بچپن سے ہی مجھے سورۃ القریش حفظ تھی، لیکن جب میں نے اس کی تفسیر پڑھی تو میرے دل میں اللہ تعالٰی کا خوف اور زیادہ بڑھ گی
1- یہ سورت چار آیات پر مشتمل ہے۔ "لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ" سورۃ قریش کی یہ پہلی آیت ہماری زندگی کے ایک اہم مسئلے یعنی «نعمتوں کا عادی ہو جانا (إِلْفُ النِّعْمَة)» پر بات کرتی ہے۔
میں نے پہلی بار نعمتوں کا عادی ہو جانے پر اس طرح کا عتاب و تنبیہ سنی ہے۔
اہلِ قریش پہلے فقر، بھوک اور ایک سادہ و بدوی زندگی کے عادی تھے۔
2- حالت یہاں تک پہنچ جاتی تھی کہ جب ان میں سے کوئی شدید فقر کا شکار ہوتا، تو وہ اپنے گھر والوں کو "خباء" (ایک الگ تھلگ جگہ/خیمے) میں لے جاتا اور وہ سب وہاں بھوک سے مرنے کے لیے بیٹھ جاتے۔
جاہلیت کے دور میں اس رسم کو "الإعتفار" (اعتفار) کہا جاتا تھا۔
3- قریش کا ایک بڑا خاندان تھا جسے "بنو مخزوم" کہا جاتا تھا۔
وہ شدید بھوک سے مرنے کے قریب تھے۔ جب ان کی یہ خبر "ہاشم بن عبد مناف" (جو کہ ایک بڑے تاجر تھے) تک پہنچی، تو انہیں بیت اللہ کے پڑوسیوں میں اس قدر جہالت اور فقر کی موجودگی پر بہت دکھ اور افسوس ہوا۔
4- چنانچہ ہاشم بن عبد مناف نے آگے بڑھ کر اس بری رسم کو ختم کیا اور ان سے کہا: "تم نے ایک ایسی رسم بنا لی ہے جس کی وجہ سے عربوں میں تمہاری تذلیل ہو رہی ہے، حالانکہ تم اللہ تعالی کے گھر والے ہو اور لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں۔"
5- پھر انہوں نے قبیلے کو مختلف شاخوں (عشائر) میں تقسیم کیا اور ہر مالدار کو حکم دیا کہ وہ اپنے خاندان کے غریبوں کے ساتھ اپنا مال تقسیم کرے، یہاں تک کہ غریب بھی مالدار کی طرح (خوشحال) ہو گیا۔
انہوں نے ان کو تجارت کے اصول سکھائے اور ان کے لیے سال میں دو تجارتی سفروں کا نظم قائم کیا: "سردیوں اور گرمیوں کا سفر"۔
6- گرمیوں میں شام (Syria) کا سفر، جہاں انہوں نے پھلوں کی تجارت سیکھی، اور سردیوں میں یمن کا سفر، جہاں انہوں نے زرعی پیداوار کی تجارت سکھائی۔
یہاں تک کہ شام اور یمن کی خیر وبرکت مکہ میں آنے لگی، وہاں کے رہنے والوں کے حالات بہتر ہو گئے اور "اعتفار" کا خاتمہ ہو گیا۔
پھر اہل قریش نے اللہ کا شکر ادا نہ کر کے نعمت کی ناشکری کرنا شروع کر دی
(نعمت کی ناشکری یہ ہے کہ انسان اس کا عادی ہو جائے اور اسے نعمت ہی نہ سمجھے)۔
7- جب قریش اور اہل مکہ اللہ کی نازل کردہ نعمتوں کے عادی ہو گئے (اور شکر بھول گئے)، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا الٰہی حکم نازل فرمایا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں:
{فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ}
(پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا فرمایا)۔
عام طور پر لوگوں پر اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اگر وہ اس کی باقی تمام نعمتوں پر اس کی عبادت نہیں کرتے تو کم از کم اس ایک ظاہر و باہمی نعمت یعنی (نعمت کے قائم رہنے) پر ہی اس کی عبادت کر لیں۔
8- اور بھوک کے بعد انہیں کھانا کھلانے اور خوف و دہشت میں زندگی گزارنے کے بعد انہیں امن و امان عطا کرنے پر۔ {أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ}
