متنازعہ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے والی وزیر صاحبہ سے فوری استعفی لیا جائے اور اس بل کے پیچھے چھپے محرکات جاننے کے لئے ہائی لیول انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، گھروں کی چادر اور چار دیواری پامال کر کے کیا وزیر صاحبہ اس مُلک میں خانہ جنگی کروانہ چاہتی ہیں ؟
وزیراعظم صاحب ٹوئین ٹاور کے معاملے پر کمیٹی نے ایک ہفتے میں رپورٹ دینی تھی آج ایک مہینہ بیس دن ہوگئے لگتا ہے اس معاملہ پر بھی مٹی ڈالنے کیلئے تو کمیٹی نہیں بنائی۔
امریکہ سے ایک وفد آیا تھا جس میں ڈاکٹر، بزنس مین اور عمران خان کے خیرخواہ شامل تھے، جو عمران خان کو منانے کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے کہ اب چپ چاپ سسٹم کو مان لیں اور بنی گالا میں خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔ اگلے الیکشن میں چیف الیکشن کمشنر سب مل کر لگائیں گے اور اگلے الیکشن کی بات کریں۔
لیکن عمران خان نے اس پر “absolutely not” کہا اور ہر طرح کی ڈیل کو ٹھکرا دیا!اجمل جامی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متنازعہ ٹیلی کام کے بل پر فوری طور پرگیارہ رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو تین دن میں اس کی متنازعہ شقوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
سینٹ یا قومی اسمبلی سے کوئی ایک بھی اپوزیشن ممبر اس کمیٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے یہ حکومتی کمیٹی ہے لہذا اس میں اپوزیشن کے بندے نہیں ڈالے گئے۔
وزیراعظم کی کمیٹی میں وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ بھی شامل ہیں جنہوں نے بل بنایا اور اس کو vet کیا تھا۔ سیکرٹری انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضرار ہاشم خان کے علاوہ وفاقی وزیر احد چیمہ بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں۔ نواز شریف دور کے سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفراللہ بھی کمیٹی کے ممبر ہیں۔
@CMShehbaz@PalwashaKhan18@afnanullahkh@MIshaqDar50@sherryrehman@A_Qadir_Patel@naveedqamarmna@ShazaFK@AzamNazeerTarar@SyedAliZafar1@BarristerGohar
جب کراچی میں غریبوں کے بچے چرس سے مرتے رہے تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا مگر جب ایک ایم این اے کا بیٹا اور ایک سینیٹر کی بیٹی کوکین سے مر گئے تو پنکی کو اٹھا لیا گیا ، شبر زیدی
ایک بھی پختون لیڈر کی مذمت نہیں دیکھی، پھر اصرار کیا جاتا ہے کہ آپ قبائلی سوچ اور عورتوں کے بارے میں پسماندہ سوچ پر کیوں تنقید کرتے ہیں؟کم از کم صوبائ اسمبلی اس فعل پر مذمت ہی کر دے!!
