بلدیہ فیکٹری کو جلانے کا الزام بھی بالآخر ویسے ہی جھوٹا ثابت ہوا جیسے جناح پور، ٹارچر سیلز، را کی ایجنٹی، حکیم سعید، شاہد حامد کیس، نائن زیرو چھاپہ اور دیگر کئی کیسز جھوٹے ہی ثابت ہوۓ..
اس ملک میں سب سے آسان کام الزام لگانا،. سیاسی عداوت کو سرکاری سرپرستی میں نکالنا وغیرہ ہیں.
جن جے آئ ٹیز کو حرف آخر سمجھا جاتا رہا ہے اب انکا کردار بچا ہی کیا ہے..
پہلے دن سے یہ بات کہتا آیا کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ کو صرف سیاسی آپریشن کی وجہ. بنانے کے لئے استعمال کیا گیا، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں نے اس سانحے کو اپنی سیاست چمکانے لئے استعمال کیا اور پراپیگنڈا کا انتہا کردی گئی...
ایک فیکٹری کو اس طرح دانستہ جلادینا کسی طور اتنا آسان اور ممکن نہ تھا لیکن قربان جائیے اس نسلی عصبیت و نفرت کا کس طرح پورے واقعہ کو صرف ایک سیاسی جماعت اور لسانی اکائی کے خلاف ایک منظم آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا..
کتنے لوگوں کو جیو نیوز کے اس وقت کے نیوز کلپس یاد ہیں جن میں ابتدائی سی سی ٹی وئ فوٹیجز دکھائی جہاں نہ تو کوئ آگ لگاتا دکھائی دیا نہ کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دی. خبرنامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں. جن مین سے کچھ جیو نیوز نے حاصل کیں.
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آگ لگوائی گئی تھی تو اس سارے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں ریلیز نہیں کی گئی؟؟
کیوں صرف الزام پر الزام لگایا جاتا رہا؟
پوسٹ کے ساتھ جیو نیوز کی ایک بلیٹین شامل ہے جسے غور سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کسی طور ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ایک صنعتی حادثہ تھا.
کیا اب مخالفین باضابطہ کوئ معافی مانگیں گے؟؟ کیا وہ. لوگ جو جھٹ سے بلدیہ فیکٹری کا الزام لگاتے تھے اب اپنا منہ بند رکھینگے؟؟