نعمت کے ایسے عادی نہ بنو کہ اس کا انکار کرنے لگو، بلکہ اللہ کا شکر ادا کرو تاکہ اس کی نعمتیں تم سے محبت کرنے لگیں۔
اللہ کی نعمت پر خوش ہوا کرو اور اس کا شکر ادا کرو، خواہ وہ تمہیں ہزارویں بار ہی کیوں نہ ملی ہو، کیونکہ صرف نعمت کا قائم رہنا ہی اپنے آپ میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
نعمت کا عادی ہو جانا اور اس پر شکر نہ کرنا ناشکری اور ظلم ہے۔
9- اپنی زبان پر ہر وقت "الحمد للہ" جاری رکھو۔
اسے اپنے دل کے اخلاص، رضا اور یقین کے ساتھ کہو، کیونکہ اس کا اجر بہت عظیم ہے…
اے اللہ! تیری ذات کے جلال اور تیری عظیم سلطنت کے شایانِ شان تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔
اے اللہ! ہمیں وہ علم عطا فرما جو ہمیں نفع دے، اور جو علم تو نے ہمیں دیا ہے اس سے ہمیں نفع پہنچا، اور ہمارے علم میں اضافہ فرما۔
"سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"
(پاک ہے تو، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے تو نے ہمیں سکھایا ہے، بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے)۔ کاپیڈ
میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی ہوگی
ہر بار یہی لگا کہ میں حضرت یوسفؑ کی پوری کہانی جانتی ہوں۔
کنواں
غلامی
قید اور پھر بادشاہت۔
لیکن آج میری نظر ایک ایسی چیز پر جا کر ٹھہر گئی جسے میں ہر بار پڑھ کر بھی نظر انداز کرتی رہی تھی
وہ تھیں... تین قمیضیں۔
اللہ چاہتے تو صرف واقعات بیان کر دیتے، مگر انہوں نے تین مختلف مقامات پر تین مختلف قمیضوں کا ذکر کیا
جیسے وہ ہمیں سکھا رہے ہوں کہ:
کبھی کبھی ایک انسان کی پوری روحانی اور جذباتی زندگی صرف تین قمیضوں میں سمٹ جاتی ہے۔
اور شاید ہم سب بھی انہی تین قمیضوں سے گزرتے ہیں
پہلی قمیض
وہ قمیض جس پر جھوٹا خون لگا دیا گیا۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی جب اسے حضرت یعقوبؑ کے پاس لائے...
تو وہ صرف ایک قمیض نہیں تھی
وہ حسد کا اعلان تھی
جھوٹ کی گواہی تھی
ایک باپ کے دل پر چلنے والی تلوار تھی
لیکن حضرت یعقوبؑ نے قمیض دیکھی اور بات سمجھ گئے
اور فرمایا:
"پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں"
تب مجھے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک پہلی قمیض ضرور آتی ہے
ایک دھوکہ
ایک جھوٹا الزام
ایک ایسی جدائی جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا ہوتا
اور سب سے زیادہ درد اس بات کا نہیں ہوتا کہ لوگ بدل گئے
بلکہ اس بات کا ہوتا ہے
کہ جنہیں ہم نے اپنا سمجھا
وہی ہمیں تنہا چھوڑ گئے۔
بعض اوقات
اللہ ہمیں دشمنوں کے ذریعے نہیں آزماتے
وہ ہمیں اپنوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔
شاید تم بھی ابھی پہلی قمیض میں ہو۔
کسی کی بے وفائی ابھی تک دل میں زندہ ہے۔
کسی کی باتیں ابھی تک راتوں کو جگاتی ہیں۔
کسی کی جدائی نے تم سے تمہاری ہنسی چھین لی ہے۔
اگر ایسا ہے
تو یاد رکھو
پہلی قمیض کہانی کا اختتام نہیں ہوتی۔
یہ صرف آغاز ہوتی ہے۔
پھر دوسری قمیض آتی ہے۔
اس بار وہ خون آلود نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگے تو یہی پھٹی ہوئی قمیض ان کی پاکدامنی کی دلیل بن گئی۔
لیکن عجیب بات یہ ہے...
