اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا کوئی نہیں ہے۔
مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی
کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا
اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.
پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔
اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا
چٹائی بچھائی جاتی
کرتے نہیں ہیں عشق میں محبوب سے سوال
جب کہہ دیا ہے جھـوم تو بس جھومتے رہـو
سیدھا نہیں یہ راستہ بل دار بھی نہیں
یہ تـو مـدارِ یار ہـے بس گھــــــومتے رہو
#قومی_زبان
" بہادر مارے جاتے ہیں ،
ذہین پاگل ہو جاتے ہیں ، اور دُنیا بے وقوفوں سے بھری
رہتی ہے ۔ "
بزرگ بلکل ٹھیک کہتے ہیں جہالت بہت بڑی نعمت ہے ، شعور آپ کو تکلیف میں ڈال دیتا ہے اور یہ وہ تکلیف ہے جو عوام کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے ، جس تکلیف میں آپ اکیلے ہوتے ہیں۔🖤