موٹرسائیکل سوار لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وکیل بابو کو عدالت نے 48 گھنٹوں کے اندر رہا کر دیا
مل گیا انصاف عدالت کے زریعے ؟ پیٹرول پمپ والے لڑکے کی طرح انصاف بھی پسند نہیں ہے تشدد ہونے پر ماتم بھی کرنا ہے
اب بتائیں کونسا راستہ اختیار کرنا ہے ؟
بھارہ کہو، 150 غیر قانونی سوسائٹیاں اور آٹھ نئے میوزیم
تحریر/ادریس عباسی
کوئی دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں سملی ڈیم روڈ سے گزر رہا تھا کہ نیول فارمز کے سامنے والے نالے کے اندر ایک دیوار بنتی ہوئی نظر آئی۔ منظر دیکھ کر فوراً اندازہ ہوگیا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ زمین کسی کی ذاتی ملکیت بھی ہو تو قدرتی نالہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بن جاتا۔ نالہ پانی کی قدرتی گزرگاہ ہے اور اس کے اندر تعمیرات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہئیں۔
میں نے اسی وقت موقع کی تصاویر بنائیں اور ممبر انوائرمنٹ سی ڈی اے عرفان نیازی ، اور چیئرمین سی ڈی اے کے ڈائریکٹر سٹاف دونوں کو واٹس ایپ پر بھیج کر فوری کارروائی کی درخواست کی۔ مگر جواب ندارد ۔ایک مرتبہ نہیں، دوبارہ بھی یاد دہانی کرائی۔ مگر میری درخواست شاید فائلوں کے اس قبرستان میں دفن ہوگئی جہاں شکایات تو پہنچتی ہیں، کارروائی نہیں۔
آج بھی وہی نالہ موجود ہے، دیوار بن چکی ہے،اور کسی قبضہ مافیا نے بلڈوزر چلا کے پلاٹ تعمیر کر لیا ہے۔کچھ عرصہ بعد وہاں کوئ عمارت بنی ہو گی۔
میری آنکھوں کے سامنے گزشتہ بیس سالوں میں شاہ پور کورنگ نالہ میں دھیرے دھیرے زمین خوروں نے وسیع اور کشادہ نالہ بھرنا شروع کیا اور آج وہاں اکبر نیازی اسپتال سے لے کے ٹریڈرز کالونی تک تعمیرات مش روم کی طرح سر اٹھائے کھڑی ہیں۔
اب ذرا بارہ کہو کے ڈھوک جیلانی کا منظر دیکھیے۔ سی ڈی اے نے وہاں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ دکانیں گر رہی ہیں، پٹرول پمپ زد میں آ رہے ہیں، لوگوں کی کروڑوں اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری مٹی میں مل رہی ہے۔ سوال پھر یہی کہ یہ تجاوزات بننے ہی کیوں دی گئیں؟
جب بنیاد رکھی جا رہی تھی، اینٹ پر اینٹ رکھی جا رہی تھی، دکانیں تعمیر ہو رہی تھیں، پٹرول پمپ بن رہے تھے، بجلی کے کنکشن لگ رہے تھے، نقشے بن رہے تھے اور کاروبار شروع ہو رہے تھے تو سی ڈی اے کہاں تھا؟ کیا ادارے کی آنکھیں صرف اس وقت کھلتی ہیں جب عمارت مکمل ہوجائے، سرمایہ کاری کروڑوں تک پہنچ جائے اور غریب یا متوسط سرمایہ کار اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا چکا ہو؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جو بارہ کہو کے متاثرین بھی پوچھیں گے۔
اب خبر آئی ہے کہ محسن نقوی صاحب اسلام آباد میں آٹھ نئے میوزیم بنانے کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ اچھی بات ہے، میوزیم ضرور بنائیں، تاریخ محفوظ کریں، آثارِ قدیمہ بچائیں۔ لیکن ذرا پہلے سے شکر پڑیاں میں موجود میوزیمز کا حال بھی دیکھ لیجیے۔ وہاں روزانہ کتنے لوگ جاتے ہیں؟ کتنے پاکستانی اپنی تاریخ اور آثار دیکھنے کے لیے وہاں پہنچتے ہیں؟
اندیشہ ہے کہ کہیں ہم عوام کے لیے میوزیم بنانے کے شوق میں پہلے عوام ہی کو میوزیم کی چیز نہ بنا دیں۔
تجاوزات ضرور گرائیں، مگر اس وقت ہی جب وہ بنتی ہیں۔ اگر ایک نالے میں دیوار اٹھ رہی ہو ۔میرے جیسا کوئ شہری تصاویر سمیت اطلاع دے تو سی ڈی اے کے نچلے درجے کے اہلکار آ کے مک مکا کر لیتے ہیں۔کارروائی ہو تو اسی دن ہونی چاہیے، تیس سال بعد نہیں۔
