اس بچے کے ورثاء کی تلاش کے لئے ہم نے چند روز قبل پوسٹ لگائی تھی لیکن تاحال ورثاء نہیں ملے۔
بچہ کراچی ملیر پولیس کو ملا تھا ،اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظت میں ہے۔
بچہ جب ملا تھا تو کانوں سے سنتا نہیں تھا۔
چائلڈپروٹیکشن کی انتظامیہ نے ڈاؤ اسپتال سے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا بچے کو آلہ لگایا جائے تو سننے کے قابل ہوسکتا ہے۔
پہلے ڈیوائس کی قیمت پچاس ہزار بتائی گئی تھی۔ لیکن پھر معلوم ہوا وہ سب سے ہلکی کوالٹی ہے جسمیں شور ہوتا ہے آواز صاف نہیں رہتی۔
گزشتہ کل ہم چائلڈ پروٹیکشن عملے کے ساتھ کلینک گئے وہاں اچھی ڈیوائس کا انتخاب کیا جسکی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپے بعد از ڈسکاؤنٹ طے ہوا۔
الحمدللہ دوستوں کی مدد سے پیسے مکمل ہو گئے۔ کل بچے کی ناپ لی گئی ان شاءاللہ ایک ہفتے بعد تیار ہوکر لگے گی۔
بچے کو جب آزمائش کے لئے آلہ لگا تو چہرے کے تاثر سے پتہ چلا کہ پہلی بار کچھ سننے کو ملا ہے۔
ڈاکٹر کے بقول ڈیوائس لگنے کے چند ماہ بعد بچہ رسپانس کرےگا جب وہ سن کر کچھ الفاظ سیکھےگا۔ اس پر خصوصی محنت کی ضرورت ہے کوئی ٹیچر اسکے ساتھ باتوں میں مصروف رہے گا تو یہ بات کرنا سیکھےگا ورنہ نہیں۔
اس بچے کی پوسٹس ہر جگہ چلی ہیں لیکن ورثاء نہیں مل رہے۔
بچہ ماشاءاللہ بہت پیارا اور معصوم ہے۔
اگر بالفرض ورثاء نے بوجھ سمجھ کر اس پھول جیسے بچے کو چھوڑا ہو اور ہمارا یہ پیغام ان تک پہنچ رہا ہو تو وہ یاد رکھیں کہ کل قیامت کے روز یہ تم سب کو گریبان سے پکڑ کر سوال کرےگا کہ اتنی ننھی عمر میں مجھے کیوں دربدر کیا؟
خدارا اب بھی وقت ہے اپنی آخرت بچائیں آکر بچہ لیکر جائیں
#waliullahmaroof
اس نوجوان کا نام نعمان ہے والد کا نام وسایا ہے۔
نعمان آج سے تقریبا 23 سال قبل چار سال کی عمر میں اپنے گھر سے والوں سے بچھڑ گیا تھا آج تک ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا ہے۔
نعمان کا کہنا ہے کہ انکو اپنے والد کا نام وسایا یاد ہے والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔ دو بھائیوں عثمان اور رضوان کے نام یاد ہیں۔
بہنیں شاید چار تھیں انکے نام یاد نہیں ہیں۔
نعمان نے اپنے گم ہونے کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ملتان کے کسی اسپتال میں آیا تھا جہاں اسکی انگلی کا آپریشن ہونا تھا۔اسپتال سے باہر نکلا تو وہاں لاوارث سمجھ کر شیلٹر پہنچادیا گیا۔
دو تین سال ملتان کے شیلٹر میں رہا۔پھر سال 2006میں کراچی منتقل کیا گیا۔
نعمان کا کہنا ہے کہ ہماری رہائش بھی شاید ملتان میں تھی۔
نعمان اس وقت بھری جوانی میں لاوارث ہے۔اپنوں کے پیار سے محروم ہے۔فیکٹریوں میں کام کرکے وہیں سنسان کمروں میں راتیں گزارتا ہے۔ راتوں کو اٹھ کر ماں باپ اور بہن بھائیوں کو یاد کرکے روتا ہے۔ زندگی کے چاروں طرف تاریکیاں ہیں۔
