وسیب( جنوبی پنجاب) کے وڈے سارے سینئر صحافی رؤف کلاسرا صاحب کے مطابق ذوالفقار بھٹو اور نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کو جیل میں بڑا ایڈوانٹیج حاصل ہے۔
بریکنگ 🚨
پوری دنیا سے انٹرنیشنل میڈیا, کشمیر پر مفصل کوریج دے رہا ہے!!
اب Al Jazeera TV اور BBC News کے بعد آسٹریلیا میڈیا بھی کمشیر پر اپنی ڈاکومنٹریز جاری کر رہے ہیں!!
پاکستان میں انٹرنیشنل میڈیا پر مکمل restrictions ہے, انٹرنیشنل میڈیا Ban ہے,
آسٹریلین میڈیا
مسلم لیگ ن کی ایک بڑی خاص شخصیت نے مجھ سے کہا،
کہ عمران خان ایک ایسا لیڈر بن کر ابھرا ہے کہ جس کے اوپر کوئی الزام نہیں لگتا۔
وہ باقی سب کو تو کرپٹ کہہ دیتا ہے مگر خود کرپٹ نہیں لگتا،
ہم چاہتے ہیں وہ ہمارے ساتھ بیٹھے اور وہ بھی اتنا ہی کرپٹ لگے جتنے ہم کرپٹ ہیں، حبیب اکرم
“ شہباز گل نے عمران خان کے فون چرائے “ پہلے تحریک انصاف کے اندر شہباز گل کے مخالفین کا سکرپٹ تھا اب فوجی سکرپٹ ہے۔ گنڈاپور برادران کو بھی یہی لگتا تھا کہ انکے خلاف ہر سازش شہباز گل کرتا ہے۔ اب شفیع جان وغیرہ کی بھی یہی کہانی ہے۔ سوشل میڈیا ، ولاگرز ، یوٹیوبرز ، بے نامی اکاونٹس پر تنقید کو عوام اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ ابصار عالم جیسوں کے شوز میں جا کر بیٹھنے والا شفیع جان خود کو اور پختونخواہ حکومت کو بٹہ لگا رہا ہے۔ اگر پختونخواہ کو عوامی مقبولیت کی پرواہ ہے اور یہ خود کو مزید متنازعہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنی حکمت عملی بدلیں یا اپنے چہرے بدلیں۔ یہ حکمت عملی آپ کو مزید برباد کرے گی۔ شہباز گل کے خلاف عمران خان کو تحفظات ہوتے تو فواد چوہدری و دیگران نے کئی مرتبہ جیل ملاقاتوں میں عمران خان سے شہباز گل کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے کبھی ایسا کچھ نہیں کہا۔
شہباز گل بقلم خود
پارس جہانزیب بنام رانا ثنا 🔥🔥🔥
اونٹ جب منہ کھولتا ہے تو کیکر کے کانٹے کھاتا ہے یا پھر بے ڈھنگی سی آواز نکالتا ہے۔ رانا ثنا نے کشمیر پر ہونے والے قتل عام کو justify کرنے کے لیے منہ کھولا ہے تو پاکستان کے خلاف وہ بیان دے دیا جسکا شور ہندوستان مچاتا ہے اور پاکستان پر حملہ بھی کیا تھا۔ رانا ثنا فرماتا ہے کہ کشمیری مظاہرین میں ایسے لوگ شامل ہیں جیسے پاکستان نے دوسرے ملکوں میں لڑنے کے لیے تیار کیے تھے۔ اس نے تو ہندوستان کے موقف کی تائید کردی ۔ اسکا بیان پاکستان کی ترجمانی یے یا ہندوستان کی؟
جس دن عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا،
تو تحریک انصاف کے ایم این ایز افسردہ تھے، سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے آرام سے، یہاں تک کہ عمران خان بھی اپنے گھر آرام کر رہے تھے،
لیکن پورے پاکستان میں عوام عمران خان کے حق میں بہت بڑی تعداد میں باہر نکل آئی،
اس رات کے بعد سے عمران خان کی سیاست کا منظر نامہ بدل گیا تھا، شہزاد اقبال
پہلے جس سیاسی جماعت کو فارغ کیا جاتا تھا وہ فارغ ہو جاتی تھی،
ابھی تحریک انصاف ختم نہیں ہو پا رہی، چار سال انہوں نے بہت کوششیں کی، قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھین لیا، مگر الیکشن میں تحریک انصاف کی سب سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں تھیں، اطہر کاظمی