کدھر گئی سابق چیئرمین محمد علی رندھاوا کی وزیر اعظم کو وہ بریفننگ جس میں اسلام آباد کی تجاوزات کے حوالے سے لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرنے کی نوید سنائی دی گئی تھی۔
کیا محسن نقوی صاحب یہ پالیسی بنائیں گے کہ آئندہ کوئ بھی تجاوزات گرانے سے قبل ان کی تعمیرات کے ذمہ دار افسروں کو سزائیں دیں۔
اسلام آباد فرانس کی طرح جل گیا تو کل تاریخ ہمیں یہ نہیں بتائے گی کہ اسلام آباد میں آٹھ نئے میوزیم بنے تھے؛ تاریخ یہ بھی پوچھے گی کہ جب شہر میں تجاوزات تعمیر ہو رہی تھیں تو سی ڈی اے کس میوزیم میں سو رہا تھا؟
ادریس عباسی
@CMShehbaz@CDAthecapital@SohailAshrafGor@DrTariqFazal@sherryrehman@DrMusadikMalik@TararAttaullah@MohsinnaqviC42@PalwashaKhan18@AyazSadiq122@AbsarAlamHaider
سابق امریکی صدر اوبامہ نے
صدر ٹرمپ کی تباہی پھیر دی۔
👇
ایران کے ساتھ جنگ کو غیر ضروری جنگ قرار دیکر کہا کہ جنگ ہمارے گلے پڑ چکی ہے۔
الٹا ایران کو آبنائے ہرمز پر"ویٹو پاور"حاصل ہو چکی
ٹرمپ نے سب برباد کر دیا
ہمارا اسلحہ اور میزائل ختم ہوچکے
ہمارے سینکڑوں امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہیں۔
ہمارے فوجی اڈے تباہ
اور
ہمارے اتحادیوں کا شدید نقصان ہو چکا۔
کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ پر تمسخر اڑاتے اوباما نے کہا کہ
" کینیڈا کے لوگ دنیا کے شریف ترین لوگ ہیں اور ٹرمپ نے ان سے لڑائی مول لے کر امریکی آٹو انڈسٹری اور عوام کے لیے قیمتیں بڑھا دیں"
اوبامہ نے ٹرمپ کو
اوباما نے ملک میں بڑھتے ہوئے اخراجات، ایندھن (گیس اور ڈیزل) اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے،
مہنگائی اور معاشی بحران
کا ٹرمپ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دے دیا
وائٹ ہاوس کی تزئین و آرائش کا مذاق اڑاتے اوبامہ نے کہا کہ
ٹرمپ نے اسے ایسے سونے کی چیزوں سے سنہری بنا دیا ہے کہ
جیسے صدام حسین نے اپنے محل کو بنایا ہوا تھا۔
اوباما نے الزام لگایا کہ ہم نے تاریخ میں کبھی ایسا صدر نہیں دیکھا جو عوام کے پیسوں پر اس طرح Grifting
(اپنے ذاتی کاروبار کو فائدہ پہنچانا) اور سیاسی فیورز بیچنے میں مصروف ہو۔
باراک اوباما نے امریکی ووٹرز پر زور دیا کہ مڈٹرم انتخابات اس "بے وقوفی" اور ٹرمپ کے اقدامات کو روکنے کا بہترین موقع ہیں۔ اس کی پارٹی کو ووٹ مت دیں۔
ایوا کرسٹن ہینسن ناروے کی وزیر اعظم نے کل استعفیٰ دے دیا ہے
اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے اک سرکاری گیسٹ ہاؤس کے ڈرائینگ روم میں کچھ دیر آرام کیا جو کہ اس کے گھر سے 29کلو میٹر دور تھا
جبکہ قانون کے مطابق اگر وہ گھر سے 40کلو میٹر ہوتی تو کوئی سرکاری ڈرائینگ روم استعمال کرسکتی تھی
اس نے کہا یہ ناروے کی پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی ہے لہذا وہ ڈرائینگ روم کا کرایہ بھی ادا کرے گی
واضح رہے کہ ناروے امن و امان اور آسان زندگی اور بلند ترین فی کس آمدنی میں نمبر ون ہے
شائد اسی وجہ سے کہ وہاں قانون زندہ ہے
Post By RuthlessZQ
Me: "Adolf Hitler said in Mein Kampf, 'The Jew works for the destruction of Germany.' You say, 'Muslim mass migration will destroy our country and our way of life.' How are those different sentences? Just change 'Jew' for 'Muslim.'
