When the cricketers and celebrities of Pakistan are afraid to speak up for Pakistan's biggest public figure, Imran Khan, it is India's cricket legend Kapil Dev who has called for "fair treatment and some ethics" regarding Imran Khan's incarceration.
Unfortunately, this has been the history of Pakistan. We have hanged our prime ministers and imprisoned our heroes, as we saw in the case of Zulfiqar Ali Bhutto and the late Dr. Abdul Qadeer Khan respectively. The nation has not seen Imran Khan for three years. His family has not seen him for the past seven months. Court proceedings are held inside the jail so that the public cannot see their leader. His appeals are not being heard by the appellate courts because the allegations and convictions against him are politically motivated and lacking merit. The Constitution has been amended twice to ensure that he remains in jail. The judicial system has been undermined so that he cannot be released.
He won the people's mandate from behind bars, but that mandate was taken away after his electoral symbol was withdrawn.
Imran Khan is in jail, and so are the 250 million people of Pakistan, because they cannot freely express what they feel and have been deprived of fundamental democratic rights—the freedom of expression and the right to vote for their chosen representatives.
Thank you for speaking up.
رضاڈار جو گینگ ریپ کے مرکزی کردار ہیں اسے بچانے کے لیے اب ایک وکٹم بنا کر پیش کر رہے ہیں کہ وہ بھی ان خواتین کیساتھ اغواء ہوۓ تھے یعنی ایک گینگ ریپ کے ملزم سے اب وہ وکٹم بن گئے
جب سے فیلڈ مارشل کے قریبی ساتھی بلال بن ثاقب کا نام آیا ہے تو اس کہانی کو دبایا جا رہا ہے
شہباز گل
بکواس نسلیں
کبھی امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کا لائف سٹائل دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔ لیکن فوج نے انہیں بھی گھیر لیا۔ پروٹوکول ، پاکستان میں چھوٹے موٹے کام کاج اور ایک آدھ افسر سے تعلقات۔ یہ بس یہیں مر گئے۔ کیسے کیسے برج تھے جو رجیم چینج میں الٹ گئے دور سے کتنے معزز لگتے تھے۔ بڑے بڑے خان ، چوہدری اور وڈیرے فارم سینتالیس کا تھوک چاٹ کر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ تو نظریاتی تھے۔ اصول پرست تھے۔ وہ تو سب سے زیادہ گندے نکلے۔ جس چیز پر ساری زندگی تنقید کرتے رہے اسی کے حمایتی بن بیٹھے۔
زمین سے اٹھا اٹھا کر لوگ اقتدار کے آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ جو یہ ہیرے تراشتا رہا اسکی مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں۔ جن کو اقتدار حکومت مل گیا وہ مڑ کر اسکی خبر بھی نہیں لیتے۔ جس کو جہاں جتنا حرام کمانے کا موقع ملتا ہے وہ کما رہا ہے۔ با عدلیہ سے کوئی بوجھ اٹھاپارہا ہے، نہ انتظامیہ سے ، اس ملک کے کسی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی غیرت نہیں۔
کھلی آنکھوں سے ناانصافی دیکھتے ہیں ، ظلم دیکھتے ہیں خاموش رہتے ہیں۔ جس کے سینے میں خنجر چلتا ہے وہ ایک چیخ نکالتا ہے جو باقی سب سنتے بھی نہیں اور وہ خنجر پھر اپنا نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔ نہ علماء سے کچھ بن پایا نہ وکلاء سے۔ نہ عوام کچھ کرپائے نہ حکمران کچھ کر پائے۔ لیڈر شپ والے تو جیسے ساری کوالٹیز ہی اس ملک میں ناپید ہوچکیں۔ پھر ہم جیسے بچتے ہیں تو منہ چھپا کر چند لفظی نشتر چلا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق بھی ادا ہوا۔ یہ بکواس نسلیں ہیں۔
یہ پولیس والا بہت بڑا چغد ہے یا بنانے کی کوشش کر رہا ہے
ذرا اس کی بات سنیے وہ رضا ڈار جو دنیا کی بڑی کرپٹو کانفرسز میں جاتا ہے اور لاکھوں ڈالر کا کاروبار کرتا ہے نائب وزیراعظم کا نواسا اور کرپٹو کنگ علی ڈار کا بھانجا ہے جو کہ چیف منسٹر کا بہنوئی بھی ہے
اس رضا ڈار کا ”باس“ وحید نامی کوئی معمولی سا بدمعاش ہے ‼️
واہ پیارے واہ۔۔۔ لگتا ہے DIG کا برانڈ کوئی انتہائی سستا والا ہے یا پھر میڈیم کا بہت پریشر ہے⁉️
شریف صحافی اور حوالدار صحافیوں کی لائن کافی باریک ہوگئی تھی رضا ڈار کیس نے یہ لائن دوبارہ واضع کردی ہے اب سب کو معلوم ہے کون شریف صحافی ہے اور کون حوالدار اور کون دونوں کشتیوں کا سوار ہے!
🚨ڈھڈیال میں المیہ: پاکستانی رینجرز کی فائرنگ میں ایک ہلاکت، 14 زخمی
ڈھڈیال، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر – 5 جولائی 2026 کو آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے ڈھڈیال علاقے میں زبردست کشیدگی پیدا ہو گئی جب پاکستانی رینجرز نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا اور 14 دیگر زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، پنجاب رینجرز سمیت سیکورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اے کے 47 rifles اور آنسو گیس کے شیل استعمال کیے۔ یہ واقعہ علاقے میں احتجاج کے دوران پیش آیا، جیسا کہ عینی شاہدین نے بیان کیا ہے۔
مقتول کی شناخت محمد یعقوب کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کی حالت کے بارے میں ابھی تصدیق نہیں ہو سکی، اور حکام نے لائیو گولیوں کے استعمال کی وجوہات کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ڈھڈیال میں صورتِ حال کشیدہ بنی ہوئی ہے جبکہ مقامی لوگ اس تشدد پر شدید ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
🚨Anger spills onto the streets of Dadyal, AJK, and rest of the State, following a fatal firing by Punjab Rangers that left one civilian dead. Large crowds have gathered, raising anti-Rangers and anti-police slogans. Protesters have staged a symbolic demonstration by placing the deceased's body on the roadway. We also bring you Khawaja Mehran's statement on the incident
ہم پاکستانی جس خطے کو 1947 سے آزاد کشمیر کہتے آ رہے ہیں، وہ اب آزاد نہیں رہا۔ پاکستان کے de facto سپریم لیڈر عاصم منیر اسے آزاد رہنے بھی نہیں دینا چاہتے۔ آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر کے لوگ کریں، یہ ان کا حق ہے، نہ کہ ملتان، پنڈی یا لاہور کے لوگ۔ افسوس، جرنیلوں نے ملک توڑنے کی اپنی روایت برقرار رکھی۔