میں بندۂ ناداں ہوں مگر شکر ہے تیرا
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہوت سے پیوند
اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند
تاثیر ہے یہ میرے نفس کی کہ خزاں میں
مرغانِ سحر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند
لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!
جن حلقوں سے مسلم لیگ نواز جیت رھی تھی ھاں سے ان کے امیدواروں کو ھروایا گیا یا ان نشستوں کے نتائج چار گھنٹوں سے رکے ھوئے ھیں۔
ایسے الیکشن لڑنے سے بہتر ھے جو آپ کو بڑے لوگ کہتے ھیں وہ کرلیا کریں،لوگوں کی توانائیاں اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ انتخابات کے ڈرامے پر نا خرچ کیا کریں۔
ٹوٹل اوقات اس ہائبرڑ نظام کی!
آپ نے اداروں سے غلط کام لیتے لیتے انہیں اتنا بے لگام کر دیا ہے کہ اب انہیں کسی بات کا خوف نہیں رہا۔ آج سے ایک سال قبل باقاعدہ دفتر سے واپڈا ملازمین کو اٹھا کر لایا گیا، میرے گھر کے میٹر میں انہی سے “تیلا” ڈلوایا گیا اور پھر کہا گیا کہ بجلی چوری کی FIR دو
جب بھی کوئی نیا نیوز چینل لانچ ہوتا ہے تو وہ پرانے دور کے سٹار صحافیوں کو اٹھاتے ہیں۔ انہیں بیس تیس چالیس لاکھ کا پیکج آفر کرتے ہیں۔ تین چار چھ مہینے بعد سیٹھ صاحب کو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صحافی ریٹنگ تو بالکل نہیں لے پارہا۔ پھر انہیں اسکی تنخواہ بوجھ لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر انہیں بتایا جاتا ہے کہ خرچے کٹ کریں اسکے بغیر بھی کام چل جائے گا ۔ سیٹھ کو اتبے عرصے میں حکومت اور فوج سے تعلقات بنانے کی سمجھ بھی آجاتی ہے سب سے پہلے تلوار انہی بڑے پیکج والے صحافیوں پر چلتی ہے۔ صحافی کو پھر یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ مجھے ایجنسیوں اور حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے نکال دیا گیا ہے۔
حالانکہ یہ صحافی ، انکے پلیٹ فارمز سب گڑے مردے ہیں۔ یہ تو وہ جملے ہیں جو اب لکھنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ کسی شہر کسی بازار میں چلے جائیں کسی دوکان ریسٹورنٹ میں اب کہیں بھی ٹی وی نہیں دیکھا جاتا۔ کسی گھر میں نیوز چینلز کوئی نہیں دیکھتا۔ پاکستان کی سینتالیس فیصد آبادی کی عمر اٹھارہ برس سے کم ہے۔اس آبادی کے نصف کو نا تو روف کلاسرا کا علم ہے ، نا ہی دو چار سے زیادہ کسی نیوز چینل کا۔ یہ شارٹس ، ریلز اور ٹک ٹاک دیکھتے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے آپ ایکس والوں کی اکثریت وقار بھنڈر سے لاعلم ہوگی ، بلال مارتھ کو نہیں پہچانتی ہوگی ، شیدو ویہلا دکھایا جائے تو کہیں گے یہ کون ہے۔ آپ چند ہزار کے لیے عمران ریاض اور کلاسرا کا بیف اہم ہوگا وہاں کئی کروڑ پتلو اور ندیم خادم کی لڑائی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے دور بدل گیا ہے پلیٹ فارمز بدل گئے ہیں۔
کچھ چیزیں حقیقت بھی ہیں۔ فوج کل بھی طاقتور تھی۔ فوج آج بھی طاقتور ہے۔ فوج میڈیا دخل دیتی ہے ، میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے ، میڈیا میں سکرینز بھی دلواتی ہے اور موٹی تنخواہیں بھی۔ انکی مرضی کے بغیر نا کل کوئی ٹی وی پر بیٹھ سکتا تھا نا آج بیٹھ سکتا ہے۔ عمران خان کے کل دور میں جتنے “مظالم “ رپورٹ کیے جاتے ہیں وہ آجکل ہر ہفتے ہوجاتے ہیں۔ ان ادوار کا آپس میں موازنہ بنتا ہی نہیں۔ اگر عمران خان کے دور میں سب فوج چلا رہی تھی تو فوج ویسا استحکام اور ویسی ترقی کیوں نہیں لاسکی؟ اگر عمران خان صحافیوں اور دانشوروں پر ظلم کروا رہا تھا تو کیوں مطیع اللہ جان کو اگلے روز رہا کروالیا؟ محسن داوڑ اور علی وزیر کے سامنے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا؟ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے دیا۔
