Make your contribution. Leave a lasting dedication.
Introducing the Virtual Donor Wall- Shaukat Khanum Karachi, a digital space where you or a loved one can become part of #ShaukatKhanumKarachi
Donate now: https://t.co/vCgTW79tCU
#SKMCH#VirtualDonorWallSKMKarachi
عمران خان نے اس سوال کا جواب خوشی خوشی دے دیا،
جو سوال پوچھنے کی جرات کوئی صحافی مریم نواز، نواز شریف، زرداری یا شہباز شریف سے نہیں کر سکتا۔
جب انسان سچا ہو تو اسے نہ انٹرویو دینے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے، نہ ہی وہ انٹرویو کے دوران اینکر کو کہتا ہے کہ یہ بات انٹرویو سے نکال دو۔
جنرل حمید گل
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں
یمن ایک پھندہ ہے اور جو فوج اس میں پھنس گئی پھر وہ اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکے گی
مصر کے ساتھ یمن میں پھنسنے کیبعد بھی یہی ہوا تھا
پھر اسرائیل نے بہت تسلی سے مصر کو کچل کر رکھ دیا
اگر ہم یمن میں پھنس گئے تو بھارت ہمیں پھر نشانہ بنائے گا
میں مریم نواز کا نہ انٹرویو دیکھتا ہوں نہ اسکی کوئی تقریر سنتاہوں یہ میری ذہانت کی توہین ہے ۔
یہ اسطرح کی بے تکی باتیں کہ چارپائی کے نیچے گھس جانا۔
کیا تم نے نہیں دیکھا جب اسکو گولیاں لگیں اور وہ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بتا رہا ہے کہ میں ٹھیک ہوں مجھے شوکت خانم لے چلو ۔ آپ میں سے کوئی ہوتا تو آپ نے کہنا تھا ہیلی کاپٹر اتارو ائیر ایمبولینس منگاؤ اور ہمیں لندن لے جاؤ
وہ ذہینی طور پر اتنا مضبوط ہے کہ اتنے مقدموں کے بعد کوئی اور ہوتا تو اسکا ہارٹ فیل ہو جاتا۔ وہ روزے میں کھجور ایسے کھاتا ہے جیسے یہی مکمل زندگی ہے۔
ہمارے بیٹے اس یقین کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے کہ وہ عورتوں کے جسم پر کوئی حق رکھتے ہیں۔ لیکن کم عمری ہی سے وہ ایسے رویوں اور خیالات سے متاثر ہو سکتے ہیں جو غلبے، عورتوں کو محض جسمانی شے سمجھنے اور تشدد کو معمول بنا دیتے ہیں۔ یہ اثرات خود ہمارے معاشرے، بغیر رہنمائی کے فحش اور نیم فحش مواد، انٹرنیٹ کے بے قابو اثرات، اور گھر میں بدسلوکی اور کنٹرول کے رویوں کو معمول کے طور پر دیکھنے سے آ سکتے ہیں۔
یہ بات اہم ہے۔ والدین اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے پیغامات کو چیلنج کریں، حدود مقرر کریں، اس بات پر نظر رکھیں کہ بچے کیا دیکھ اور پڑھ رہے ہیں، اور لڑکوں کو واضح اور مسلسل طور پر یہ سکھائیں کہ عورتیں بھی انسان ہیں، اور ان کی مرضی، عزت، وقار اور تحفظ کا احترام کرنا ضروری ہے، اینکر مہر بخآری اس موضوع پر بات کر رہی ہیں جن پر والدین بات کرنے سے کتراتے ہیں، سوچیئے سمجھئے۔ ویلڈن مہر بخآری صاحبہ
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
ظالمو سسٹم تو اسی دن کولیپس کر گیا تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے ہسپتال میں ماں نے اپنے جوان بیٹے کی میت پر اپنے سر کی چادر اتار کر دی ۔!!!!
ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ:
“اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“
غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔
جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟!
اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔
ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔
آرمی چیف کا طیارہ ہائی جیک کرایا،انہیں آپ نے جیل سے نکال کر سرور پیلیس جدہ پہنچایا، پھر پکڑے گئے پھر جیل سے نکالا شاہی طیارے پر دوحہ اور لندن پہنچایا اور پھر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا جو بویا وہی کاٹنا پڑتا ہے اب گلہ کیسا ؟؟ مولانا نے تو صرف اصلاح کی ہے
Ana Kasparian destroys zionist propagandist clown Emily Schrader for running cover for her Israeli regime employers as they continue to rape, terrorise, and murder innocent civilians...
The Supreme Court upheld the Sindh High Court decision that the board of TRG has committed a $150 million fraud against TRG’s 13,000 public shareholders. A business that once managed over $2 billion in assets now has only $100 million, with the rest destroyed by the present management, while they have paid themselves and their lawyers tens of millions of dollars. We look forward to removing them in the upcoming board elections now endorsed by the Supreme Court, and rebuilding the business, hopefully to even greater success than before.