پہلی قمیض پر لگا خون جھوٹ تھا،
دوسری قمیض کا پھٹنا سچ کی گواہی بن گیا۔
گویا اللہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں:
کہ جھوٹ وقتی طور پر جیت سکتا ہے
لیکن ہمیشہ نہیں۔
اگر تم سچے ہو
تو تمہیں ہر ایک کو اپنی صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی
اللہ تمہارے لیے ایسے ثبوت پیدا کر دیتے ہیں
جن کے بعد دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
لوگ تمہارا نام خراب کر سکتے ہیں
لوگ تمہاری عزت چھیننے کی کوشش کر سکتے ہیں
لیکن اگر اللہ عزت دینے والا ہو
تو پوری دنیا بھی اسے چھین نہیں سکتی۔
پھر سال گزرتے ہیں۔
آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں۔
کنواں ختم ہوتا ہے
تو غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
غلامی ختم ہوتی ہے
تو قید شروع ہو جاتی ہے۔
میں نے یہاں رک کر سوچا
حضرت یوسفؑ نے آخر کبھی شکایت کیوں نہیں کی؟
شاید اس لیے
کیونکہ انہیں منزل پر یقین تھا
اگرچہ راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اور یہی ایمان ہے
جب راستہ دھندلا ہو
لیکن دل کو منزل پر یقین ہو۔
پھر آخرکار
تیسری قمیض آتی ہے۔
اب نہ اس پر خون ہے
نہ دھوکہ
نہ الزام
صرف شفا
حضرت یوسفؑ نے فرمایا:
میری یہ قمیض لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔
یہ صرف آنکھوں کی روشنی کی واپسی نہیں تھی
یہ امید کی واپسی تھی
صبر کا صلہ تھا
اور برسوں کی دعاؤں کا جواب تھا
اللہ دیر کرتے ہیں، مگر بھولتے نہیں
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر غافل کبھی نہیں ہوتے
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تین قمیضیں صرف حضرت یوسفؑ کی نہیں
ہم سب کی بھی ہیں
کبھی ہم پہلی قمیض میں ہوتے ہیں
ٹوٹے ہوئے
کبھی دوسری میں
اپنی سچائی ثابت کرتے ہوئے
لیکن مسئلہ یہ ہے
ہم تیسری قمیض بہت جلدی چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں فورا شفا دے دیں
لیکن ہم ابھی تک پہلی قمیض پر لگے خون کو دھونے میں لگے ہوتے ہیں
ہم اب بھی ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
کاش وہ دھوکہ نہ ملا ہوتا
کاش وہ شخص نہ ملا ہوتا
کاش وہ جدائی نہ ہوئی ہوتی
کاش وہ الزام نہ لگتا
مگر شاید اللہ فرما رہے ہوتے ہیں:
اگر پہلی قمیض نہ ہوتی تو صبر نہ سیکھتے
اگر دوسری نہ پھٹتی تو تمہارا کردار ظاہر نہ ہوتا
اور اگر یہ دونوں نہ ہوتیں تو تیسری قمیض کی قدر بھی نہ ہوتی
شاید اسی لیے سورۂ یوسف کو بہترین قصہ کہا گیا
کیونکہ یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں
ہر اس دل کی کہانی ہے
جو آج رو رہا ہے
لیکن کل مسکرائے گا
اگر آج تم پہلی قمیض میں ہو تو مایوس نہ ہونا
اگر دوسری میں ہو تو ثابت قدم رہنا
اور اگر ابھی تک تیسری قمیض نہیں ملی تو جلدی نہ کرنا
جس رب نے خون آلود قمیض سے کہانی شروع کی
اسی رب نے شفا دینے والی قمیض پر اسے مکمل کیا
اس لیے اگر آج تمہاری زندگی میں صرف پہلی یا دوسری قمیض ہے
تو یاد رکھنا
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہی الحکیم…
آج تمہاری کہانی بھی لکھ رہا ہے
اور جب اللہ کہانی لکھتے ہیں۔
تو کوئی داغ ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی الزام ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی آنسو ہمیشہ نہیں رہتا
آخرکار
ہر صبر کرنے والے کے لیے
اللہ ایک تیسری قمیض ضرور رکھتے ہیں۔
💕❤️حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرامؓ *مکہ کی تپتی دھوپ میں طویل پیدل سفر کی وجہ سے شدید تھک گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول سے اس تھکن اور مشقت کی شکایت کی۔آپ نے آرام کرنے یا رکنے کا نہیں کہا، بلکہ ایک حیرت انگیز سائنسی اصول بتا دیا *💕❤️
