پیغامِ عمران خان🚨
27 ستمبر کی تاریخ آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ خوف کی زنجیریں توڑ کر حق اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلیں۔
⚠️ نوٹ: یہ ویڈیو AI کے ذریعے تیار کی گئی ہے
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
پارلیمنٹ چھوڑو۔ ڈرائنگ روم چھوڑو۔ استیفیٰ دو ۔ کےپی بند کرو ۔ جنہوں نے خان کے نام پہ مراعات لیں اب وہ سر پہ کفن باندھیں۔
بکواس بند کرو اور ردِعمل ٹھنڈا نہ کرو۔
جس وقت فیصلہ آتا ہے اس وقت
وزیرا عظم کے پاس لاء منسٹر موجود تھے وہاں ان کو فون آتا ہے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کا ان کے پاس ان کی صاحب زادی مریم نواز بیٹھی ہوئی ہیں اس بات سے اندازہ کر سکتے ہیں اس کے بعد ہونے والے واقعات کے پیچھے کس قسم کا ذہن کس قسم کا انتقام بدلہ اور چھوٹا پن شامل ہے نواز شریف مبینہ طور پر اپنے چھوٹے بھائی پر بہت گرجتے برستے ہیں انکی طرف سے حکم دیا گیا فوری اپنی ٹیم بھیج کر یہ فیصلہ رکواؤ اس کے بعد شہباز شریف بتاتے ہیں اعظم نظیر تارڑ کو
اعظم نذیر تارڑ اور منصور اعوان کو حکم ہوتا ہے اور وہ ٹیم بنا کر جاتے ہیں چیف جسٹس آفریدی صاحب کے پاس وہاں بیٹھک میں پوری کوشش کی جاتی ہے اس فیصلے کو رکوایا جائے لیکن اس وقت یہ فیصلہ نہیں مانا گیا اور انکو کہا گیا اب آپکے پاس ایک ہی راستہ ہے ریویو فائل کرنے کا اس کے بعد یہ ٹیم نکلتی ہے اور سیدھا جاتی ہے وزیراعظم کے پاس وہاں مشاورت کی جاتی ہے پنڈی آبپارہ بھی فون کھڑکاۓ جاتے ہیں اس کے بعد اعظم نذیر تارڑ چھوٹے تارڑ کی طرح پریس کانفرس کرتے ہیں
شہزاد اکبر
سپریم کورٹ عمران خان سے ملاقات کیس میں بار بار فیملی اور PTI سے سیاست نہ کرنے کی گارنٹی مانگ رہی ہے حالانکہ یہ انکا اور عمران خان کا آئینی حق ہے۔ کیا یہی سپریم کورٹ فوج سے سیاست نہ کرنے کرنے کے حلف کی پاسداری کی گارنٹی مانگ سکتی ہے؟
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، بڑی سے بڑی آفرز دی گئیں، لیکن کپتان کا جواب ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے 3 بنیادی مطالبات سامنے رکھے:
پہلا مطالبہ: قید میں موجود تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ: ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے اور فوری شفاف الیکشن ہوں گے۔
تیسرا اصول: ہم اقتدار میں آ کر کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، بلکہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
یہ ایک حقیقی مدبر (Statesman) کی نشانی ہے جو ذاتی عناد سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچتا ہے۔
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.