Trump adviser Steve Cortes: "No, they're incredibly different... here's the key difference. I'm talking about immigration."
My full @AJHeadtoHead show at Georgetown: https://t.co/NZ1mn8xLmr
2000 روپے کا چالان ہونے پر رکشہ ڈرائیور نے نہر میں چھلانگ لگا دی!
مریم نواز صاحبہ! یہ بات یاد رکھیے گا کہ اس دفعہ شاید لوگ آپ کو بھاگنے کا موقع بھی نہ دیں۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک غریب مزدور دن بھر میں بمشکل 1700 سے 1800 روپے کماتا ہے، مگر اس کے رکشے کا چالان 2000 روپے کر دیا جاتا ہے۔ اوپر سے 400 روپے کا پٹرول الگ!
سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں ایک شہری کے رکشے کا 2000 روپے چالان ہونے کے بعد نہر میں چھلانگ لگا دی
مریم نواز صاحبہ! کیا غریبوں کو اس لیے زندہ رہنے کا حق نہیں ۔
دوبئی کورٹ ۔ 15 مارچ 2021 کو ایک لڑکی پر ہاتھ اُٹھایا تو عدالت نے دس ہزار درہم جرمانہ کر دیا سزا الگ سنائی
پیرس کورٹ ۔ پچیس سالہ مرد نے ایک خاتون کے منہ پر مکے مارے تو چھ مہینے کی سزا اور دو ہزار یورو جرمانہ
پاکستانی عدالت ۔ ایک لاکھ مچلکے جمع کرواوں اور گھر جاؤ
یہاں جج کی بیٹی ہوتی یا کسی وکیل کی بیٹی ہوتی تو انہوں نے الٹ بازیاں لگانی تھی
سکوٹی والی بچی کو تشدد کا نشنانہ بنایا
پٹرول پمپ پر سگریٹ پینے سے منع کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا
موبائل چوری کی درخواست دینے آئی لڑکی خود زیادتی کا نشانہ بن گئی۔۔
جنگل کے بھی کوئی قانون ہوتے ہیں۔
📅دو نومبر انیس سو سترہ، لندن کا ایک چھوٹا سا دفتر، ایک شخص ایک میز پر بیٹھا ہے اور صرف سینسٹھ الفاظ لکھتا ہے۔ وہ سینسٹھ الفاظ ایسے تھے جنہوں نے پانچ ہزار سالہ تاریخ بدل دی، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے، اور آج تک خون بہہ رہا ہے۔
اس شخص کا نام تھا آرتھر جیمز بلفور، برطانیہ کا وزیر خارجہ۔ اس نے جو خط لکھا اسے آج دنیا بلفور معاہدہ کہتی ہے۔
📃خط صرف اتنا تھا:
"حکومت برطانیہ فلسطین میں یہودی لوگوں کے لیے ایک قومی گھر کے قیام کو اچھی نظر سے دیکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گی۔"
صرف ایک پیراگراف، ایک کاغذ کا ٹکڑا، اور اس پر کسی اور کی زمین کسی اور کو دے دی گئی۔
#یہ_پوسٹ_ہیسٹری_آف_ہیومن_پیج_کی_جانب_سے_پیش_کی_جاتی_ہیں۔
📃اس خط کی حقیقت کیا تھی؟
1️⃣پہلی حقیقت یہ کہ فلسطین اس وقت برطانیہ کا تھا ہی نہیں۔ انیس سو سترہ میں فلسطین خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ وہاں ترک فوج تھی۔ برطانیہ کا وہاں کوئی قبضہ نہیں تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں آپ کے گھر کا سودا اپنے دوست سے کر دوں، حالانکہ گھر میرا ہے ہی نہیں۔
2️⃣دوسری حقیقت یہ کہ برطانیہ نے یہ خط ایک امیر یہودی لارڈ روتھس چائلڈ کو لکھا تھا۔ روتھس چائلڈ وہ خاندان تھا جس نے برطانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے لیے پیسہ دیا تھا۔ برطانیہ پر اس خاندان کا بہت قرضہ تھا۔ بلفور نے یہ خط قرضے کے بدلے میں لکھا تھا۔
3️⃣تیسری اور سب سے خطرناک حقیقت یہ کہ اس وقت فلسطین میں صرف آٹھ فیصد یہودی تھے، بانوے فیصد مسلمان اور عیسائی تھے۔ فلسطین میں انیس سو سترہ میں چھ لاکھ مسلمان رہتے تھے۔ ان سے پوچھے بغیر، ان کی مرضی کے بغیر، ان کی زمین کا فیصلہ لندن میں بیٹھ کر کر دیا گیا۔
اس سازش کے پیچھے کون تھا؟
اس کے پیچھے دو لوگ تھے۔