تم صدر بھی بن گئےوزیر بھی بن گئے چئیرمین بھی بن گئے نہیں بنے تو عمران خان کے وفادار نہیں جتنی سہولت کاری تم لوگوں نے کی ہے عاصم منیر کی شاید کسی نے کی ہو
یہ اس ملک کے ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کہہ رہا ہے
میں نے اپنے آپ پر بڑا جبر کیا، اپنے بچوں پر کیا، فیملی پر کیا لیکن آپ کے اس بھائی کو کوئی خرید نہ سکا، پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ابراہیم خان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اس پر باقاعدہ رپورٹ کیا مگر بجائے اس پر سپریم کورٹ کوئی ایکشن لیتی ان ججز پر ایک ٹاؤٹ مسلط کر دیا اور ان کے تبادلے کر دئے گئے
ایسے ملکوں میں کون انویسٹمنٹ کریگا
ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا ، بھٹو کو پھانسی دی۔ بینظیر ناتجربہ کار تھی۔ کچھ سیاسی مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ ایک دن خاموشی سے ملک سے باہر چلی گئی۔ فوجی جرنیل کو طویل حکومت کرنے کے لیے ملک میں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرف نے نواز شریف کو ڈیل آفر کی ، نواز شریف ملک سے چلا گیا۔ مشرف نے آٹھ سات سال لگا لیے۔ باجوہ نے شریف خاندان کو خاموش رہنے کا کہا تو مریم نواز کا سوشل میڈیا چھ مہینے کے لیے بند رہا۔ باہر جانے کی آفر آئی تو نواز شریف خصوصی جہاز میں دوسری دفعہ ملک سے فرار ہوگیا۔
عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بھی یہی کوشش یا توقع تھی کہ عمران خان ملک سے باہر چلا جائے یا خاموش ہوکر بنی گالہ بیٹھ جائے اور یہ سکون سے حکومت کریں۔ کیونکہ جب تک سیاستدان مزاحمت کررہا ہے ، کم یا زیادہ وہ جرنیل کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ عمران خان کی کمیونیکشن بند ہے ، پیغامات نہیں آرہے ، اسکے باجود کبھی کم کبھی زیادہ تحریک انصاف مزاحمت کررہی ہے۔ لانگ مارچ ہوئے ، جلسے اور ریلیاں ہوئیں ، نفرت آمیز تقاریر بھی ہوجاتی ہیں ، سوشل میڈیا ویسے ہی آنچ دھیمی نہیں کرتا۔
عاصم منیر کی بدقسمتی کہ کمزور اور بھی ہے اور بزدل بھی۔ خواہش کے باوجود سامنے آکر اقتدار پر قبضہ نہیں کرپارہا۔ کبھی آئینی ترمیم کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے ، کبھی سسٹم کو ناکام ٹھہرا کر اپنے لیے گنجائش کی لابئنگ بنا رہا ہے۔ بدقسمتی در بدقسمتی کہ بلوچستان ، پختونخواہ ، کشمیر میں بھی اسے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ عاصم منیر کو سب سے زیادہ خوف بھی تحریک انصاف سے ہے۔ بی ایل اے لاہور میں آکر حکومت نہیں کرنا چاہتی۔ کشمیری سینٹ میں مخصوص نشستیں نہیں مانگ رہی۔ عمران خان وہ پیرالل فورس ہے جس کے اقتدار پر عاصم منیر نے ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔
عاصم منیر کی شدید خواہش ہے کہ عمران خان باہر جائے یا بنی گالہ خاموش ہوکر بیٹھ جائے کہ تحریک انصاف کے مزاحمتی بیانیے کی کمر ٹوٹ جائے۔ بینظیر دو دفعہ جلاوطن ہوگئی ، نواز شریف دو دفعہ چلا گیا۔ جن چیزوں سے یہ دونوں خوفزدہ ہوکر گئے عمران خان اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ موازنہ ایک جیسوں کا بنتا ہے۔ باچا خان یا کسی صوبائی رہنما و علاقائی رہنما یا کسی پھتے ماجھے گامے کی جیل کا عمران خان کی جیل سے کوئی مقابلہ نہیں۔ فوجی جرنیل کو جو سپیس بینظیر اور نواز شریف نے بار بار دی وہ عمران خان مہیا نہیں کررہا۔ بس اتنا سا فرق ہے۔
