کل کے دن صبح نو بجے عمران خان اور بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھے جانے پر سماعت ہونی ہے
جبکہ 11:30 پر القادر کیس کی سماعت ہے۔
ممبران اسمبلی کو بھرپور تعداد میں پہنچنا چاہیے۔
We files IHC petition against Imran Khan’s alleged solitary confinement, claiming he is kept in isolation for 22 hours a day, while Bushra Bibi remains confined for 24 hours.
Noreen khanum!
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، بڑی سے بڑی آفرز دی گئیں، لیکن کپتان کا جواب ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے 3 بنیادی مطالبات سامنے رکھے:
پہلا مطالبہ: قید میں موجود تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ: ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے اور فوری شفاف الیکشن ہوں گے۔
تیسرا اصول: ہم اقتدار میں آ کر کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، بلکہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
یہ ایک حقیقی مدبر (Statesman) کی نشانی ہے جو ذاتی عناد سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچتا ہے۔
کوفہ کے لوگوں کو پتا تھا کہ حضرت امام حسین (رض) راہ پر کھڑے ہیں، لیکن انہیں یزید کا خوف تھا، یزید کے ظلم کا خوف تھا، نہیں مدد کیلئے آئے، اور مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہوا، عمران خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
انٹرنیشنل میڈیا 🚨
عمران خان اس وقت قید تنہائی میں ڈیتھ سیل میں قید ہیں اور یہ انٹرنیشنل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ عمران خان کو روزانہ 23 گھنٹے ایک کمرے میں بند کرتے ہیں
خان کی سگی بہن علیمہ خان کے خلاف اس وقت گھٹیا کمپین چل رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی مزاحمت کر رہی ہیں۔
علیمہ خان کو آپ جتنا سپورٹ کروگے اتنا ٹاوٹس کو شدید تکلیف پہنچے گی 🔥
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 23-23 سال کی سزائیں سنا دی گئیں۔
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 286 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 286 سال
عمر سرفراز چیمہ: 286 سال
میاں محمود الرشید: 274 سال
انکے علاوہ بھی 4 اور ورکرز کو بھی آج سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے جیل میں تھے۔
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں۔
#PakistanUnderFascism
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔
اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FreeBushraBibi
#FreeImranKhan
دھماکے کرنے والے بھی کتنے معصوم ہیں ہمیشہ غریبوں کو مارتے ہیں ، پارلیمنٹ یا جی ایچ کیو کی طرف منہ نہیں کرتے ۔۔۔
مطلب دھماکے کرنے والوں کے دشمن بھی غریب عوام ہی ہے پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاسی حرامخور یا جی ایچ کیو میں بیٹھے جرنیل نہیں ۔۔۔👏👏👏👏
پی ٹی آئی GB ہنزہ کے کارکنان جنہوں نے دن رات محنت کرکے نیک نام کریم کو جتایا ان کا پورا حق ہے کہ وہ آئینی، جمہوری اور قانونی طریقے سے ان کی جانب سے کی جانے والی دھوکہ دہی پر ان کا محاسبہ کریں اور ان سے عمران خان کی
امانت واپس مانگیں۔
پی ٹی آئی کارکنان آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے اپنا یہ حق بھرپور طریقے سے استعمال کریں!
اور ان کا پرامن مکمل سماجی بائکاٹ کریں۔
یہ کون لوگ ہیں بھائ ؟
بجٹ کے ایک دن کے سیشن میں چاۓ اور دو وقت کے کھانے کے لئیے ایک کروڑ روپے مُختص کردئیے۔
یہ پارلیمانی لیڈر چاۓ بھی اپنے پیسوں سے نہیں پی سکتے ؟