شبیر حسین یو بی ایل بینک کی موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرتے ہیں۔ ایک دن اچانک انکے اکاؤنٹ سے سوا چار لاکھ روپے کے قریب رقم نکل گئی۔ اسی طرح سلطان مسعود بھی یو بی ایل بینکنگ ایپ کے یوزر ہیں۔ ٹھیک تین روز بعد انکا اکاؤنٹ بھی ساڑھے پانچ لاکھ روپے سے زائد رقم سے خالی ہوگیا۔ بینک سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ آپ لوگوں نے خود اپنی پرانی سم بلاک کروا کر نئی ڈپلیکیٹ سم نکلوائی اور پھر نئی ایپ انسٹال کرکے یہ رقم خود منتقل کی ہے۔
دونوں متاثرین نے PTA کو شکایات درج کروائیں۔ پی ٹی اے کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ دونوں سمیں بہاولپور میں موجود جاز کی ایک "فائن ٹیلی کام" نامی موبائل فرنچائز سے جاری ہوئی ہیں۔ پی ٹی اے کی شکایت پر NCCIA نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی۔ فائن ٹیلی کام پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے سم جاری کرنے کے لیے استعمال ہونے والے تمام آلات قبضے میں لے لیے گئے۔
مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایک منظم فراڈ تھا، جس کے ذریعے UBL کے چھ اکاؤنٹ ہولڈرز متاثر ہوئے اور ایک کروڑ روپے سے زائد رقم اسی طریقۂ واردات کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔
طریقۂ واردات یہ تھا کہ یو بی ایل کا اندرونی عملہ صارفین کا خفیہ ڈیٹا، رجسٹرڈ موبائل نمبر اور اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرتا۔ پھر صارفین کی اصل سمیں بلاک کروائی جاتیں اور بائیومیٹرک ڈیوائس کو کم فریکوئنسی پر چلا کر یا وی پی این کے ذریعے حاصل کردہ کاغذی فنگر پرنٹس کے ذریعے ڈپلیکیٹ سم نکلوائی جاتی۔ ان ڈپلیکیٹ سموں کو نئے موبائل فون میں ڈال کر بینک کی موبائل بینکنگ ایپ انسٹال کی جاتی اور پھر اکاؤنٹ میں موجود رقم ملزمان اپنے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کر لیتے۔
یو بی ایل نے بھی اپنی انکوائری کروائی، جس میں تین ملازمین سامنے آئے۔ جنکا سرغنہ محمد عاطف نامی ایک افسر تھا۔ عاطف صارفین کا ڈیٹا چوری کرکے آگے دیتا تھا۔ عاطف کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے ضمانت کیلئے پہلے اور بعد میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
ہائیکورٹ میں عاطف کی طرف سے دلائل دیے گئے کہ اسکا سم جاری کرنے والوں یا رقم وصول کرنے والوں سے کوئی رابطہ ثابت نہیں ہوا۔ اس نے اس فراڈ سے کوئی مالی فائدہ بھی حاصل نہیں کیا۔ محض اکاؤنٹس کا ڈیٹا دیکھنا بذاتِ خود جرم میں شرکت یا سم تبدیل کرنے (SIM Swap) کا ثبوت نہیں۔ اس نے "یو بی ایل اومنی" کے ملازم فیاض کے کہنے پر صرف تصدیق کے لیے ڈیٹا دیکھا تھا۔
ہائیکورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ نے درخواستِ ضمانت کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پیکا ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات ایک ہی مقدمے میں بیک وقت لاگو ہو سکتی ہیں۔ کسٹمر کا بینک ڈیٹا تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 405 تا 409 کے مقاصد کے لیے قانونی طور پر "پراپرٹی" کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر بینک ملازم یہ ڈیٹا بددیانتی سے لیک کرتا ہے تو وہ مجرمانہ خیانتِ امانت کا مرتکب ہوگا۔
بحیثیت "برانچ سروسز سپروائزر"، عاطف کو صارفین کے ڈیٹا تک قانونی رسائی حاصل تھی۔ بینک کی انکوائری کے مطابق اس کی آئی ڈی کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے آگے منتقل کیا گیا۔ اسکے خلاف دفعہ 409، تعزیراتِ پاکستان کا جرم بنتا ہے، جس کی سزا 10 سال سے عمر قید تک ہے، جو امتناعی شق کے دائرے میں آتی ہے۔
ہائیکورٹ نے ملزم عاطف کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ وٹس ایپ ہو یا موبائل بینکنگ ایپ، اسے ایسے موبائل نمبر پر ہرگز نہ بنائیں جو مستقل طور پر آپ کے زیرِ استعمال نہ ہو۔ اگر موبائل سم کے سگنل اچانک غائب ہو جائیں یا سم بند ہو جائے تو اسے محض معمولی خرابی سمجھنے کے بجائے فوری طور پر بینک اور موبائل کمپنی سے رابطہ کریں۔ وگرنہ ایسی صورت میں ڈپلیکیٹ سم کے ذریعے آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کیا جا سکتا ہے۔