ویسے بھی سب مل کر جن لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہ وہی ہیں جو الیکشن سے پہلے کہتے تھے تحریک انصاف چالیس پچاس ، یہ وہی ہیں جو عمران خان کے دور کی چھ فیصد گروتھ ، بڑھتی ہوئی ایکسپورٹس اور سرمایہ کاری کو ڈیفالٹ اور اب مکمل بربادی کو معیشت بہتری کی طرف گامزن کہتے ہیں۔ خفیہ فوجی اثاثوں کی ایک لاٹ تھی جو رجیم چینج کے بعد ننگی ہوئی اس سے پہلے سب نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ والے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اتنی بڑی انڈسٹری میں اسد طور ، مطیع اللہ جان اور احمد نورانی کے علاوہ کوئی اور قابل ذکر مثال ملتی ہی نہیں جس نے اپنا ماضی کا موقف برقرار رکھا ہو۔ یہ آپ کے دلائل اور بحث سے نہیں ماننے والے۔ کرنل بدل گئے تو اگلے دور میں ہوسکتا ہے یہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
پاکستان کے سب سے زیادہ سنے دیکھے والے نیوز یوٹیوبر صحافی نے چھ سات ہزار اوسط ویوز لینے والے صحافی کو خواہ مخواہ موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ساتھ کچھ مزید لوگوں چھلانگیں لگا کر صورتحال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔ روف کلاسرا کی ریٹنگ تو ایک طرف تیس پینتیس نیوز چینلز ملا کر شہباز گل اور عمران ریاض جتنے نہیں دیکھے جاتے۔ معلوم نہیں عمران ریاض بھائی نے یہ مردہ کیوں اکھاڑ کر سڑک پر رکھ دیا ہے۔ ایک روف کلاسرا ؟ چالیس نیوز چینلز ، دو سو صحافی ، آئی ایس پی آر ، فائر وال ، اربوں کا بجٹ عمران خان کے یوتھیوں نے پاؤں کی کچی انگلی کے نیچے رکھ کر مسل دیا ہے۔ لہذا گزارش ہے کہ ان کے ساتھ متھا کر اپنا اور قوم کا قیمتی وقت برباد مت کریں۔ زیادہ مسئلہ ہو تو چپکے سے ہمارے کان میں ڈال دیں۔ یہ دلیل نہیں تذلیل کے لائق ہیں۔
شفقت محمود
اسد عمر
عبد الحفیظ شیخ
شیریں مزاری
خسرو بختیار
نورالحق قادری
حماد اظہر
شوکت ترین
آمین اسلم
رزاق داؤد
شہزاد ارباب
عشرت حسین
بابر اعوان
شہزاد اکبر
ظفر مرزا
شمشاد اختر
ثانیہ نشتر
معید یوسف
شہبار گل
فیصل سلطان
نکال لو CVs
گیلانی صاحب اس گاؤں سے اپنی سیاسی تاریخ میں صرف 2012 کے ضمنی الیکشن جیتے تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پی ٹی آئی نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا اور شاہ محمود قریشی نے یہ الیکشن نہیں لڑا تھا مقابل امیدوار عبد الغفار ڈوگر اس وقت سیاست میں نووارد تھے اور سید یوسف رضا گیلانی
گیلانی صاحب اس گاؤں سے اپنی سیاسی تاریخ میں صرف 2012 کے ضمنی الیکشن جیتے تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پی ٹی آئی نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا اور شاہ محمود قریشی نے یہ الیکشن نہیں لڑا تھا مقابل امیدوار عبد الغفار ڈوگر اس وقت سیاست میں نووارد تھے اور سید یوسف رضا گیلانی
یہ جناب علی موسیٰ گیلانی صاحب کے حلقہ این اے 151 کے یونین کونسل جلال آباد شمالی کے ایک پولنگ اسٹیشن کے دو مختلف فارم 45 ہیں
اور اس گاؤں میں تو گیلانی صاحب اس وقت بھی نہیں جیتے تھے جب 2022 کے ضمنی الیکشن میں انہیں عبد الغفار ڈوگر کے حمایت یافتہ امیدوار تھے
یہ جناب علی موسیٰ گیلانی صاحب کے حلقہ این اے 151 کے یونین کونسل جلال آباد شمالی کے ایک پولنگ اسٹیشن کے دو مختلف فارم 45 ہیں
اور اس گاؤں میں تو گیلانی صاحب اس وقت بھی نہیں جیتے تھے جب 2022 کے ضمنی الیکشن میں انہیں عبد الغفار ڈوگر کے حمایت یافتہ امیدوار تھے
گیلانی صاحب @SyedMusaGillani کا چیلنج اچھا ہے۔ عمران خان کو باہر لائیں، الیکشن لڑائیں۔ ساتھ یقینی بنائیں کہ صرف 40 پولنگ اسٹیشنز سے 12 ہزار 609 ووٹ مسترد نہ ہوں
حلقے کے 241 پولنگ اسٹیشنز سے صرف 3946 ووٹ،، اور 40 اسٹینشنز سے 12609 ووٹ مسترد ہو جائیں تو ایسے الیکشن کو کیا کہیں؟