ایک حکیم سے پوچھا گیا:
زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
حکیم نے کہا اس کا جواب لینے کےلیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔
سب دوست رات کو جمع ہوگئے۔
اس نے سوپ کا ایک بڑا برتن سب کے سامنے لا کررکھ دیا۔
مگر سوپ پینے کے لیے سب کو ایک ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا۔ اور سب کو کہا کہ آپ سب اپنے اپنے لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے۔ ہر شخص نے کوشش کی،مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا۔ کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔ سب بھوکے ہی رہے۔ سب ناکام ہوگئے تو حکیم نے کہا:
میری طرف دیکھو۔ اس نے ایک چمچ پکڑ ا،
سوپ لیا اور چمچ اپنے سامنے والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔ اب ہر شخص نے اپنا اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔ سب کے سب بہت خوش ہوئے۔
سوپ پینے کے بعد حکیم کھڑا ہوا اور بولا:
جو شخص زندگی کے دسترخوان پر اپنا ہی پیٹ بھرنے کا فیصلہ کرتا ہے، وہ بھوکا ہی رہے گا۔ اور جو شخص دوسروں کو کھلانے کی فکر کرے گا، وہ خود کبھی بھوکا نہیں رہے گا۔
دینے والا ہمیشہ فائدہ میں رہتا ہے، لینے والے سے۔
ہم سب کی کامیابی کا راستہ دوسروں کی کامیابی سے ہوکر گزرتا ھے.
اللہ پاک ھمیں اپنا اور دوسروں کاخیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے
بھیڑیے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا ؟
کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں
بھیڑیا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا ؟
کتا: نہیں
بھیڑیا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں
بھیڑیا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے ؟؟
کتا: نہیں
بھیڑیا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں
بھیڑیا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا ؟؟
کتا: ہاں
بھیڑیا: انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟
کتا: وہ اسے بھیڑیا کہتے ہیں
بھیڑیا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ بھیڑیا بن کر رہو
مگر تم نے انسانوں کے تحفظ کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا
میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں،
ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں،
اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو بھیڑئیے کے طور پر بیان کرتے ہیں
تمہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ انسان اپنے جلادوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہیں
اور اپنے وفاداروں اور ہمدردوں کی توہین کرتے ہیں
(ہسپانوی ادب کے انتخاب " غلامی کی آخری رمق " سے اقتباس)
LateNight Literature
تھوڑا سا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں
“ آپ کو دفنا کر کے واپس آتے ہی آپ کے لواحقین کا دھیان رخصت ہوتے ہوئے مہمانوں کے کھانے کے بندوبست کی طرف جائے گا کہ انھیں کھانا کھلا کر رخصت کرتے ہیں۔
ایک ہفتہ گزرے گا آپ کے بچوں کے سکول واپسی کا سلسلہ شروع ہو جائے۔
دو ہفتے گزریں گے افسوس کرنے والوں کا آنا جانا بند ہو جائے گا۔
تین ہفتوں تک آپ کی قبر کی زیارت روزانہ سے دو یا تین دن بعد پر آ جائے گی۔
ایک ماہ گزرے گا گھر میں واپس ٹی وی چلنا شروع ہو جائے گا۔
تقریبا ڈیڑھ ماہ بعد آپ کے بچے واپس فلموں ، گانوں کارٹونز کی جانب آ جائیں گے۔
