Elon Musk has spent the past year obsessing over Pakistani child-rape gangs in the UK.
Meanwhile, allegedly, in his own immediate family: https://t.co/Jw5Pnxcful
🚨 #Balochistan#EnforcedDisappearance!!! 🚨
Fareed Baloch, a Master's student at Punjab University’s Education Department, was "forcibly disappeared" by #Pakistan’s security agencies — right from the university campus in Lahore.
A student. A civilian. Silenced.
@UN@amnesty
مجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتے ہو؟
گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر وہی غیر روایتی ہلچل ہوئی۔ بڑا پھاٹک کھلا اور کچھ گاڑیاں تیزی سے جیل کے اندر چلی گئیں۔ باقی گاڑیوں کے سوار اندر ہی بیٹھے رہے۔ ایک گاڑی سے دو لوگ اترے اور تیزی سے ایک بیرک کی طرف بڑھ گئے۔ راہداری میں انکے قدموں کی آواز گونجی اور آہستہ آہستہ یہ آواز قیدی کے قریب ہوتی چلی گئی۔
دروازہ کھلنے کی طرف قیدی کا دھیان نہیں گیا تھا۔ وہ لیٹا کسی سوچ میں گم تھا۔ لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ ایک کی بجائے دو لوگوں کے قدموں کی چاپ ہے تو اسے اندازہ ہوگیا کہ یہ سنتری نہیں وہی ملاقاتی آرہے ہیں۔ اسکے لبوں پر اچھل کر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔ سر کو جھٹکا دیا اور پھر کچھ سوچنے لگا۔
ملاقاتی سیل کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ قیدی نے ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی۔ وہ دونوں ملاقاتیوں کو پہچانتا تھا۔ منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ملاقاتی کھڑے رہے۔ کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر گویا ہوئے
“پھر کیا سوچا؟”
قیدی تھوڑی دیر تو لیٹا رہا۔ ملاقاتیوں پر نظریں جمائیں اور صرف اتنا کہا
“کم از کم سوال ہی بدل لو”
ملاقاتی تھوڑے سے کھسیانے ہوئے۔ لیکن مکمل تیاری کیساتھ آئے تھے۔
“ دیکھو، تم جیل میں ہو ، تمہارا آدھا خاندان جیل میں ہے اور آدھا سڑکوں پر۔ تمہارے اوپر ریڈ لائن لگا رکھی ہے۔ تمہاری ملاقات تک ہماری مرضی سے ہوتی ہے۔ اب تم مکمل بے بس ہو۔ ہماری بات مان جاؤ”
بے بس کہنے پر قیدی کا چہرہ تن گیا۔ تھوڑا س�� غصے میں آیا اور بولا
“ میں آج بھی قوم کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہوں میری حکومت ،،،،“
ملاقاتیوں نے قیدی کو جملہ مکمل ہی نہ کرنے دیا۔ زیادہ تواتر سے آنے والا ملاقاتی بولا
“ کونسی حکومت ؟؟؟؟؟ خون تو اب تم اپنی پارٹی کی رگوں میں بن کر نہیں دوڑتے” ، “ کتنا عرصہ ہوگیا ہے تمہیں اپنے وزیراعلی کو ملاقات کے لیے بلواتے ہوئے؟ کتنا وقت ہوگیا ہے تمہیں فوجی آپریشن کا رکوانے کا کہتے ہوئے؟ ڈرون حملوں پر ایف آئی آر دینے کا کہتے ہوئے؟ کوئی ہیش رفت ہوئی؟ تمہاری کوئی بات سنی گئی؟ اب جو تمہارے نام سے جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ تم اپنی جماعت سے ہی مائنس ہوچکے ہو۔اب وہ تمہاری نہیں ہماری حکومت ہے اور تمہاری نہیں ہماری جماعت ہے ”
اب دوسرے ملاقاتی کی باری تھی۔
“ ابھی تمہیں صرف تمہاری ��ارٹی سے مائنس کیا ہے۔ اگر اب بھی ہماری بات نہیں مانو گے تو ،،،،،،،، “
دوسرے ملاقاتی نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
پہلے ملاقاتی نے واپس پلٹتے ہوئے کہا
“ میری حکومت ،،،،، “
دوسرے ملاقاتی نے قہقہہ لگایا۔ دونوں چلے گئے۔
قیدی کتنی ہی دیر چھت کو گھورتا رہا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے جیسے کسی فلم کے ٹکڑے چل رہے تھے۔ کبھی اسکے سامنے لاکھوں کا مجمع آجاتا، کبھی زیر تعمیر شوکت خانم ، کبھی جمخانہ کی گراونڈ تو کبھی بنی گالا کا گھر۔ فلم بنتی رہی وہ ٹکڑے جوڑتا رہا۔ پھر اسکے سامنے چہرے آنا شروع ہوگئے۔ والدہ ، بچے ، والد ، اہلیہ، بہنیں اسکے بعد اسکے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔
ایک خیال نے اسکے دماغ میں جنم لیا
“کیا میرے لوگ مجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ؟”
اس نے دل ہی دل میں خودکلامی کی
“ کیا علی امین مجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتا ہے؟”
“کیا میرے ہی نامزد کردہ لوگ مجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں؟”
“کیا اپنے کیا پرائے کیا یہ سب مجھے ٹوٹا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں؟”
“جن کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا کیا وہ لوگ مجھے ٹوٹا ہ��ا دیکھنا چاہتے ہیں؟”
کافی دیر وہ خود سے یہ سوال کرتا رہا اور یوں ہی سوچتا سوچتا سو گیا۔
@MoeedNj اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ باقی دنیا میں “کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے” ذہنیت والا غلیظ اور بیغیرت نسل نہیں ہے جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ زندگی کے ھر شعبے میں ان کا استحصال ہو رہاہے اور اس استحصال کو بخوشی قبلیت بخشی ہے کیونکہ ان کا پسندیدہ کھوتا کرسی پہ بیٹھا ہے