1️⃣پہلا شخص تھا حیم وائزمین، ایک یہودی سائنسدان جس نے انگریز فوج کے لیے بارود بنانے کا فارمولا بنایا تھا۔ اس بارود کی وجہ سے برطانیہ جنگ میں جیت رہا تھا۔ وائزمین نے کہا کہ مجھے پیسہ نہیں چاہیے، مجھے فلسطین چاہیے۔
2️⃣دوسرا شخص تھا مارک سائیکس، ایک انگریز جاسوس۔ اس نے پہلے ہی فرانس کے ساتھ مل کر سائیکس پیکو معاہدہ کیا تھا جس میں طے ہوا تھا کہ خلافت ٹوٹنے کے بعد عراق برطانیہ لے گا، شام فرانس لے گا، اور فلسطین بین الاقوامی بنا دیا جائے گا۔ لیکن بلفور نے وہ معاہدہ بھی توڑ دیا اور فلسطین یہودیوں کو دے دیا۔
📃اس ایک خط کا نتیجہ کیا نکلا؟
انیس سو سترہ میں جب یہ خط شائع ہوا تو پوری دنیا کے یہودیوں نے جشن منایا۔ لیکن فلسطین کے مسلمانوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔
انیس سو اٹھارہ میں انگریز فوج فلسطین میں داخل ہوئی، عثمانی فوج کو نکالا، اور پھر اس نے یہودیوں کو جہاز بھر بھر کر فلسطین لانا شروع کر دیا۔ انیس سو بیس میں صرف دس ہزار یہودی لائے گئے، انیس سو پینتیس تک پانچ لاکھ یہودی لا کر بسا دیے گئے۔
۔🇵🇸فلسطینیوں نے احتجاج کیا تو انگریزوں نے ان پر گولی چلائی۔ انیس سو سینتیس میں جب فلسطینیوں نے ہڑتال کی تو انگریزوں نے ان کے گھروں کو بموں سے اڑا دیا۔
اور پھر چودہ مئی انیس سو اڑتالیس کو اسی ایک خط کی بنیاد پر اسرائیل کا اعلان کر دیا گیا۔ اس دن ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔ اس دن کو فلسطینی آج بھی یوم النکبہ یعنی تباہی کا دن کہتے ہیں۔
✨ایک کم معروف حقیقت جو کوئی نہیں بتاتا
کیا آپ جانتے ہیں کہ بلفور خود ایک سخت یہودی مخالف تھا؟ اس نے انیس سو پانچ میں برطانیہ میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت یہودیوں کو برطانیہ میں آنے سے روکا گیا تھا۔ وہ یہودیوں کو برطانیہ میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے کہا کہ انہیں فلسطین بھیج دو تاکہ وہ برطانیہ سے دور چلے جائیں۔ یہ محبت نہیں تھی، یہ نسلی تعصب تھا۔
اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ بلفور معاہدے کے بعد جب فلسطینیوں کا ایک وفد لندن گیا اور بلفور سے ملا اور کہا کہ آپ نے ہماری زمین کیوں بیچی، تو بلفور نے ہنس کر کہا کہ تمہاری اہمیت اتنی نہیں جتنی ایک یہودی کتے کی بھی نہیں ہے، ہم نے فیصلہ کر لیا ہے، اب یہ ہو کر رہے گا۔
ایک کاغذ، سینسٹھ الفاظ، اور پوری امت کا قبلہ اول آج تک جل رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک خط سے کسی کی زمین چھینی جا سکتی ہے؟ اگر آج کوئی آپ کے گھر کا خط کسی اور کے نام لکھ دے تو آپ کیا کریں گے؟
ـــــ
"میں کوئی ٹارگٹ نہیں ہوں، میں آپ لوگوں کی طرح جینا چاہتی ہوں ،آج اپنی سہیلی کے لیے رو رہی ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ کل میں خود خبروں کا حصہ بن جاوں گی "
غزہ کے بچوں کا کیا قصور ہے؟ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ان کی بات سن لیں۔
پاکستان کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس، بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر کارٹون اینیمیشن میں کنورٹ کر کے امریکہ اور جرمنی ویڈیوز فروخت کرنے والا گروہ پکڑا گیا ،
تین دفاتر سے 42 افراد گرفتار ، 12 بچوں کو بازیاب کرایا گیا ، ہزار ڈالر میں بچوں کی غیر اخلاقی اینیمیٹڈ ویڈیوز بنا کر فروخت کیا کرتے تھے۔
یہ کاروائی گلستان جوہر کے علاقے میں رابعہ سٹی کے تین فلیٹ میں کی گئی جہاں پر پکسل کرافٹ pixil craft ,
art office آرٹ افس
اور آرٹس ڈیزائن art design کے نام سے تین کمپنیاں چل رہی تھی,
