مولانا فضل الرحمن کا بڑا انکشاف !!!
ہمیں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر آپ حکومت بنائیں، میں نے کہا بنتی نہیں ہے۔ آپ ہمیں لوگ مہیا کر کے دیں گے اور میں لوٹوں کے سہارے حکومت بناؤں گا؟ میں اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں جس کے باگیں میرے ہاتھ میں نہ ہوں۔ مولانا فضل الرحمن کا غیرمعمولی بیان
پہلا سیاسی معرکہ آج مولانا فضل الرحمان جیت گئے۔
اسلام آباد میں جے یو آئی کے وکلا کنونشن کو روکنے کے لیے پولیس مارکی تک پہنچ گئی، مگر وکلا اور کارکنوں کی بڑی تعداد اور اُن کے پُرجوش ردِعمل کے سامنے پسپا ہونا پڑا۔ اور پولیس واپس ھٹ گئی آج کا پہلا سیاسی راؤنڈ بلاشبہ مولانا کے نام رہا۔کنونشن ھو رھا ھے اور مولانا کا بھی انتظار ھے
International Federation for Human Rights (FIDH) has warned that judicial corruption in Pakistan has reached a systemic scale and may amount to grand corruption, saying the country's justice system has become increasingly vulnerable to political influence and institutional capture.
https://t.co/PHqLrzPPwm
وزیراعلی کے ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر یار محمد نیازی اور کروڑوں روپے کا صحافتی سیاحتی دورہ۔
اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت اسلام آباد اور پنجاب سے صحافیوں کو 5 روزہ دورے پر ناردرن ایریاز کے وزٹ پر لے کر جارہی ہے۔ جہاں صحافیوں کی رہائش کا انتظام فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے۔
پہلا دن بشام : Hilton Hotel
دوسرا دن پارس: Fairy land hotel
تیسرا دن پارس: Fairy Land hotel
چوتھا دن : Nathia Gali Stay
پانچواں دن: Abottabad stay
اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یار محمد نیازی صاحب نے کبھی یہ زحمت کی کہ خود اور پشاور کے صحافیوں کو منگل والے دن اڈیالہ جیل لے کر آئیں اور انہیں وہاں کے زمینی حقائق پر آگاہی دیں۔
یا پھر جن صحافیوں کو اسلام آباد یا پنجاب سے لے کر جارہے ہیں انہیں آپریشن والی جگہ یا وادی تیرہ کا بھی ایک وزٹ کروانا چاہیے۔
سلمان اکرم راجہ، سہیل آفریدی اور جنید اکبر، جو ہمیشہ کہتے ہیں کہ عوام نہیں نکل رہے اور ہمیں عمران خان کی کال کا انتظار ہے، وہ آج علیمہ خان کی سٹریٹ موومنٹ دیکھیں اور عوام کا جمِ غفیر بھی دیکھ لیں۔ عوام ہر وقت عمران خان کی رہائی کے لیے تیار ہیں۔
قائد انقلاب جناب عمران خان صاحب کی بہن چترال جاتی ہوئی دیر بالا واڑی میں کارکنوں کے طرف سے شاندار استقبال ۔۔۔
دیر بالا پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اور عوام آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں
علیمہ خان نے اج باقاعدہ سیاسی اجتماعات سے خطاب شروع کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارٹی کا انتظار کرتے کرتے، آج سے موبلائزیشن کی ذمہ داری بھی بہنوں نے خود اپنے کندھوں پر اٹھا لی۔
دوسری جانب سینئر رہنماؤں نے بغیر نام لیے کہنا شروع کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی میں موروثی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ خود میدان میں نکلتے ہیں اور نہ ہی عمران خان کی بہنوں کو کھل کر کردار ادا کرنے دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ جس دن عمران خان باہر آ گئے، اس دن بہت سے مفاد پرستوں کی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں، بلکہ اپنے بھائی کی زندگی، اس کی رہائی اور اس کے ساتھ ہونے والے مبینہ مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہے۔ مگر مفادات پرست اسے بھی سیاست قرار دے رہے ہیں۔
یہ کام تو ان لوگوں کو خود کرنا چاہیے تھا جو عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ آج اگر بہنوں کو یہ ذمہ داری خود اٹھانی پڑ رہی ہے تو یہ ان رہنماؤں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
دو حکومتیں
دو وزرا اعلی
دو قوانین اور
ایک پارٹی کا ورکر
علی امین کے دور میں مائنز اینڈ منرل ایکٹ لایا گیا جس پر شدید تنقید کی گئی علی امین نے قانون کی آگاہی کیلئے سیشن کرائے اسمبلی کے اندر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن پارٹی کارکن اپنی بات پر قائم رہے جس کے بعد وہ قانون پاس نہ ہوسکا
سہیل آفریدی کے دور میں خاموشی سے چھپ کر اسمبلی مراعاتی قانون پاس کرایا گیا امید تھی کہ لوگ غافل رہیں گے اور معاملہ آگے بڑھتا رہے گا لیکن بات سامنے آگئی پارٹی کارکنان نے کسی قسم کا دفاع نہیں کیا وزیر اطلاعات اور پوری حکومتی ٹیم نے اپوزیشن کو ملا کر بھی کوشش کی لیکن کارکن ڈٹ گیا اور اب وہ قانون واپس ہورہا ہے
ان دونوں واقعات میں ایک بات واضح ہے کہ دونوں حکومتیں پارٹی اور عمران خان کے نظریئے سے جب جب غافل ہوئیں کارکن نے انہیں جھنجھوڑا اور راہ راست پر لایا
پی ٹی آئی کا کارکن آج بھی اتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ اس کے سامنے پوری حکومت سرنڈر کرجاتی ہے
ایک بات ہم نے بلکل واضح طور پر کہنی ہوگی۔
پاکستان افواج کیلئے ہے یا افواج پاکستان کیلئے ہیں؟
جب تک یہ فیصلہ نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