عباسی صاحب مری میں نتھیا گلی سے پانی آتا ہے۰ اور اس کے پانی کے واجبات بھی نہیں ادا کئے جارہے جو 64 ارب تک پہنچ گئے ہیں۰ نتھیا گلی میں بھی خیبر پختونخواہ حکومت پانی لفٹ کرکے لاتی ہے جس پر خطیر بجلی استعمال ہوتی ہے۰ آبادی کی وجہ سے اب نتھیا گلی میں بھی پانی کی کمی ہوگئ ہے اور مقامی لوگ سراپا احتجاج ہیں۰ پنجاب حکومت 1947 سے مری کے لئے پانی کا منصوبہ نہیں بنا سکی۰ بیچ میں ایک منصوبہ جہلم سے پانی کی لائن کا بنایا جس پر کوئ کام نہیں ہوا۰ اس سے اندازہ لگا لیں پنجاب حکومت کی مری کے مسائل کے لئے دلچسپی۰ آگے جا کر واجبات اور پانی کی فراہمی دونوں مسائل پر پنجاب کو جلد از جلد فیصلہ لینا ہوگا
پاکستانیوں نے گوشت ،دودھ اور انڈے بلکہ گندم اور چاولوں کا استعمال بھی پہلے سے کم کردیا ہے ،یعنی لوگوں کی پہلے جیسی قوت خرید ہی نہیں رہی ،
اگر گندم کا استعمال بھی کم ہورہا ہے تو اسکا مطلب ہے لوگ ضرورت کے مطابق خوراک افورڈ نہیں کر پارہے اس لیے کھانا کم کردیا ہے ،
مفتاح اسماعیل
جولائی سے حکومت کا زوال شروع ہو ناں ہو ، آپ سب کا کباڑا نکلنا شروع ہو جائے گا ، مفتاح اسماعیل صاحب سے سنئیے کہ کیوں ضروری استعمال کی تقریباً تمام اشیاء مہنگی ہونے جارہے ہیں ؟👇
ایک ملک دو قانون
الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو مخصوصی سیٹوں کو اہل قرار دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی درخواست مسترد کردی۔
سنی اتحاد کونسل کو اس بنیاد پر آئینی بینچ نے سیٹیں دینے سے انکار کیا تھا کہ تھا کہ انہوں نے عام انتخابات میں خود کوئی سیٹ نہیں جیتی، استحکام پاکستان پارٹی نے بھی کوئی سیٹ نہیں جیتی مگر ان کو مخصوص سیٹوں کے اہل قرار دیدیا گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اچھا اقدام ہے لیکن ناکافی ہے !
اگر @PTIofficial حکومت میں @ImranKhanPTI
100 ڈالر پر بیرل کا خرید کر عوام کو 150 روپے لیٹر پہ بیچ رہے تھے تو @CMShehbaz کیسے عالمی مارکیٹ میں ہم سے کم 74 ڈالر پر بیرل کا خرید کر اب بھی 299 یعنی تقریباً 300 روپے لیٹر بیچنا چاہتے ہیں۔
عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں۔
اگر پیٹرول کی قیمت نواز شریف کی 2017 والی قیمت پہ نہیں لا سکتے جس کے دعوے اور وعدے کیئے جاتے تھے تو کم از کم عمران خان کے دور کی رجیم چینج کے وقت 2022 کی قیمت پہ ہی لا کر دکھاؤ۔
چلو ہمت کرو !
ایک سو نیتنیاہُو ہمارے شہید آیت اللہ خامنائ کے جوتوں کے تسمے کے برابر بھی نہیں۔ آیت اللہ کی شہادت کا اصل بدلہ یروشلم کی آزادی ہوگی۔
باقر غالیباف
ایرانی پارلیمانی لیڈر
عالمی منڈی میں جب تیل 76 ڈالر فی بیرل تھا تو پاکستان میں پٹرول 250 روپے اور ڈیزل 280 روپے فی لیٹر تھا
اب عالمی قیمت کم ہو کر 73 ڈالر رہ گئی ہے مگر پاکستان میں پٹرول 299 روپے اور ڈیزل 311 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے
یہ وہ حیرت انگیز معاشی فارمولا ہے جس میں قیمتیں عالمی منڈی کے ساتھ صرف اوپر جاتے ہوئے جڑتی ہیں
نیچے آتے ہوئے نہیں
یعنی جب تیل مہنگا ہو تو فوراً اعلان ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ کا دباؤ ہے عوام کو برداشت کرنا ہوگا لیکن جب تیل سستا ہو تو اچانک یہ دباؤ کہیں غائب ہو جاتا ہے اور حساب کتاب کسی اور ہی دفتر میں چلا جاتا ہے
نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو ہمیشہ مہنگائی کا پورا حصہ ملتا ہے مگر ریلیف کا حصہ ہمیشہ کہیں راستے میں کھو جاتا ہے
جنگ سے پہلے پیٹرول جس قیمت پر تھا اس سے نیچے جائے گا تو ریلیف ورنہ یہ ڈھکوسلے ہیں ۔ خطے کے ممالک سے موازنہ کریں تو شہباز شریف اور ان کے حواریوں کو شرم آنی چاہیے
یہ ڈیڑھ سو روپے لیٹر پیٹرول کو بھی مہنگا کہتے تھے۔