NEW: 🇩🇪🇶🇦🇮🇱 Qatar is blocking German companies to sell military equipment to Israel, per Bild
Qatari sheikhs are endangering entire Volkswagen plants, as if the company’s crisis was not severe enough already.
Qatar’s sovereign wealth fund (QIA) is Volkswagen’s third-largest shareholder
Volkswagen and Israeli defence contractor Rafael signed a Letter of Intent in late April for the production of components for the Iron Dome air defence system at Volkswagen facilities.
The proposal was subsequently vetoed by QIA.
Hamburg-based shipping giant Hapag-Lloyd also suspended its planned acquisition of Israeli shipping company ZIM after it emerged that QIA holds a significant stake in Hapag-Lloyd.
برطانیہ کے ممکنہ اگلے وزیرِاعظم سمجھے جانے والے اینڈی برنہم کی غزہ کے حوالے سے لیبر پارٹی کے مؤقف پر معذرت، اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ
تفصیل: https://t.co/G0U9u5IggV
Every word Jaswant Singh Khalra said years ago is proving to be true, and the world is now witnessing the consequences of putting extremists in power in India.
"Pakistan International Airlines Corp. has shortlisted Tewolde Gebremariam, former chief executive officer of Ethiopian Airlines Group, for the role of its CEO, according to a person familiar with the matter." Bloomberg
نتھیاگلی سمیت پورے گلیات میں کنکریٹ کے بے ہنگھم پہاڑ بنائے جا رہے ہیں۔ گلیات میں بے ہنگھم تعمیرات کو اگر نہ روکا گیا تو گلیات کا قدرتی حسن اور موسم تباہ ہو جائیں گے۔۔ اس سے پہلے مری میں بھی کنکریٹ کے پہاڑوں نے قدرتی حسن اور موسم دونوں کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔۔
بلوچستان میں امن و امان قائم رکھنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کا صرف ایک حلقہ NA 260۔۔رقبے کے لحاظ سے پورے پاکستان کا 11% ہے(دنیا کے 85 ممالک رقبے کے لحاظ سے اس حلقے سے چھوٹے رقبے کے حامل ہیں)
تقریبا 99 ہزار مربع کلومیٹر کا یہ قومی اسمبلی کا حلقہ چاغی،نوشکی،خاران،واشک پر مشتمل ہیں۔
جو سوئزرلینڈ،اردن،اسرائیل،
متحدہ عرب امارات،آسٹریا،پرتگال،
آزربائیجان،چیک ریپبلک،ہالینڈ،ڈنمارک،سری لنکا،بھوٹان،آئرلینڈ سمیت دنیا کے 85 ملکوں کے اپنے اپنے رقبے سے بڑا صرف ایک قومی اسمبلی کا حلقہ ہے۔
اور اس حلقے کی آبادی صرف 10 لاکھ ہے،ساڑھے 3 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور
یہاں 1 کلومیٹر میں اوسطا صرف 10 لوگ آباد ہیں۔
اب ایسے صوبے میں ریاست کی رٹ قائم رکھنا اور امن و امان برقرار رکھ پانا کتنا مہنگا اور مشکل کام ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
جہاں بھارت۔۔اربوں ڈالرز جھونک کر چند ہزار بے روزگار افراد کو سرداروں یا چند سو افراد کے زریعے خرید کر دہشت گردی کے لیے تیار کرتا ہے اور پھر وہ اس طرح کے صوبے میں ایسی جگہوں پر آسانی سے چھپے بھی رہتے ہیں۔اور
جب/جہاں موقع ملے وہ منصوبہ بندی کر کے حملے کر کے پھر چھپ جاتے ہیں
قانون نافذ کرنے والے ادارے سینکڑوں حملے ناکام بناتے ہیں
وہ عمومی طور پر منظرعام پر نہیں آتے۔
لیکن دہشت گردوں کو کئی بار ناکام کوشش کر کر کے کبھی کوئی وقتی کامیابی مل جاتی ہے۔
ہمیں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراہنا چاہیے کہ وہ ایسی مشکل جگہ پر
ایسی مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
پاکستان نے خشک دریاؤں کو دوبارہ زندہ کرنے کا کامیاب تجربہ
پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے سال کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس دوران ایک ایسی کامیاب پیش رفت سامنے آئی ہے جو مستقبل میں ملک کی آبی صورتحال بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گزشتہ سال مون سون کے دوران آنے والے سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پاکستانی انجینیئرز نے ایک منفرد منصوبہ مکمل کیا، جس کے نتیجے میں اربوں لیٹر پانی زیرِ زمین ذخیرہ ہوا اور بعض علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح 11 فٹ تک بلند ریکارڈ کی گئی۔
یہ منصوبہ جنوبی پنجاب میں واقع متروکہ اولڈ میلسی کینال پر آزمایا گیا۔ اس نہر کی تقریباً 14 کلومیٹر لمبی پٹی کو صاف کیا گیا، برسوں سے جمع گاد اور مٹی نکالی گئی، 414 ریچارج ویلز تعمیر کیے گئے اور تین بڑے ریچارج پونڈز بنائے گئے۔ ان اقدامات کے ذریعے دریائے ستلج کے اضافی سیلابی پانی کو نہر میں منتقل کیا گیا تاکہ وہ آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھر سکے۔