نعمان چاہتا ہے کہ اسے اسکے ماں باپ اور بہن بھائی ملیں۔اور اذیت ناک تنہائی سے جان چھوٹے۔
آپ کا ایک شئیر نعمان کی زندگی سنوار سکتا ہے۔اسکی آنکھوں سے مایوسی کے پردے دور کرسکتا ہے۔
خوب زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 june 2026
#waliullahmaroof #Multan #punjab #pakistan #MissingChild
اس احمق منافق اور سستے فوجی ٹاوٹ کو یہ بھی علم نہیں کہ کشمیر کا سٹیٹس انڈیا نے 2019 میں تبدیل کیا جس وقت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ایکشن کمیٹی کی بنیاد 2023 میں پڑی۔ایکشن کمیٹی کے کسی کور ممبر نے کبھی پنجاب پاکستان یا کسی ادارے کے خلاف نازیبا زبان استعمال نہیں کی۔
الحمدللہ
سیالکوٹ کے گاؤں پتیسر میں آج قوت سماعت و گویائی سے محروم محمد صدام کو چوبیس سال بعد اسکے خاندان سے ملایا۔
سارا گاؤں استقبال کے لئے اکھٹا تھا پھولوں کے ہار اور پتیوں سے استقبال کیا گیا۔ بھائی اور ماں جب صدام سے ملے تو پھوٹ پھوٹ کر روئے۔سارے بزرگ گلے لگ کر روئے۔ غم اور خوشی کے ملے جلے چہرے جمع تھے۔
بہت خوبصورت اور شاندار پروگرام رہا ۔ ان شاء اللہ مکمل تفصیلی مناظر آپ ہمارے چینل پر بہت جلد دیکھ سکیں گے۔
سیالکوٹ پتیسر کی عوام نے بہت پیار دیا بہت خدمت کی آپ سب کا بہت شکریہ ❤️
#waliullahmaroof
یہ بچہ دسمبر 2025 کو کراچی میں لاوارث ملا تھا۔ اپنا نام یا دیگر معلومات بتانے سے قاصر ہے۔
بچہ اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ بہت کوشش کی گئی لیکن ورثاء نہیں ملے۔ برائے مہربانی بچے کو ماں کے آغوش تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔اس عمر میں ماں باپ سے دور ہونا بہت ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے آنکھیں بند کرکے تصور کریں شاید آپ برداشت نا کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ نیچے درج نمبر پر اطلاع دیں۔
03162529829
نوٹ: برائے مہربانی گود لینے کے
خواہشمند بالکل بھی رابطہ نا کریں۔
2 jun 2026
#waliullahmaroof
پٹرول پمپ پر ہاتھ کیوں دھوئے سردار زادے غلام رسول رند کا کم سن بچیوں پر تشدد ،بچیوں کو مار کھاتا دیکھ کر لاچار باپ آگے آیا تو پٹرول پمپ کے عملے نے غریب شہری کی درگت بنا دی ،پنجاب پولیس حسب روایت مقدمہ درج کرنے سے انکاری ،جام پور نزد صدر تھانے کے ساتھ تین بچیاں اپنے والد کے ساتھ قلفی کھانے گئی قلفی کھانے کے بعد بچیاں ساتھ واقع رند پٹرول پمپ پر ہاتھ دھونے لگی بچیوں کو ہاتھ دھوتے دیکھ کر سردار ذادہ غصے میں پاگل ہو گیا ،غلام رسول رند کے بیٹے اور عملے نے ان بچیوں پر پر تشدد کیا ایک بیٹی کی عمر سات سال دوسری کی پانچ اور تیسری کی تین سال ہے ،پولیس جب موقع پر آئی اور وقوعہ کی فوٹیج دیکھنا چاہی تو غلام رسول رند کے بیٹے نے پولیس کو بھی دھمکیاں دیں، وہی پر پولیس کو اوپر سے فون آ گیا اور پولیس واپس آ گئی ،اب پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کیا کم سن بچیاں بھی آپ کی ریڈ لائن میں آتی ہیں ؟
