی ٹی آئی پر کھلی چارج شیٹ۔ 9مئی کے ملزمان کو سزا نہ ہونیکی ذمہ داری نظام انصاف میں بلاوجہ تاخیر اور تاخیری حربوں کا استعمال ہے؛ سپریم کورٹ کو اس بارے میں جلد قدم اٹھانا ہو گا؛ ملٹری کورٹس ٹرائل جلد مکمل بااختیار بنانے ہونگے۔ عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ کی نہ کوئی بات ہو رہی ہے نہ تب تک ہو گی جب تک عمران خان معافی نہیں مانگتے اور تعمیری مثبت سیاسی کردار کی عملی یقین دہانی نہیں کروا دیتے۔ موجودہ حکومت اور معاشی progress پر اطمینان ہے۔