ہر روز، ہم سوشل میڈیا پوسٹس دیکھتے ہیں جو دعوی کرتے ہیں:
میں نے دبئی میں دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں
دبئی کو اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے
دبئی میں زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے
قریب سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر پوسٹس متحدہ عرب امارات سے باہر کے اکاؤنٹس سے آتی ہیں، اکثر سینکڑوں یا ہزاروں کلومیٹر دور۔
اس طرح غلط معلومات پھیلتی ہیں۔
شور کے ذریعے کاٹ. حقائق پر توجہ دیں
درست معلومات اور قابل اعتماد اپ ڈیٹس کے لیے،
حکومت دبئی کے میڈیا آفس کو اس کے سرکاری چینلز پر فالو کریں
غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے میں دونوں اطراف نے قیدی تو چھوڑ دئیے لیکن تاریخ یہ پوچھتی رہے گی کہ جس نیتن یاہو نے پچھلے دو سال میں 68 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا،کسی مسلم ملک کا کوئی سربراہ کسی عالمی فورم پر کبھی یہ مطالبہ بھی کریگا کہ 68 ہزار فلسطینیوں کے قاتل کا احتساب کیا جائے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب!
آپ نے آٹھ فروری کو عوام کا فیصلہ، عوام کا منڈیٹ، ٹھکرا دیا۔
آج بھی آپ اُسی انکار پر قائم ہیں۔ خیبر پختونخوا میں عوام کی رائے سے پہلے ہی، آپ نے اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کر دیا۔
بلوچستان میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ تو بتائیے، کیا وہاں کے حالات میں کوئی بہتری آئی؟
میں آج پھر کہتا ہوں
سیاست آپ کے بس کی بات نہیں!
یہ کام سیاست دانوں کا ہے، عوام کے نمائندوں کا ہے۔
آپ نے اٹھہتر برس سیاست ہی کی اور نتیجہ؟
نتیجہ یہ کہ آج تک پاکستان کی عوام اُس سیاست کی قیمت ادا کر رہی ہے۔
اور میں آپ سے پوچھتا ہوں،
کیا گولی کی سیاست سے آپ بنگلہ دیش بننے سے روک سکے تھے؟
کیا زخم مٹ گئے تھے؟
ملک بندوق سے نہیں، عوام کے فیصلے سے چلتے ہیں
سرمایہ کاروں کو صرف چور سمجھا جائے تو ملک کیسے چلے گا؟
حکومت کی بیوروکریسی اور 36 محکمے پاکستان کے دشمن ہیں،، ایک شکار کرنے کے لیے 36 چوہے پھینکے ہوئے ہیں، 3 ارب روپے روزانہ رشوت لی جارہی ہے، 25 ارب روپے حکومت اپنے خرچوں کیلئے لے رہی ہے، ملک کیسے چلے گا، بیوروکریسی نئے صوبوں کے قیام میں بڑی رکاوٹ ہے، میاں ابوزر شاہ صدر لاہور چیمبر کے انکشافات
#SamaaTv #Pakistan #NadeemMalikLive
If war was your measure of pride, history already records your humiliating defeats at Pakistan’s hands. No cricket match can rewrite that truth. Dragging war into sport only exposes desperation and disgraces the very spirit of the game
گورنمنٹ ہمارے اسلامیہ سکول کا ایک ایک کمرہ ایک ایک کروڑ کا بنا رہی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر 20لاکھ میں بنا کر دے رہا ہے ہم کیا کیا رونا روئیں
ہم سیاستدان 4 سال تک کھاتے پیتے ہیں پھر نئے آ جاتے ہیں اصل لوٹ مار تو یہ کر رہے ہیں جو پکے بیٹھے ہوۓ ہیں
خواجہ آصف
سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کے مرکزی کردار عمر فاروق ظہور کو صرف 5 مہینے گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہلال امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ کیا ابھی بھی حرص و ہوس میں کمی نہیں آئی کہ پاکستان کے سول اعزازات اتنا بے توقیر کیا جا رہا ہے۔
’’اس بار سوچ کر ووٹ دینا، دینا ہے تو دے بھی دینا کیا فرق پڑتا ہے، پہلے بھی دیا تھا نکلا نہیں تو کیا ہوا‘‘
عوام کے اجتماعی شعور پر آئینی عہدے پر بیٹھا شخص تقریباً لعنت بھیج رہا ہے، مذاق اڑا رہا ہے
عمران خان کو پے رول پر رہا کریں، ان کو بٹھائیں اور بات چیت کریں، ایک دوسرے کی بات سنیں یہی سیاست ہوتی ہے، سیاست دشمنی نہیں ہوتی،شاہد خاقان عباسی کی عمران خان کو پے رول پر رہا کرکے ان سے برائے راست بات چیت کی تجویز
مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ متنازع فیصلہ ہے جو بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے جمہوریت اور آئین کی بالادستی سے متصادم فیصلوں کا تسلسل ہے، سینئر صحافی تجزیہ کار شاہ زیب خانزادہ
سات جونئیر ججوں نے آٹھ سینئرججوں کا اکثریتی فیصلہ ریجیکٹ کردیا۔۔۔۔اقلیت اکثریت کا آئینی عدالتی،جمہوری،اسلامی اصول فلسفہ گیا بھاڑ میں ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناوں۔
تاریخ کی عدالت میں مخصوص نشتوں کے فیصلے کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا، ججز اگر اس فیصلے کے حوالہ سے عوامی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو باہر آ کر پوچھ لیں تو بچہ بچہ کو پتہ تھا کہ یہی فیصلہ آئے گا، سینئر تجزیہ کار حامد میر
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ متوقع مگر انتہائی متنازعہ ہے۔بلے کا نشان واپس لینے کےفیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی تاریخ کے متنازعہ ترین فیصلوں میں یاد رکھا جائے گا۔جیونیوز میں تجزیہ
آڈیٹر جنرل نے سال 2024-25 کی رپورٹ میں پنجاب حکومت کے اخراجاتی کھاتوں میں دس کھرب روپے سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، جن میں فراڈ، رقم کا غلط استعمال، زائد ادائیگیاں وغیرہ شامل ہیں۔
https://t.co/61FXvgFyl0
اکنامک سروے 2025 کے مطابق سندھ کے %69 سرکاری سکول بجلی سے محروم، %43 سکولوں میں ٹوائلٹ نہیں۔ %42 سکولوں میں پینے کا پانی میسر نہیں، %39 کی چار دیواری ہی نہیں ہے۔ کیا بلاول بھٹو کی ترقی پسندانہ خوشنما تقاریر باقی دنیا کے لیے ہیں اور اندرون سندھ کو وڈیروں کے حوالے کر رکھا ہے؟