اس منصوبے کے تحت تقریباً 12 ہزار ایکڑ فٹ، یعنی تقریباً 15 ارب لیٹر پانی، زیرِ زمین پہنچایا گیا۔ جدید سائنسی آلات اور پیزومیٹرز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح کئی مقامات پر 11 فٹ تک بلند ہوئی بلکہ پانی کے معیار میں بھی تقریباً 50 فیصد بہتری آئی۔ یہ نتائج جون 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بھی دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسے پاکستانی اور آسٹریلوی انجینیئرز نے مشترکہ طور پر تیار کیا، جبکہ پنجاب ایریگیشن ریسرچ کے ماہرین نے بھی اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کامیاب تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر بارش اور سیلاب کے اضافی پانی کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ زمین میں واپس پہنچایا جائے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کے ذخائر بحال کیے جا سکتے ہیں بلکہ مستقبل کے پانی کے بحران کو بھی بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اولڈ میلسی کینال 1924 میں تعمیر کی گئی تھی اور 1965 کے بعد عملی طور پر غیر فعال ہو گئی تھی۔ کئی دہائیوں سے بے کار پڑی اس نہر کو دوبارہ استعمال میں لا کر یہ ثابت کیا گیا کہ پاکستان میں موجود ہزاروں کلومیٹر طویل متروکہ نہریں، راجباہے اور خشک دریا بھی اسی طرز پر زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کے مؤثر مراکز بن سکتے ہیں۔
قدرت نے پاکستان کو زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا کی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے قدرتی آبی ذخائر موجود ہیں جنہیں مسلسل استعمال تو کیا جا رہا ہے، مگر دوبارہ بھرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ اگر ملک بھر میں ریچارج ویلز، ریچارج پونڈز اور متروکہ آبی گزرگاہوں کو منظم انداز میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ آبی ذخائر قائم کیے جا سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ صرف ایک کامیاب تجربہ نہیں بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید انجینیئرنگ، سائنسی تحقیق اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان اپنے پانی کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کر سکتا ہے۔ اگر اس ماڈل کو قومی سطح پر اپنایا جائے تو خشک دریا دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں، زیرِ زمین پانی بحال ہو سکتا ہے اور ہر سال ضائع ہونے والا سیلابی پانی ملک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن سکتا ہے۔
#pakistanriverupdates
پاکستان ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید
ابتدائی اطلاعات کے مطابق :
گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سے ایک خاتون کو اترے ہوئے دیکھا جس کا ہاتھ موٹرسائیکل سوار کھینچ رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے جس پر لڑکی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی
اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر فائر کھول دیا
گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا
پولیس کے مطابق :
خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم اس کا دفتر مے کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی
تاہم راستہ تبدیل کر کے اسے کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کرتے ہوئے مجھے محفوظ کیا- خاتون
اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں
گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے
گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی کو ملک بھر میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے
گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں
"ہواوے huawei پر دنیا میں پابندی بے وجہ نہیں"
چین نے باضابطہ طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا. چار دن پہلے، چین کی کمپنی ہواوے نے دنیا کا سب سے تیز سپر کمپیوٹر، لائن شائن، متعارف کرایا، جس کی رفتار 2.1 کوئنٹیلین آپریشنز فی سیکنڈ ہے — یعنی 1 کے بعد 18 صفر۔
اس کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے: اس مشین کو چلانے کے لیے 42 میگاواٹس بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ ہزاروں گھروں کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
