⛔
کیا لکھوں میں شاعر، دل پہ عذاب بہت ہے
بارش بھی ہے شامل، آنکھ میں آب بہت ہے
لفظوں میں سمٹتی ہی نہیں یہ اداسی
کہنے کو تو چھوٹا، درد کا باب بہت ہے
میں چپ ہی رہوں بہتر، یہ سوچ کے اکثر
بولوں تو نکل آئے جو، وہ عذاب بہت ہے
🖤
#جلترنگ
سخت لہجوں کی تاپش سے میرے صبر کا پیمانہ بھر گیا
اس شہر کو خود کےلئے ویراں جان کر میں گھر گیا
جو احباب کبھی ملتے تھے گرمجوشی سے مجھے
اب تو ان کا دل بھی مجھ سے بھر گیا
اس قدر اندھیرے میں صرف کی زیست اپنی
کہ جس پہر بھی دیکھا اُجالے کو میں ڈر گیا
(ارباب خان)