#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور
پشاور ہائیکورٹ نے بجلی بل میں تفصیل بتائے بغیر ٹیکسز وصولی روک دی : “درخواست گزارکے مطابق متعلقہ حکام نے انہیں بل کے بارکوڈ کو ڈی کوڈ کرنےکاکہا، بارکوڈ کو ڈی کوڈ کرنے پرپتاچلاکہ بجلی بل میں ایکسٹرا ٹیکس اور فردر ٹیکس وصول کیےگئے ہیں جب کہ اس سے پہلےکبھی بجلی کے بل میں یہ ٹیکسز شامل نہیں کیےگئے تھے۔” عدالتی حکم
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
جس طرح قصور کی زینب کے لیے پورا پاکستان ایک ہو گیا تھا، اسی طرح ہری پور کی 5 سالہ آیت نور کے لیے بھی پاکستان کو ایک ہونا چاہیے۔ پولیس نے 3 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے مبینہ زیادتی کا اعتراف بھی کیا، مگر بچی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ معذرت کے ساتھ، یہ ہری پور ہے؛ پاکستان کے بیشتر علاقوں کی نسبت بہتر انفراسٹرکچر، تعلیمی معیار اور شعوری سطح رکھنے والا ضلع، جہاں میڈیا اور ریاستی اداروں کی رسائی بھی موجود ہے۔ ایسے علاقے میں ایک معصوم بچی کا اس طرح لاپتہ ہونا انتہائی خوفناک اور تشویشناک ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتی رہیں گی، مگر خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو اپنی براہِ راست نگرانی میں لے کر آیت نور کی فوری بازیابی یقینی بنائے۔ جس باپ کی بچی کئی روز سے لاپتہ ہو، اس پر کیا گزر رہی ہوگی، اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے۔ #JusticeForAyatNoor
یہ 130 روپے جو ہر لیٹر پر بھتہ لیتے یہ دراصل ان کی نا اہلئ کی قیمت ہے ان کی عیاشیوں کی قیمت ہے ان کی بیڈ گورنس کا تاوان ہے ان کے پاس ریاست کے خسارے پورے کرنے کا یہی ایک فارمولا ہے ٹیکس دینے سے انکار نہی مگر ٹیکس کی بھی ایک لمٹ ہوتی اور ٹیکس کا پیسہ جاتا کہاں یہ بھی اہم ہوتا ہے
حکومت نے جان بوجھ کر سستی چینی ایکسپورٹ کر کے مہنگی چینی امپورٹ کی، جس سے 20 شوگر ملز مالکان خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کا اضافی منافع پہنچایا گیا، مفتاح اسماعیل
💧🇦🇺 آسٹریلیا کی ایک پانی کی کمپنی نے بوتل پر نبی کریم ﷺ کی حدیث درج کردی
آسٹریلیا کی بوتل بند پانی کی کمپنی ایکٹو آرگینک اسپرنگ واٹر نے اپنی پانی کی بوتلوں کے ساتھ لگے ہوئے ٹیگ پر نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث درج کی ہے۔
حدیث میں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ارشاد ہے:
«"پانی ضائع نہ کرو، خواہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔"
— سنن ابن ماجہ، حدیث 425»
کمپنی نے اس پیغام کو پانی کے محتاط استعمال، وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی ذمہ داری کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے شامل کیا ہے۔
یہ پیغام اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ اسلام میں صدیوں پہلے ہی پانی جیسے قیمتی قدرتی وسائل کے اسراف سے بچنے اور ذمہ دارانہ استعمال کی تعلیم دی گئی ہے۔ 💧🌱
سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس اقدام کو سراہا، تاہم بعض مسلمانوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ ٹیگ پر نبی کریم ﷺ کا مقدس نام درج ہے، اس لیے اسے استعمال کے بعد کوڑے میں پھینکے جانے کا امکان موجود ہے، جو بے ادبی کا باعث بن سکتا ہے۔
📌 ایسے مواد کو مناسب احترام کے ساتھ سنبھالنا ضروری ہے۔
Honourable Federal Tax Ombudsman Zafar Hijazi has called for a stronger, more transparent and effective tax system, urging authorities to address systemic weaknesses and ensure that taxpayers are not burdened by unnecessary complications.