تینوں کمپنیوں کے مالکان جن کے نام فدا حسین، دانش، محسن اور احسان ہیں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ، یہ تینوں کمپنیاں جرمنی اور امریکہ کے کلائنٹس سے رابطے میں تھی، ارٹ ورک کے نام پر کراچی میں کم عمر بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنواتے پھر انہیں کارٹون کی شکل دیتے، اور ہزار ڈالر میں فروخت کیا کرتے تھے، گروہ کے کارندے ہر بچے کو چھ ہزار روپے ایک ویڈیو کے دیا کرتے تھے۔
اس کمپنی کے ملازمین سوشل میڈیا پلیٹ فارم جن میں انسٹاگرام اور ٹوئٹر بھی شامل ہیں وہاں پر خواتین کے نام سے پروفائل بناتے اور بین الاقوامی کلائنٹ سے رابطہ کرتے، انہی اکاؤنٹس کے ذریعے انہیں ویڈیوز بھیجی جاتی ، تینوں کمپنیوں پر چھاپے کے دوران 40 سے زائد موبائل فون بھی برامد کیے گئے جنہیں فورنزک کے لیے بھیجا گیا ہے
کراچی کی 13سالہ بچی، ڈارک ویب کے خطرناک نیٹ ورک کا نشانہ بن گئی،این سی سی آئی اے نے بچی کو خود کو نقصان پہنچانے سے پہلے ہی بچالیا ۔ انٹرنیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کی اطلاع پر بچی کا سراغ لگایا گیا ،والدین بچی کی سرگرمیوں سے لاعلم۔تفصیلات دیکھیے
Macklemore says ‘being human is not complicated’ as he kicked off his Free Palestine tour on Thursday night. He returned to the stage for the first time since he was dropped as Ed Sheeran's supporting act after making comments in support of Palestine onstage.
Mel Gibson accused the television host and actress Ellen DeGeneres of cannibalism and claimed that she should be sentenced to death for partying on Epstein's island. Leonardo DiCaprio has said the same thing. The American actor and director claims that he and his team analyzed 3.5 million pages of Epstein and U.S. Department of Justice documents and discovered that DeGeneres is a key figure in Hollywood's darkest circles. She and DiCaprio allegedly ate people and engaged in various indecent practices related to child trafficking. Gibson claims that "Hollywood is full of pedophiles and cannibals." Therefore, a "mass purge" is necessary. He had the support of Congressman Tim Burchett, who stated that the United States "should take seriously the task of cleaning up the mess and putting an end to this epidemic."
You’d never know by this post that the five Israelis are armed IDF soldiers. But they made sure to tell you the Palestinians were definitely the bad guys. Tried, convicted, and sentenced in one headline.
آئیے ہم سب مل کر۔۔وہ تمام لوگ جو ماورائے عدالت قتل / انکاؤنٹرزکے خلاف ہیں۔ عدالتی حکم پر ظاہر جعفر کو پھانسی کی سزا کے فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کریں۔
کیا خیال ہے ؟
کون ساتھ نہیں دے گا اس مطالبے کا؟
@Aadiiroy2 بہت پہلے ہمارے آفس نے ایدھی کے لیے ایک ایپلیکیشن بنائی فری جس میں، اپنے کھوۓ ہوۓ پیارے کی تصاویر ڈالو اور ان کا ڈیٹا ریکارڈ سے میچ کرکے آپ کو دیکھا دے گا۔۔
مگر ایدھی نے یہ فری اپلیکشن لینے سے انکار کر دیا۔۔۔ سوچیں کیوں؟
@Aadiiroy2 ہر یتیم خانے میں بچوں کا ریکارڈ بمعہ تصویر آن لائین رکھنا لازمی ہو اور ساتھ ہر بچے کا ڈی این اے لازمی قرار دینا چاہیے حکومت کو
کئی بچے تو ایسے اپنے گھروں تک پہنچ جائینگے