@Demo4show 3.76 in BS Agriculture Sciences and got 3.92 in post graduation (Plant Science). I am interested in climate change, Food Security, Integrated disease management and Host plant resistance.
پولیس والے ڈالے پر آئے مجھ سے یہ کہہ کر جرابیں، دستانے اور ٹوپیاں لے گئے کہ صاحب کو دکھا آئیں اور گاڑی سٹارٹ کر کے بھاگ گئے
جب محافظ ہی چور بن جائیں تو عوام کیا کرے
سائفر کیس سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللّٰہ کے اہم ریمارکس
جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیر ملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے،کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ کیا نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنماؤں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ سابق وزیراعظم کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے،اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم عمران خان پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،
یہ کیسی ریاست ہے جو اپنی ہی عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رھی ہے۔
خدیجہ شاہ کی پانچ سالہ بیٹی اپنی ماں سے 7 ماہ سے دور ہے۔
سنیں خدیجہ شاہ کی امی سے۔
#KhadijahShah
جس خاتون زرینہ مری کا آپ ذکر کر رہے ہیں تو یہ بتائیں کہ آپ نے انکی رہائی کے لئے کیا کیا اور کتنے پروگرام کیے . اسی طرح پی ٹی آئ کی خواتین کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں اور اب تک کتنے پروگرام آپ نے اس موضوع پر کیے ؟
اور یہ بھی بتا دیں کہ عمران خان کے دور میں جو ہوا وہ کس نے کرایا اور آج کون کرا رہا ہے .
ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