عمران ریاض خان 🚨
علی باقر نجفی، یہ وہی جج ہیں جنہوں نے پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھیجا تھا۔ آج یہی جج عمران خان کے علاج پر پاکستان کے اندر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا گزشتہ رات ڈار ہاؤس سیالکوٹ کا دورہ۔
ڈار برادران کی کاروباری فیکٹری VIP کو سیل کر دیا گیا، جس کے باعث ہزاروں شہریوں کے روزگار سے محروم ہونے کا خدشہ۔
ہمیں یہ بتایا جائے کہ آخر کس قانون کے تحت نواز شریف صاحب کو جیل سے برطانیہ جانے کی اجازت دی گئی، اور پھر عدالت نے ایئرپورٹ پر ہی ان کی ضمانت منظور کر لی؟
ہمارے ایک ایم این اے، چترال سے تعلق رکھنے والے عبداللطیف صاحب، کے کیس میں جن دیگر افراد کو سزا ہوئی تھی، وہ بری ہو چکے ہیں، لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے لطیف صاحب کا کیس ہی نہیں لگ رہا۔ اندازہ کر لیں کہ ہمارے کیسز کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ایک طرف ہمارے مقدمات کی سماعت نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف ایک قیدی کی اپیل آتی ہے اور اگلے ہی دن اس کی تاریخ مقرر ہو جاتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان صاحب کے کیسز کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کیا جا رہا ہے۔
جہاں تک نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات ہے، انتظامی یونٹ بنانے میں بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ نیتوں کا ہے۔ یہاں بنیادی سوال این ایف سی ایوارڈ کا ہے۔ ان کا مقصد مضبوط اور بااختیار انتظامی یونٹس بنانا نہیں بلکہ این ایف سی کے وسائل پر وفاق کی گرفت مزید مضبوط کرنا ہے۔
ایک طرف محسن نقوی صاحب یہ کہتے ہیں کہ نظام اس لیے نہیں چلتا کیونکہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف اختیارات اپنے پاس رکھنے کی صورتحال یہ ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ بھی نہیں چھوڑتے، وزارتِ داخلہ بھی ان کے پاس ہے اور وزارتِ خارجہ کی ذمہ داری بھی ان کے پاس ہے۔ انہیں لانے والے کون ہیں اور انہیں کس قدر اختیارات حاصل ہیں، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی مقصد بہتر گورننس اور عوامی مسائل کا حل ہے تو پھر اسلام آباد میں ایک ہی ہسپتال کی حالت کیوں خراب ہے؟ وہاں کے اسکولوں کے مسائل کیوں موجود ہیں؟ اسلام آباد کا رقبہ اور آبادی بھی کسی بڑے صوبے کے مقابلے میں بہت محدود ہے، تو کیا صرف انتظامی یونٹ بنانے سے وہاں کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں؟
اصل مسئلہ انتظامی یونٹس نہیں بلکہ گورننس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نیت کا ہے۔
اور ایک اور اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حالات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بار بار نئے موضوعات سامنے لائے جا رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ کہاں ہے؟ اس پر بات کیوں نہیں ہو رہی؟ آج ہمیں یہ بحث کرنی چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کیا ہے، لیکن اس کے بجائے عوام کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف موڑی جا رہی ہے۔
اگر واقعی عوامی مسائل حل کرنا مقصد ہے تو حکومت کو گورننس، انصاف، وسائل کی تقسیم اور بنیادی سہولیات پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایسے معاملات کو سیاسی بحث کا مرکز بنانا چاہیے جن کے پیچھے اصل مقاصد کچھ اور ہوں۔
رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی سے بدتمیزی اور بدمعاشی سے بات کرنے والا یہ داڑھی والا ڈی ایس پی ملک خالد حمزہ شہباز کا ٹارگٹ کلر اور جعلی پولیس مقابلوں کے لیے مشہور ہے، پیسے لے کر مخالفین کو قتل کرواتا ہے رسہ گیروں اور منشیات فروشاں سے منتھلیاں لیتا ہے۔
شکریہ پاک فوج 🫡
آغا بھائی ابھی بھی گرفتار ہیں نہ عدالت پیش کیا جا رہا ہے نہ کچھ پتہ ہے کہاں پر ہے آغا بھائی
آغا کو فورا رہا کرنا چائیے کیا قصور ہے ان کا اصل چہرہ دکھانا ۔ ؟
🚨بریکنگ
آج سے صوابی انٹرچیج پر 27 ستمبر سے قبل ھم نے پی ٹی آئی قافلوں کو یہاں جمع کرنے کے لئے میدان تیار کرلیا ھے، اور کل بھی بلڈوزر، شاول اور ٹریکٹر کے ذریعے میدان بناینگے،
یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں پی ٹی آئی ورکرز کے قافلے جمع ھونگے، اور پھر ھم اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرینگے،
27 ستمبر تک صوابی کے اس میدان میں کیمپوں میں رھینگے۔ ایڈووکیٹ امیر اعجاز
#کپتان_کی_رہائی_تک_ڈٹ_جاؤ
@taigr1236@khurramzeeshan
ظالم آقا اور اس کے حکم پر عوام کی زندگی اجیرن کرنے والے بہروپیو!