@MaryamNSharif@hinaparvezbutt@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
@realrazidada@ShamaJunejo میرے بہت سے جاننے والے کاریگر فیکٹری لائن کو چھوڑ کر کریم بلاک یا انارکلی میں اپنی مشین رکھ کر بیٹھ گئے ہیں اور alteration کرتے ہیں اس سے وہ فیکٹری کی تنخواہ سے زیادہ کما لیتے ہیں
@realrazidada@ShamaJunejo مسئلہ کاریگروں کا نہیں ہے مسئلہ اس سیلری کا ہے جو ان کو دی جاتی ہے وہ صبح چار بجے گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو سات اٹھ بجے گھر پہنچتے ہیں اور پورے مہینے بعد ان کو 35 ہزار ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے کوئی کیسے کام کر سکتا ہے
شاہد کی آنکھیں اپنوں کے لئے ترس رہی ہیں۔۔!!
سال 2002 میں شاہد پانچ سال کی عمر میں اپنے والد "شاکر" کے ساتھ لاہور سے کراچی آیا تھا۔والد ٹرک ڈرائیور تھے،ٹرک میں کراچی کی سبزی منڈی آئے تھے،یہاں چچا یا والد کے ساتھ (یا شاید کنڈیکٹر)ٹرک سے نیچے اتر کر منڈی میں گھوم رہے تھے کہ رش میں ان سے کھو گیا۔
شاہد کا کہنا ہے کہ مجھے ایک تھانے لایا گیا وہاں سے ایک شیلٹر میں بھیج دیا گیا۔
مجھے والد کا نام شاکر والدہ کا نام نسیم یاد ہے۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ ہم گھر میں پنجابی بولتے تھے،اور میں والد کے سینے پر سوتا تھا۔
میں جب دوسرے بچوں کو اپنوں سے ملتا دیکھتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے کہ کاش میرے والدین بھی ملیں،جس سینے پر میں سوتا تھا اس سینے سے لگ کر خوب گریہ کروں اور اپنے سینے میں لگی جدائی کی آگ بجھاوں۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہیں۔یہ پوسٹ آپ تک پہنچی ہے تو صرف ایک شئیر کا بٹن دبانے سے آپ شاہد کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ انکے دل شکستہ والدین کو خوشیاں فراہم کرسکتے ہیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج فون نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
18 may 2026
#waliullahmaroof #lahore #shahid
اعلان بچہ گمشدہ ہے.. بہت ہی پیارا بچہ جس کا نام: محمد روحان ولد سلیم
رہائشی: گمرولہ (درمان گمرولہ)، ظفروال
حلیہ: اسکول یونیفارم (سفید قمیض، خاکی پینٹ، ٹائی) اور نیلا بیگ۔
یہ بچہ 12 مئی 2026 سے ظفروال سے لاپتہ ہو گیا ہے۔
اگر کسی کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم ہو، تو براہ کرم درج ذیل نمبر پر فوری رابطہ کریں۔
رابطہ نمبر: 03265875253
اللہ تعالیٰ محمد روحان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اسے جلد اور بخیریت اپنے والدین سے ملوائے۔ آمین
03157692460