آپ کی قبر کی زیارت جمعہ جمعہ یعنی ساتویں دن ہو جائے گی۔
دو ماہ تک آپ کی بیوی یا شوہر کسی بات پر ہنس لیا کریں گے۔ تھوڑا مسکرا لیا کریں گے۔
چار ماہ تک گھر میں واپس بالی وڈ ہالی وڈ موویز گانوں کا مکمل راج ہو چکا ہو گا۔
مزاحیہ باتوں پر قہقہے گونج رہے ہوں گے۔
چھے ماہ گزرے آپ کی قبر پر اب مہینے میں ایک بار چکر لگتا ہے۔
ایک سال گزرا اور گھر والے سوچیں گے
“ آج پورا سال ہو گیا۔ آخری بار قبر پر کب گئے تھے؟ شاید ایک ماہ پہلے؟ آخری بار دعا کب کی تھی ؟ شاید یاد بھی نہیں۔”
یقین کریں آپ جتنے بھی توپ کیوں نا ہوں محض ایک سال میں آپ سورہ دہر کی پہلی آیات کا عملی نمونہ ہوں گے
“ انسان پر ایک ایسا دور بھی تھا کہ وہ کچھ نہ تھا۔”
بے شک یہ پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ آپ اسے وفات کے بعد بھی سوچ لیں
ہم آپ چاہے جتنے بھی لوگوں کے محبوب ہوں
ہم کچھ نہیں، ہماری اوقات کچھ نہیں
یااللہ ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں ہمارا خاتمہ خیر پر فرمانا آمین
ایک سنسان راستے پر ایک آدمی اپنے گدھے کے ساتھ جا رہا تھا۔
اچانک گدھے کا پاؤں پھسلا… اور وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔
گڑھا بہت گہرا تھا… نکلنا ناممکن لگ رہا تھا۔
گدھا خوف سے چیخنے لگا… اور مالک اسے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگا،
مگر سب بے فائدہ…
وقت گزرتا گیا… اور آخرکار وہ آدمی تھک ہار کر ایک سخت فیصلہ کر بیٹھا۔
اس نے سوچا:
“یہ ویسے بھی مر جائے گا… کیوں نہ اسے جلدی دفنا دوں…”
اور اس نے گڑھے میں مٹی ڈالنا شروع کر دی۔
پہلی بیلچہ مٹی گدھے پر گری… وہ کانپ اٹھا 😔
مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو جھٹکا…
مٹی کو گرا دیا… اور اسی مٹی پر ایک قدم اوپر چڑھ گیا۔
پھر دوسری بار… پھر تیسری بار…
ہر بار وہ مٹی کو جھٹکتا… اور ایک قدم اوپر آ جاتا۔
آدمی مٹی ڈالتا رہا…
اور گدھا ہر بار اس مٹی کو اپنی ترقی کا زینہ بناتا گیا۔
آخرکار…
وہ لمحہ آ گیا جب گڑھا تقریباً بھر چکا تھا…
اور اچانک! 😳
گدھے نے ایک زبردست چھلانگ لگائی… اور باہر آ گیا!
آدمی حیران رہ گیا…
اور گدھا سکون سے آگے بڑھ گیا… جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
پیغام:❤️
زندگی میں لوگ آپ پر مٹی ڈالیں گے…
مشکلات آپ کو دبانے کی کوشش کریں گی…
مگر کامیاب وہی ہوتا ہے
جو ہر مشکل کو جھٹک دے
اور اسے اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر اوپر اٹھتا جائے ✨
#post #MoralStory #viralpost
سوال : 📿سر میں نے ایک لیکچر میں سنا تھا کہ "لا حول ولا قوة إلا باللّٰه" کی تسبیح ۔۔۔۔۔تو آپ نے کہا تھا کہ یہ تسبیح ذرا سوچ سمجھ کے پڑھنا۔۔۔۔ویسے تو یہ شیطان کو بھگانے کے لیے ہے۔۔۔سر اس سے کیا مراد ہے ؟
جواب: 📿دیکھو ہمارے لوگ عموماً اس کو شیطان بھگانے کے لیے پڑھتے ہیں مگر اگر انسان کو خدا کی طرف جانا ہو نا تو یہ سب سے بڑی تسبیح ہے ۔۔۔ دیکھو ہم کہتے ہیں کہ جی اپنے ہاتھ میں نہ لو خدا کے فیصلے، ہم لیتے ہیں ناں۔۔۔۔؟ تو ابھی تو خدا نے فیصلہ ہی نہیں کیا ہوتا۔۔۔
📿فرض کرو کہ بچہ پیدا ہونے والا ہے ۔۔۔وہ بیچارہ آیا ہی نہیں ۔۔۔تو تم نے چھ نام رکھے ہوتے ہیں اُس کے ۔۔۔۔تو خدا سے پہلے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔یہ ہے
📿اور جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں اُسکو اپنے ہاتھ میں نہ لو ۔۔۔ایک تو یہ ہے ۔۔۔اسکا اصلی مطلب بتاؤں کہ جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں وہ اپنے ہاتھ میں نہ لو۔۔۔جو اپنے ہاتھ سے کرنے ہیں وہ خدا کے سپرد کر دو۔۔۔۔اب سمجھ آئی۔۔۔؟
