اس مختصر کلپ میں آپ کو 2 تاریخی حقائق سے آگاہی ہوگی
۔
۱: عطا تارڑ کا دادا، شریف خاندان اور اس وقت کے چند ججوں کے بیچ بروکر تھا
۲: شریف خاندان کو ہر دور میں قاضی فائز اور “اختلافی نوٹ” والے دلال میسر آ جاتے ہیں
جو ان کے مفاد کے لیے اداروں کی جڑیں کاٹتے ہیں
نوجوان نے مشرف کے سامنے کھڑے ہو کر اسے امریکہ کا ٹاؤٹ کہا اسے امریکہ کا غلام کہا اسے پاکستان کی تباہی کا ذمے دار کہا مگر مشرف جیسا بھی تھا اس ے یہ نہیں کیا کہ اس نوجوان کو اٹھاؤ یا انکی خواتین کو اٹھاؤ۔۔۔!
لیکن جوسلوک جنرل عاصم منیر نے اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کیا اسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔۔۔!
نو مئی میں پولیس کی فائرنگ سے آنکھ کی بینائی چلی گئی، کسٹم کی جاب کھو دی، 15 چھرے جسم میں پیوست ہیں، 10 ایف آئی آرز درج ہیں، پھر بھی یہ نوجوان کہتا ہے عمران خان کیساتھ کھڑا ہوں!
معصوم بچوں کا قاتل حق خطیب عُرف شُف شُف اگر علماء و مشائخ کانفرنس کی پہلی صف میں کھڑا دانت نکال رہا ہے، تو اِس کانفرنس، شُف شُف کو بُلانے والی حکومت اور شُف شُف کی سرپرستی کرنے والی ریاست کی اوقات کا اندازہ خود لگا لیجئے۔۔۔
میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں شُف شُف “اُن” کا آدمی ہے
بنگہ دیش میں کب کیا ہوا؟
یکم جولائی کو یونیورسٹی طلباء نے ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم پر احتجاج شروع کیا-
16 جولائی کو جب چھ افراد کی ہلاکتوں کی خبر پھیلی تو مظاہروں میں مزید شدت آگئی-
18 جولائی کو حکومت نے گھبرا کر انٹرنیٹ پر بھی پابندی لگا دی، لیکن مظاہرے پھر بھی نہیں رکے-
21 جولائی کو اگرچہ بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے ملازمتوں کے کوٹے پر پابندی بھی لگا دی، مگر مظاہرے نہ رک سکے کیونکہ مظاہرین نے اس فیصلے کو گول مول سمجھا-
بلآخر، 4 اگست کو مظاہروں میں اتنی شدت آگئی کہ حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر بھاگنا پڑ گیا-
اگر آپ کو پاکستان کے حالات سے کہیں مماثلت دکھائی دیتی ہے، تو پھر یا تو یہ بات اتفاقی ہوگی یا پھر پاکستان میں بلکل ایسے ہی حالات پیدا ہونے میں بہت زیادہ وقت باقی نہیں ہے- اس لئے کہ بنگلہ دیش میں جو زبردستی کا نظام تھوپا گیا تھا، وہ پاکستان کے الیکشن سے صرف ایک مہینہ پہلے کی بات ہے، یعنی جنوری 2024، جبکہ پاکستان میں یہی سب کچھ فروری 2024 کو ہوا-
سوال یہ ہے کیا پاکستان پر قابض ٹولہ اللہ تعالٰی کے ان اشاروں سے سبق سیکھے گا؟
#ReleaseKhanSavePakistan
خریدہ فاروقی کے ساتھ ایسا کم ہی ہوا ہوگا کہ کسی نے رنگے ہاتھوں چوری پکڑی
“آپ کو لکھے لکھائے ٹوئیٹ کہاں سے آتے ہیں”
۔۔
اس کے بعد خریدہ کی بتی گُل، الزامات، مجھے کورٹ آف لا لے جائیں، ثبوت دکھائیں
“بی بی آپ PTI کو ڈیجیٹل دہشتگرد کہہ رہی ہیں، ثبوت ہیں”؟
صحافت کارڈ عورت کارڈ اور رونا دھونا شروع
زبردست @NaeemPanjuthaa صاحب ایسے ہی منہ توڑیں ان ٹاؤٹنیوں کا ۔۔
جب آپ شیخ مجیب سے ملے کیا وہ غدار تھے ؟ حامد میر کا سوال
میں نہیں سمجھتا وہ غدار تھے، خواجہ آصف کا جواب
یہ وڈیو صرف ایک یا ڈیڑھ ماہ پرانی ہے۔ خواجہ صاحب نے کل ایک ٹویٹ کیا ۔ جس میں شیخ مجیب کو غدار کہا ۔
بہادر محمود خان اچکزئی...
آپ کو پتہ ہے کہ لوگوں کی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ تھانوں میں کیا ہو رہا ہے اگر یہ پارلیمنٹ اس پر بات نہیں کر سکتی تو بھاڑ میں جائے یہ پارلیمنٹ بھاڑ میں جائے اس پارلیمنٹ کا سپیکر اور بھاڑ میں جائے اس پارلیمنٹ کے ممبران...
درست کہا
مافیاز ہی اس ملک کو نوچ رہے ہیں اسی مافیا کو ہی شکست ہوچکی تھی اسی مافیاز کو عدالتوں نے سزائیں سنائیں اسی مافیاز کو عوام نے مسترد کیا لیکن پھر اسی مافیاز کو NROs دیے گئے اور سینے سے لگایا
وہ مافیا اشرافیہ واقعی پاکستان کی ترقی نہیں چاہتا
اسی مافیاز کا تحفظ کیوں؟
بنگلہ دیش میں 83 سالہ ڈاکٹر محمد یونس کو غریبوں کے بنکر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جنہوں نے گرامین بنک کے زریعے بے شمار غریبوں کی زندگیاں بدل دیں اور امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔ طلبہ نے انہیں عبوری حکومت کا سربراہ چن کر زبردست شعور اور دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ نوجوانوں کا شعور اثاثہ ہوتا ہے۔