کوئٹہ(لک پاس) کسٹم ویئر ہاؤس میں کرپشن چھپانے کے لیے لگائے جانے والی آگ میں 60 افراد جھلس کر جان کی بازی ہار گئے جبکہ 80 سے زائد زخمی۔۔کسٹم حکام کی جانب سے گزشتہ دس روز سے مال منتقل کیے جانے بھی انکشاف۔۔۔ تحیقات کون کرئیگا ؟؟؟ جبکہ 500 سے زائد گاڑیاں جل کر کوئلہ بن گئیں۔اور تین سو سے زائد گاڑیاں کسٹم وئیر ہاؤس سے غائب۔
نوٹ
60 لوگ جان سے گئے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر وزیر اعظم @CMShehbaz خاموش ۔۔۔!!! کیا یہ کاروائی کسی طاقتور حلقے کی جانب سے کروائی گئی جو وزیر اعظم نے چپ سادھ لی ؟
@FBRSpokesperson@Financegovpk@MOIofficialGoP@KhawajaMAsif@Official_DJISPR@MohsinnaqviC42@RadioPakistan@IRSPakistan@Pak_Customs
الحمدللہ
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے آج فیصل آباد کی ہماری بہن اقرا اپنے بھائی اور چچا کے حوالے ہوچکی ہے اور اس وقت وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے فیصل آباد کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔
اقرا کی اسٹوری آپ سب نے پڑھی تھی کہ انکو آج سے چودہ سال قبل اغو*اء کیا گیا تھا۔چار جگہ فروخت ہوئی۔آخری میں جنہوں نے خریدا تھا انہوں نے اپنے پاس رکھا اور بھیک مانگنے پر لگایا تھا۔
کیس حساس تھا اس لئے ہم آپ کو اس کی اپڈیٹ نہیں دے رہے تھے۔
جن کی طرف سے یہ کیس ملا انکو تو اللہ دنیا و آخرت میں اجر دےگا ہی ان شاءاللہ۔۔
اہم مرحلہ پھر یہ تھا کہ اب اقرا کو کیسے ان سے آزاد کرایا جائے؟ کون ہمت کرے جاکر ان سے اپنی بیٹی لے؟
الحمدللہ اللہ کے ایک نیک بندے کی طرف سے بھرپور تعاون شروع ہوا۔اس کیس کو بخوبی سرانجام پانے کے لئے انہوں نے خیبرپختونخواہ پولیس کو اور بیوروکریسی تک اقرا کی فریاد پہنچائی۔اور بہت ہی منظم طریقے سے پلان بنایا گیا۔
کافی دنوں تک اقرا پر ہماری رضاکار بھائی نے اقرا کی نگرانی کی،بالآخر آج ہمارا وقت آن پہنچا اور صبح سے اس کیس پر کام شروع ہوا۔منزل پہنچنے پر پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا،پہلے تھانے گئے وہاں اقرا سے ساری داستان سنی،پھر عدالت میں پیش کرکے معزز جج صاحب نے اقرا کی مرضی سے بھائی اور چچا کے ساتھ جانے کا حکم جاری کیا۔ کاروائی مکمل ہونے تک شام ہوچکی تھی۔
اس کیس کی مکمل تفصیل ان شاءاللہ جلد ویڈیو رپورٹ کی شکل میں آپ تک جلد پہنچائیں گے۔
فی الحال جوجو دوست اس بہن کے لئے فکرمند تھے انکو اطلاع ہو کہ الحمدللہ اقرا اپنوں کو مل چکی ہے۔۔
خیبرپختونخواہ پولیس،بیوروکریسی اور جس اللہ کے نیک بندے نے اعلی سطح تک ہماری بات پہنچائی ان سب کا تہہ دل سے بےحد شکریہ،ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے گرہ محبت کے باسیوں کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنے علاقے کے نام محبت کا اثر دکھایا اور بھرپور ثبوت دیا اور انسانیت سے محبت کی ، اس بہن کو اپنوں تک پہنچانے میں تعاون کیا۔