📿بھئ جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں ان میں دخل نہ دو وہ تمہارے نہیں ہیں تم زبردستی اُن فیصلوں کو اپنا سمجھتے ہو۔۔۔۔ اگلے سال کیا ہوگا مکان بنے گا ،نہیں بنے گا۔۔۔۔تم فضول فکروں میں پڑے ہوتے ہو۔۔۔ وہ ساری باتیں اللّٰه کے ذمے ہیں۔۔۔۔
۔Job ملے گا نہیں ملے گا..... او بھائی...! آرام سے امتحان دے کر بیٹھ جاؤ۔۔۔ تمھارا کام امتحان دینا ہے۔
📿 لا حول ولا قوة إلا بالله .... اس کا مطلب ہے ۔۔۔نہ میری قوت، نہ میرا ارادہ ۔۔۔جو کچھ ہے میرے اللّٰه کا ہے۔
📿پھر میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔ اگر میں چالاک آدمی ہوں تو سب سے بڑی چالاکی یہی ہے کہ میں اپنے کام سے فارغ ہوا۔۔۔ اور میں نے کہا اللّٰه میاں۔۔۔ سنبھال تُو مالک ہے، تُو کریم ہے ،مجھے بھی تو سمیٹ لے جسے تُو چاہتا ہے، ویسے گزار دے مجھے ۔۔
📿پھر اللّٰه کسی کا بُرا نہیں چاہتا
كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12)
میں نے لکھ دیا ہے کہ میں اپنے بندوں پر مہربانی کروں گا۔
اللّٰه کے ہاتھ میں بات چلی جائے تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں رہتا۔۔۔۔!
ظہیر الدین بابر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بار انہیں شدید خارش کی بیماری لاحق ہوگئی۔ حالت یہ تھی کہ اگر کپڑا بھی جسم کو چھو لیتا تو تکلیف سے چیخ نکل جاتی۔ ان کے مخالف شیبانی خان کو جب یہ خبر ملی تو وہ عیادت کے بہانے آیا، مگر دراصل اس تکلیف کو دیکھ کر دل میں خوش ہونا چاہتا تھا۔
بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے خود کو مکمل شاہی لباس میں ڈھانپ لیا، سر پر تاج رکھا اور پورے وقار کے ساتھ دربار میں آ بیٹھا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ رہا، اس کے ساتھ کھانا بھی کھایا، مگر بابر نے اپنی تکلیف کا ایک لمحہ بھی ظاہر نہ ہونے دیا۔ نہ چہرے پر شکن، نہ آواز میں درد۔
جب مہمان واپس چلا گیا تو بابر نے فوراً لباس اتار دیا۔ دربار کے لوگ حیران رہ گئے—اس کا جسم سرخ ہو چکا تھا، جگہ جگہ آبلے بنے ہوئے تھے، مگر اس نے پورا دن خاموشی سے برداشت کیا۔
زندگی کا حاصل یہی ہے کہ دنیا کو ہمارے دکھوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اس لیے اگر ہم بیمار ہیں تو بیماری کو چہرے پر نہ آنے دیں۔
اگر غریب ہیں تو غربت کو اپنی شخصیت پر حاوی نہ ہونے دیں۔
اگر ناکام ہیں تو ناکامی کو اپنے انداز میں نہ بسنے دیں۔
اگر خوف زدہ ہیں تو خوف کو اپنی آواز اور آنکھوں تک نہ پہنچنے دیں۔
اور اگر کم علم ہیں تو اسے اپنی گفتگو پر غالب نہ آنے دیں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کمزور کو نہیں، مضبوط نظر آنے والے کو قبول کرتی ہے—ورنہ لوگ انسان کو جیتے جی بھلا دیتے ہیں۔
منقول
لاہور میں ایک جوس کی دکان بہت مشہور تھی۔ لوگ دُور دُور سے اُس کا جوس پینے آتے تھے۔
ذائقہ بھی لاجواب، اور دکان پر ہر وقت رش لگا رہتا تھا۔
ایک دن کسی نے دکان کے مالک سے پوچھا:
“آپ کے اس کامیاب کاروبار کا راز کیا ہے؟ آخر ایسی کیا بات ہے کہ لوگ بار بار آپ ہی کے پاس آتے ہیں؟”
وہ مسکرایا اور بولا:
“راز صرف جوس میں نہیں… نیت میں ہے۔ ہم گلاس کے ساتھ ایک گلاسی مفت دیتے ہیں۔”
لوگ حیران ہوئے۔ پھر کسی نے پوچھا:
“یہ آئیڈیا کہاں سے آیا؟”
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
“میں نے زندگی کا آغاز مالٹے بیچنے سے کیا تھا۔ اُس وقت مالٹے دو روپے درجن ہوتے تھے… مگر میں درجن میں 13 مالٹے دیا کرتا تھا۔”
لوگ فوراً کہتے:
“بھائی! درجن تو بارہ کی ہوتی ہے!”