ان کی باری آنے والی ہے ، ان کو عنقریب صحافت ، مظلومیت اور انصاف پرستی کا جنون چڑھنے والا ہے : یہ حکومت میں رہ کر بھی اتنے زبردست زیر عتاب آئیں گے کہ آپ دیکھیئے گا
عمران خان بد قسمت نہیں۔ جس کے لئے بے شمار ہاتھ اٹھتے ہوں، اتنے دلوں میں اس کی محبت ہو، جس کے لئے لوگ جان بھی دیتے ہوں وہ بد قسمت نہیں ہو سکتا۔ عمران خان کی زندگی کامیابیوں سے مزین ہے۔مشکلات بھی غیر معمولی آئیں لیکن آج تک تو یہی دیکھا کہ وہ ان سے سرخرو باہر نکل گیا!جو چاہا پایا۔
75 سال کی عمران خان کی زندگی گواہ ہے کہ عمران خان نے زندگی میں ایک بار بھی نہیں سوچا کہ اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا اگر لانگ مارچ ناکام ہوگیا تو کیا ہوگیا اگر تحریک ناکام ہوگئی تو کیا ہوگا اگر الیکشن میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا۔ اگر پہلے ہی سوچ یہ ہو کہ اگر ناکام ہوگئے تو کیا ہوگا تو پھر آگئی حقیقی آزادی!
پاکستان کی تاریخ میں عمران خان پہلا لیڈر ہے جس کو دینےکے لئے اسٹبلشمنٹ کے پاس کچھ نہیں ہے اسٹبلشمنٹ کہتی ہے ہم آپکی جائیداد آپکو واپس کردیں گے عمران خان کی کوئی فیکٹری ہے ہی نہیں بنی گالہ والا گھر بھی شوکت خانم کے نام ہے اسٹبلشمنٹ کہتی ہے ہم تمہیں رہا کردیں گے وہ کہتا ہے عدالتیں آزاد کردو یعنی یہ اس سے رعایتیں مانگتے ہیں اس کو رعایتیں دینے کے لئے ان کے پاس ہے ہی کچھ نہیں
اوریا مقبول جان
سلمان صفدر صاحب نے جج سے کہا کہ جیل سپریٹنڈنٹ سے پوچھیں کہ انہوں نے گزشتہ تین برس میں عمران خان کو عید کی نماز کیوں نہیں پڑھنے دی؟ لیکن جج صاحب نے سامنے کھڑے جیل حکام سے یہ سوال نہ پوچھا
باجی میں علاج کروا لیا تے ہن ٹھیک آں تسی بے شک چیک کر کے ویکھ لو ۔۔۔
ویسے تسی وی چیک کرواؤ تِلاوۃِ نِعال تے تَمَلُّق پرانے مرض نے، جاندے بڑھے اوکھے نئیں
اللہ شفا دیوے گا بندے کم دا کم اے کشش کرنا 🤲
بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ مسترد کر دی۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کی آج کی رپورٹ "فیک" اور گمراہ کن ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اپنی قانونی ٹیم سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان گزشتہ دس ماہ میں تقریباً چالیس مرتبہ ہر منگل اڈیالہ جیل گئیں، مگر ہر بار ملاقات سے محروم رہیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق عمران خان کسی دہشت گردی یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے مقدمے میں ملزم نہیں، جبکہ سائفر کیس میں بھی بری ہو چکے ہیں، اس لیے ملاقاتوں پر پابندی کی کوئی قانونی یا قومی سلامتی کی بنیاد موجود نہیں۔
پی آئی اے کا نیا چیف ایگزیکٹو لینڈ کرنے سے پہلے ہی پرواز کر گیا۔ ایتھوپئین ائیر لائنز کے سابق سربراہ تولدے گیبریماریم نے پی آئی اے کی بجائے ائیر انڈیا جوائن کر لی۔ اچھا پروفیشنل مشکوک طریقے سے بیچی ائر لائن چلانے سے پہلے ہی بھاگ کیا۔