چین اس سپر کمپیوٹر سے کیا حاصل کرتا ہے؟
1. یہ چین کو انتہائی درستگی کے ساتھ ورچوئل جوہری تجربات کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے اصل تجربات کی ضرورت کم ہو جاتی ہے — اس سے اخراجات کم ہوتے ہیں اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
2. یہ طوفانوں اور سیلاب جیسے قدرتی آفات کی پیش گوئی کر سکتا ہے، اس سے انسانی اور مادی نقصان کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔
3. یہ جدید الیکٹرانک سسٹمز کی ترقی ممکن بناتا ہے جو تقریباً غیر قابل ڈی کرپٹ ہوتے ہیں، اور دشمن کے سسٹمز میں بھی دخل اندازی کر سکتا ہے۔
4. یہ نئے ایسے مواد دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے جن کی حرارتی منتقلی میں بہترین کارکردگی ہو، جو صنعتی پیداوار، انجن سسٹمز، سیٹلائٹس، اور الیکٹرانک آلات میں انقلاب لا سکتی ہے۔
5. یہ چین کی مصنوعی ذہانت میں فوقیت کو مضبوط بناتا ہے، جسے عالمی تکنیکی قیادت کی طرف سب سے اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
مختصر یہ کہ یہ سپرکمپیوٹر ایک ذہنوں کی فیکٹری ہے۔ جس میں قوم کی ضروریات کا حساب کرنے اور ماڈل بنانے کی قابلیت زیادہ ہوگی، وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں نظریے سے عملی اطلاق کی طرف تیز تر بڑھے گی۔
WAPDA’s unbundling, initiated in 1997 was completed in 2007 . Consequently, all area electricity boards were converted into DISCOS and were placed under power division , ministry of energy along with NTDC ( currently known as NGC) . During the same year , WAPDA was placed under ministry of water resources . For last almost two decades WAPDA has no role in supply of electricity, cost recovery or maintenance of electricity distribution infrastructure . WAPDA since 2007 is mandated with strategic management of water resources, construction of reservoirs (dams) , hydropower stations, canals and mega water supply schemes. Electricity produced from hydro power plants under WAPDA’s management is supplied to NGC in bulk and thereafter the department has no role in entire spectrum of national grid / supply system. Despite passage of two decades, we at WAPDA continue to receive letters, complaints , and allegations for infrastructure faults , load shedding and billing issues.
I am writing this clarification because many of my worthy followers on this platform keep sending me messages related to issues they face concerning electricity bills, meters , transformers , solar/ net metering processes and distribution lines etc . WAPDA has absolutely no role in all of these matters. By reaching out to WAPDA and then waiting for response , people waste time in getting urgent complaints addressed from relevant authorities . This message is for information and awareness.
My heart aches hearing about the Lahore incident of a collapsed roof of a tuition center.
I can't imagine the pain parents must be going through. My prayers are with you all.
Europe’s record-breaking heatwave has claimed more than 1,300 excess deaths in just over a week, the World Health Organization (WHO) said on Sunday, warning that extreme heat has become a growing public health emergency fuelled by climate change.
—Gulf News
Le Canada salue le nouvel accord conclu entre les États-Unis et l’Iran. Nous remercions le Pakistan, le Qatar et les autres partenaires de la région pour le rôle indispensable qu’ils ont joué dans ces négociations.
Le Canada a clairement affirmé qu’un cessez-le-feu durable doit à la fois garantir la traversée sûre et sans entrave du détroit d’Ormuz et contrer la menace omniprésente que constitue le programme nucléaire iranien.
Pendant que les négociations se poursuivent, nous exhortons toutes les parties à dialoguer de bonne foi et à éviter l’escalade du conflit. Le Canada reste en contact étroit avec ses partenaires et se tient prêt à appuyer tout effort visant à apporter la stabilité et la paix durable dans la région, y compris au Liban.