میں ہنس کر جواب دیتا:
“آپ کی ہوگی… میری درجن تیرہ کی ہے۔”
پھر اُس نے ایک ایسی بات کہی جس نے سب کو خاموش کر دیا:
“بارہ دینا کاروبار ہے… لیکن تیرہواں دینا برکت ہے۔”
وہ بولا:
“میں وہ اضافی مالٹا گاہک کے لیے نہیں دیتا تھا… میں وہ اپنے رب کے لیے دیتا تھا۔ کیونکہ جب انسان لوگوں سے زیادہ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اللہ اُس کے تھوڑے میں بھی بے حساب برکت ڈال دیتا ہے۔”
پھر اُس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
“میں نے اپنے رب سے کاروبار کیا تھا… اور اُس کے ہاں کبھی گھاٹا نہیں ہوتا۔”
آج اُس کی چھوٹی سی ریڑھی ایک بڑی دکان بن چکی تھی۔ لیکن اُس نے آج بھی اپنا اصول نہیں بدلا:
“نفع صرف پیسوں میں نہیں ہوتا… کچھ نفع دعاؤں میں بھی ہوتا ہے۔”
واقعی…
بغیر صلے کی امید کے کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا، اضافی اچھائی کرنا، اور دل بڑا رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔
جو انسان لوگوں کے لیے ایک قدم بڑھاتا ہے، اللہ اُس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ❤️
کتنی خوبصورت بات ہے نا! ہم اکثر صرف حساب کتاب میں الجھے رہتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل حساب تو اوپر والا کرتا ہے۔
اس کہانی کا لبِ لباب:
نیت کا اثر: جب کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اس میں برکت خود بخود آ جاتی ہے۔
تیرہواں مالٹا: یہ وہ اضافی اچھائی ہے جو آپ کسی کے لیے بغیر کسی لالچ کے کرتے ہیں۔
خسارے سے پاک سودا: اللہ کے ساتھ کیا گیا کاروبار کبھی نقصان نہیں دیتا۔
آنے والی رُتوں کے آنچل میں
کوئی ساعتِ سعید کیا ہو گی
رات کے وقت رَنگ کیا پہنوں
روشنی کی کَلید کیا ہو گی
جب کہ بادل کی اوٹ لازم ہو
جانتا ہوں ، کہ دِید کیا ہو گی
چاند کے پاس بھی سُنانے کو
اب کے کوئی نوید کیا ہو گی
گُل نہ ہوگا توجشنِ خوشبو کیا
تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی !!
پروین شاکر
اگر آپ ذہنی دباؤ یا بے سکونی کا شکار ہیں تو محض دوا پر بھروسا مت کریں، بلکہ سب سے پہلے اپنی نیت، عادات اور طرزِ فکر میں تبدیلی لائیں۔ ایک نیا طرزِ زندگی اختیار کریں جو عبادت، خدمتِ خلق اور مثبت سوچ پر مبنی ہو۔
#MentalHealth#InnerPeace#PositiveThinking#SpiritualGrowth
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
———————————
جناب سلیم کوثر کی غزل
میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ....
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
سلیم کوثر
عوام اور نوری مخلوق کے درمیان فاصلے کو اس تصویر سے زیادہ بہترین انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔عزت ماآب جناب ڈی پی او رحیم یار خان شہید پولیس اہلکار کے گھر تشریف لے جاتے ہیں جہاں نظریں جھکائے ، ہاتھ باندھے رعایا کے لوگوں کو درخت کی آڑ سے عالی جا کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ شہید کی فیملی سے ایک شخص کو سموں صاحب کے پاس بیٹھنے کی اجازت ہے
کپڑوں جوتوں اور بناؤ سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ شعور اور گفتگو پر کام کریں کوئی بھی انسان دس سیکنڈ تک آپ کے بناؤ سنگھار سے متاثر ہو سکتا ہے لیکن اس کے بعد آپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے۔