میں نے لوگوں کے بلند قہقوں میں ان کے ٹوٹتے حوصلوں کو محسوس کیا ہے جھریوں میں پوشیدہ داستانوں کو جانا ہے میں نے لوگوں کو اداس آنکھوں سے مسکرانا تے دیکھا ہے تب احساس ہوا ہم سب حادثوں کا شکار ہیں سب پر اپنی اپنی قیامت ہوتی ہے جسے کوئی نہیں جانتا 💯
اور اس نے مجھے تب چھوڑا جب اسے یقین ہو گیا تھا کہ یہ میرے علاوہ اب کسی اور کو نہیں چاہے گا ۔۔
آخر کتنا چاہنا پڑتا ہے ایک شخص کو کہ وہ کسی اور شخص کو نہ چاہے ۔۔ مگر پھر بھی وہ بےوفائی کرے دھوکہ دے ۔۔۔ اذیت دے ۔۔۔ 🙏🏻🥀💯🔥
جس سے امید تھوڑی سی بھی زیادہ ہو۔۔۔۔
ایسی ہر شمع سرِ شام بجھا دی جائے ۔۔۔۔
میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا ہے ۔۔۔۔
دل کے آنگن میں ایک دیوار اٹھا دی جائے
" پتہ نہیں میری یہ عادت اچھی ہے یا بُری ، کوئی میرے ساتھ کتنا ہی بُرا کیوں نہ کر لے میری ناراضگی بس کُچھ وقتی سی ہی ہوتی ہے ، بس اگلے بندے کی پیار سے بات کرنے کی دیر ہے ، اور میں بُھول جاتا ہوں کہ ؛ اُس نے میرے ساتھ کیا کِیا تھا! ۔ " 🖤🙂
اندر سے ٹوٹا ہوا شخص کبھی نارمل نظر نہیں آئے گا اس کے ہر ایموشن میں شدت پائی جائے گی ہنسنے لگے گا تو بہت زیادہ ہنسے گا چپ رہے گا تو گہری خاموشی اختیار کرے گا خود کو لوگوں سے انگیج کرے گا تو بہت زیادہ انگیج ہوگا اور تنہا ہوگا تو سائے کو بھی برداشت نہیں کرے گا
“جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ چاہے یا نہ چاہے ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے-وہ پھول نہیں بن سکتے۔"