آپ سب سے درخواست ہے کہ تعاون کرنے والے ان تمام ہستیوں کو اپنی دعاؤں میں ضرور شامل کریں اللہ ان تمام کو اپنی امان میں رکھے اور کبھی انکو پریشان نا کرے۔اللہ انکے تمام مشکلات دور کرے۔آمین
انکی پہلی پوسٹ کمنٹ باکس میں دیکھ سکتے ہیں
#waliullahmaroof
حسان نیازی کی اسیری کے ایک ہزار دن مکمل ہو نے پر ، ان کے والد حفیظ اللہ خاں نے جو چند جملے لکھے ہیں ، کوئی باپ اس کی تاب نہیں لا سکتا۔ اولاد کی کیسی محبت مادر گیتی نے ماں باپ کو ودیعت کی ہے۔ زخم بچے کو لگتا ہے اور کلیجہ ماں باپ کا پھٹنے لگتا ہے۔ ہزار دن کی اسیری تو کیا اولاد کی علالت بھی والدین کو لہو رلا دیتی ہے۔
دیار دل کے کلس پہ ستارہ جو ترا غم
ایک آدمی کا نہیں یہ ایک یتیم قوم کا المیہ ہے، جس کے سارے سردار پتھر دل ہیں۔
پی ٹی آئی کارکن افتخار جٹ جب شدید علیل تھا تو ( جج منظر علی گل ) نے ان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی تھی،
افتخار کو ایمبولینس میں جیل لایا گیا اور وہاں سے انہیں Malik Pervaiz Iqbal Ahc کی گاڑی میں ڈال کر جیل کے اندر لے گئے اور انہیں اٹھا کر اندر کمرہ عدالت لایا گیا،
بے ہوشی کی حالت میں فرش پر لٹایا گیا، 3 گھنٹے بعد جج صاحب آئے تو اسی بے ہوشی کی حالت میں انگوٹھا لگوا کر جانے کی اجازت ملی۔
افتخار جٹ نے کم و بیش ایک سال جیل میں گزارا ۔ ۔۔گندا پانی گندی خوراک کی وجہ سے ہیپاٹایٹس ہو گیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ، ،، یاد رہے Pkli ہسپتال میں زیر علاج تھا 5 لاکھ کا بل بنا تھا ۔۔ہسپتال والے باڈی نہیں دے رہے تھے ، خدیجہ شاہ کو پتا چلا تو فوری ہسپتال پہنچ
کر بل ادا کیا اور باڈی ورثا کے حوالے کی ،
کیسے کیسے نوجوان کھا گیا یہ 9 مئی 💔
Via @ItsMohsin804
لاہور کے کینسر ہسپتالوں کے دھکے کھانے کے بعد "زہرہ" کینسر زدہ بچی اپنے والے کے گلے سے چمٹی اپنے گھر کو روانہ ہوگئی
سب سے بڑی بیماری ہے غربت کینسر سے بھی بہت بڑی بیماری ہے
اگر بندا امیر ہوتو ہر کوئی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے جلدی ایڈمٹ ہوجاتا ہے
سوچیے اگر یہی منظر کسی مغربی ملک کی خواتین کے ساتھ پیش آتا اور انہیں مسلمان فوجی اس طرح گھسیٹ کر لے جا رہے ہوتے، تو عالمی میڈیا کئی دن تک شور مچاتا، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہنگامی اجلاس بلاتیں اور ہر اخبار کی سرخی یہی تصویر بنتی۔ مگر چونکہ یہ فلسطین کی مظلوم بیٹیاں ہیں، اس لیے دنیا کی اکثریت خاموش ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف بیرونی طاقتیں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو خاموشی، مفادات یا تعاون کے ذریعے ان مظلوموں کے دشمنوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تصویر میں قابض اسرائیلی فوج فلسطینی خواتین کو حراست میں لے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
