Building beyond borders. In 2025, every achievement was driven by our 47M+ users, valued partners, and a shared vision.
Growing today, evolving tomorrow, bridging innovation with real-world impact.
Gate is your Gateway to the Future.
@ImranRiazKn Imran bahi ,imran khan InshaAllah jaldi riha ho jaye ge .. but what about these …… people. They can never be our friends … ak post ker dety han aur logo ko fingers per nachana start ker dety …
قالَ ﷺ:
جنت میں سو درجے ہیں، جنہیں الله نے الله کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے. جب تم الله سے (جنت کا) سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ افضل و اعلی جنت ہے.
بخاری 2790
رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دِکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تووہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعدادپوری کرلے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے، اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ( تم روزوں کی) گنتی پوری کرلو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دِکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو، اور تاکہ تم شکر گذار بنو۔
﴿سورۃ البقرۃ، ۱۸۵﴾
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں:
نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ اعتکاف نہیں کر سکے تو جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس (20) دن کا اعتکاف کیا.
ترمذی 803
(ماجہ 1770؛ مسند احمد 3997؛ المستدرک للحاكم 1601؛ مشکوٰۃ 2102)
اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:
نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے. اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں.
بخاری 2026
(مسلم 2784؛ ترمذی 790؛ ابوداؤد 2463؛ مسند احمد 4008؛ مشکوٰۃ 2097)
حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں: رسول ﷺ کے اصحاب ؓ نے ایک دن آپ ﷺ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا، تو رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم سنتے نہیں؟ کیا تم سنتے نہیں؟ (یعنی سنو اور یاد رکھو) بیشک سادگی ایمان کا حصہ ہے، بیشک سادگی ایمان کا حصہ ہے."
ابوداؤد 4161
(ماجہ 4118؛ مشکوٰۃ 4345)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے ( جو قبول کی جاتی ہے ) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں ۔“
(صحیح بخاری، ۶۳۰۴)