یاد رکھو، وقت بدل چکا ہے
طاقت کے نشے میں مست آقا اور اس کے اشاروں پر ناچنے والے کارندے یہ نہ سمجھیں کہ خوف کے سائے میں عوام ہمیشہ خاموش رہے گی۔شعور کی آنکھ کو دھوکا دینا ناممکن ہے کیونکہ ان آنکھوں کی تعداد پچاس کروڑ اور نظریہ حقیقی آزادی کا ہے۔
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی .
#FascismUnderAsimLaw
لاہور میں انہوں نے جس گھر میں نے رہنا تھا وہاں سے کھانا چوری کر لیا، ٹینٹ نہیں لگنے دئیے یہاں پہنچا ہوں تو بجلی کاٹ دی ہے، یہ عمل محبت نہیں نفرت پیدا کر رہا ہے، آپ چار سال سے عمران خان اور تحریک انصاف کو مائنس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آپ نہیں کر پائے، سہیل آفریدی
اس دھاڑی والے شخص کو مجھے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا جس کو میری سیکورٹی والوں نے پکڑا اور SHO ثقلین کے حوالے کردیا گیا۔ دھاڑی والے شخص سے پستول برآمد ہوئی ہے۔
سیالکوٹ میں جہاں میں نے رات گزارنی وہاں کی بجلی کاٹ دی گئی۔ اس کے بعد ۲ جگہوں کی مزید بجلی کاٹنے کے بعد میں وزیر آباد آگیا ہوں۔ اب یہاں کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔ اب یہاں سے کہیں اور نہیں جا سکتا۔
آج سٹریٹ موومنٹ کا آغاز انشاءاللّٰہ وزیر آباد سے ہی کرینگے۔
میں جس وقت سیالکوٹ میں کوریج کر رہا تھا اٹھارہ سے بیس لوگ میرے گھر میں دندناتے ہوئے رات کی تاریکی میں گھستے ہیں کیمرے توڑتے ہیں گھر والوں کی عزتیں بالائے تاک رکھتے ہیں اور اس ملک کے قانون کی دھجیاں اڑا دتے ہیں۔۔۔
یہ کیسی بدترین منافقت ہے کہ کاغذ پر تو جمہوریت جمہوریت لکھ کر کا غذ کالے کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں سچ کی آواز کو کچلنے کے لیے خوف کا ننگا ناچ نچایا جارہا ہے۔
ایک صحافی جب فرض کی راہ پر نکلتا ہے، جب وہ فرض شناسی کا طوق گلے میں ڈال کر سچ کی تلاش کرتا ہے، تو اس کے گھر کو میدانِ جنگ بنا دیا جاتا ہے۔ اندھیری رات میں اٹھارہ بیس درندے میرے گھر میں گھستے ہیں، کیمرے توڑتے ہیں، چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہیں میری فیملی گھر میں موجود ہوتی ہے ان کی عزت کو بالائے تاک رکھتے ہیں اور گھر کا سامان لوٹ کر لے جاتے ہیں یہ قانون کی پاسداری نہیں، یہ بزدلی کا وہ سیاہ روپ ہے جو ریاست کے چہرے پر ہمیشہ کے لیے کالک مل گیا ہے۔
کیا سچ بولنا اتنا بڑا گناہ ہو گیا ہے کہ اب گھر والوں کی عزتیں اور ان کا سکون بھی نشانے پر آ جائے؟ پنجاب میں کوریج کرنے کے دوران میرے گھر پر یہ حملہ صرف ایک گھر پر چھاپہ نہیں، یہ اس پورے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جو آذادی رائےکے دعوے کرتا ہے۔ جب قلم کی طاقت سے ایوانوں کی بنیادیں ہلتی ہیں تو یہ بزدل طاقتیں اس طرح گھروں میں گھس کر غنڈہ گردی کرتی ہیں۔
آزادیِ اظہار اب صرف ایک دھوکہ ہے، ایک ایسا مذاق ہے جو اس سسٹم نے اس ملک کے باضمیر لوگوں کے ساتھ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف کون بولے گا؟ جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو انصاف کس سے مانگا جائے گا؟