وہ ننگے پاؤں بھاگتی ، جھاڑیوں سے الجھتی ، زخمی پولیس اسٹیشن پہنچی ، سکھر کی 23 سالہ ,, گُلاں بھارو ،، کے چہرے اور بازوؤں پر خراشیں تھیں ، نوکیلی جھاڑیوں نے اسے زخمی تو کر دیا ہے۔ لیکن اس کی جان بچ گئی تھی
تھانے پہنچ کر ایس ایچ او سے کہا ،
ساہ (سانس) تو سب کو پیارا ہوتا ہے نا، شوہر کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر میں نے ہمت کرلی اور بھاگتی بھاگتی یہاں آئی ہوں ، اب دارلآمان بھیج دیں صاحب ، اُدھر ہی ٹھیک ہوں ، دو بیٹے ہیں ایک 4 سال کا ہے وہ وہیں رہے ، دو سال والا مجھے لا کر دے دو ، وہ میرے بغیر نہیں رہ پائے گا۔ باپ بھائی بے قصور ہیں ،،
اس وحشت زدہ معصوم لڑکی کو سسرال والے کاروکاری کرنا چاہتے تھے ، وہ اس پر سیاہ کاری کا الزام تھا ، عدالت نے اسے دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ،وہاں اس کا باپ آگیا اور پگڑی اس کے پاؤں میں رکھ کے کہا کہ میری عزت کی خاطر گھر واپس آ جاؤ ، سسرال بیشک نہ جاؤ ، تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔
گلا بھارو کو اعتبار تو نہیں تھا مگر پھر بھی باپ پر کر بیٹھی ، عدالت سے نکلتے اس نے ایک جملہ بولا ،، مجھے یقین ہے میں ماری جاؤں گی مگر میں باپ کی عزت اور پگڑی کی لاج کے لیے جا رہی ہوں۔
اور پھر وہ ۔۔۔۔۔۔ بابل کے آنگن میں اترتے ہی مار دی گئی۔ ماموں اور باپ نے سیاہ کاری کے الزام میں کاروکاری کی رسم نبھائی ۔ گلاں بھارو کو راتوں رات مار کر دفن کردیا گیا ۔
تصویر میں بھی اس معصوم لڑکی کی آنکھوں کا خوف اور بے بسی دل چیر رہی ہے ، وہ اپنے باپ کو مسیحا سمجھ کر ساتھ چل تو پڑی تھی۔۔۔۔ مگر اسے یقین تھا بلیدان دینا پڑے گا ۔
نی میں پَگ تھلے آ کے مر گئی
کسے نے میری کُوک نہ سُنی
مجیب الرحمٰن
ہم نے گزشتہ ماہ عرفان/عمر اور ممکنہ رمضان کی ویڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی۔
پانچ سال کی عمر میں کراچی سے گم ہوا تھا اور کراچی میں ہی ایک شیلٹر میں رہ کر بڑا ہوا جوان ہوا اور وہاں سے نکل کر کروڑوں انسانوں کے بیچ لاوارث بن کر دردر ٹھوکریں کھانے لگا۔
ہماری ملاقات لاہور میں ہوئی تھی۔یہاں روزگار کے ساتھ ساتھ رہنے کے لئے چھت مل رہی تھی اس لئے کراچی چھوڑ کر آیا چند روز قبل آیا تھا۔
انکی ویڈیو بہت زیادہ شئیر ہوئی بہت سارے لوگوں نے رابطے کئے۔انکی فائل میں کھارادر لکھا تھا جسکی وجہ سے انہوں نے اپنے گھر کا پتہ کھارادر بتایا تھا۔
تقریبا دو ہفتوں سے ایک خاندان رابطے میں ہےجو کراچی میں ہے ۔
عرفان نے والدین اور اپنا نام عمر بتایا تھا یہ میچ نہیں ہوا۔دو بھائیوں معراج اور اکرم نام یاد تھے،اکرم کو چاچو کہہ رہا تھا لیکن وہ بڑا بھائی ہے۔اس خاندان میں اکرم اور معراج موجود ہیں۔
گھر اور محلے کا جو نقشہ بتایا تھا وہ بھی میچ ہے۔گھر والوں نے بتایا کہ بچپن میں ران پر دانہ نکلا تھا جسکا چھوٹا آپریشن ہوا تھا اور اسکا کان ذرا ٹیڑھا ہے۔ زخم کا نشان بھی موجود ہے اور کان بھی ذرا مختلف سا ہے ہم نے بھی دیکھا تھا۔
اور یہ فیملی بہاولپور سے کراچی آئی تھی اسکے ایک دو روز بعد رمضان پانچ سال کی عمر میں گم ہوا تھا۔ عرفان کو بھی پنجاب کی دھندلی یادوں کا ذکر کیا لیکر شہر کا نام یاد نہیں۔
کافی ساری نشانیاں میچ ہیں لیکن ڈی این اے کے بغیر فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
والدین بہت ضعیف ہیں والد ٹھیلا چلاتا ہے ۔ڈی این اے کی فیس 65ہزار روپے ادا نہیں کرسکتے۔
اس قبل بلال/راشد والے کیس میں بھی ڈی این اے تک بات پہنچ گئی ہے،کل بلال کا سیمپل لیا گیا تھا اور آج اسکی والدہ کا رحیم یارخان میں سیمپل لےلیا گیا ہے۔بلال کی فیس ہم نے اپنے چینل کی آمدن سے ادا کی ہے اور عرفان کی فیس کسی دوست سے کروائیں گے ان
شاءاللہ۔
آپ تمام دوستوں سے دعاؤں کی شدید درخواست ہے اللہ ان دونوں کو اپنوں سے ملوائے۔آمین
#waliullahmaroof
اپنا بچہ سمجھ کر ایک بار ضرور شئیر کریں۔۔۔!!
یہ معصوم بچہ نومبر 2025 میں فیصل آباد کے ڈی ٹائپ پولیس اسٹیشن کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔
یہ صرف اپنا نام “موسیٰ” بتاتا ہے، اس کے علاوہ اسے اپنے والدین، گھر، خاندان یا پتے کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔
نہ ماں کا نام معلوم ہے، نہ باپ کا… نہ یہ جانتا ہے کہ اسکا گھر کہاں ہے۔
آج یہ بچہ ایک ادارے کی تحویل میں ہے، اسکی آنکھیں آج بھی اپنے ماں باپ کو ڈھونڈتی ہیں۔
ماں دن رات اپنے بچے کی جدائی میں تڑپ رہی ہوگی…
خدارا… اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
ہوسکتا ہے آپ کا ایک شئیر موسیٰ کو اسکے گھر والوں تک پہنچا دے اور ایک بچھڑا ہوا لخت جگر خاندان کو دوبارہ مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کی صورت میں نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں
03162529829
7 May 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #MissingChild
روهڑی کے قریب جہانگڑو تھانے کی حدود میں گُلان بھارو اپنے شوہر کے گھر سے نکل کر تھانے پہنچی اور تحفظ کے لیے درخواست دی۔ پولیس نے اسے عدالت میں پیش کیا جہاں اس نے دارالامان جانے کی درخواست کی، لیکن اس کے باپ نے پگڑی اتار کر سامنے رکھی تو گُلان نے کہا:
"مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن میرے والد نے پگڑی اتار کر رکھی ہے اس لیئے والد کی عزت کی خاطر موت بھی قبول ہے، میں اپنے والد امداد بھارو کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔"
ہفتہ قبل سکھر کی عدالت میں ایسا بیان دے کر اپنے باپ کے ساتھ گھر واپس جانے والی یہ خاتون گُلان بھارو آج کاروکاری کے الزام میں قتل کر دی گئی۔
سندھ کو قبائلیت سرداری نظام کھا گیا ہے ،صرف اپریل کے مہینے میں غیرت کے نام پر بیس قتل، دو عورتوں کو پنچائت نے فتوے کے بعد ہجوم کے سامنے قتل کیا، ایک کو سندھڑی میں سرپئنچ سردار نثار شر نے فتوے کے بعد گولی ماری۔