#Pakistan#TaxReforms#FTO#TaxSystem
بجلی کے بل موجودہ حکومت کے دور میں دوگنے سے بڑھ گے ہزار طرح کے فکسڈ ٹیکس الگ لگائے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی استعمال نا کرنے پر بھی ٹیکس دینا ہے اس کے باوجود خسارہ پانچ ہزار ارب سے بڑھ گیا ہے
یہ رقم ہمارے دفاعی بجٹ سے دوگنی ہے
پوچھنا یہ تھا اویس لغاری کو تمغہ کس لیے دیا ہے ؟
اگر اپ ہری پور کی معصوم آیت نور کے لیے أواز نہیں اٹھا رہے تو آپ کو باپ، بھائی، بیٹا، ماں بہن اور بیٹی کہلوانے کا کوئی حق نہیں، ۔۔۔اپ لوگ کیسے اتنے بڑے ظلم پر خاموش رہ سکتے ہیں بچی 15 دن سے لاپتہ ہے
#JusticeForAyatNoor
مولانا کا شاعری کا انتخاب دیکھیں۔۔
چند روز اورمیری جان، فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں
اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔
ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔
ایک غریب خاندان میں چھوٹے بچے ھیں اور ان کے پاس بسترے نہیں ھیں،موسم تبدیل ھورھا ھے بچے زمین پر سوتے ھیں،ان کی طرف سے کچھ تعاون کی اپیل ھے اگر کوئی بھائی بہن ان سے تعاون کرسکیں تو اللہ بہترین اجر عطا فرمائے گا ۔جزاک اللہ خیر
تعاون درکار 11000
ABDULLAH JAVED
IBAN NUMBER
PK27BAHL5598203800176201
ACCOUNT NUMBER
55982038001762014
BANK AL HABIB۔۔
پنجاب میں اشرافیہ کا ایک اور "ڈاکہ" نما بل
معروف تعلیمی کاروباری مرکز بیکن ہاؤس یونیورسٹی (BNU) کو خیراتی ادارہ بنانے کی کوشش، ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کے بعد مہنگے ترین اداروں میں شامل ہے۔
جہاں انڈرگریڈ سیمسٹر کی فیس 3 سے ساڑھے 4 لاکھ روپے ہے۔
پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں زیرِ بحث بل کو ناقدین نے پاکستان میں ایلیٹ کلاس کی لوٹ مار کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موٹر سائیکل والا ٹیکس نیٹ سے باہر ہونے کے باوجود فی لیٹر 125 روپے لیوی اور ٹیکس دیتا ہے۔ رائیڈرز، رکشہ اور چنگچی والے مہنگی بجلی اور گیس کے مہنگے بل اور درجن بھر ٹیکس رہے ہیں جب کہ کروڑوں روپے کی فیس لینے والے ایلیٹ تعلیمی کاروباری ادارے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو اب مبینہ طور پر "خیراتی ادارہ" قرار دے کر اربوں روپے کے ٹیکس معاف کرنے کی تیاری اور ساتھ ہی بیرون ملک سے "خیرات" کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کی اجازت بھی مانگی جا رہی ہے۔
یہ دہرے، تہرے ٹیکس کا وہ ظالمانہ نظام ہے جو کبھی مراعات کے نام پر ہائی اینڈ سیلریڈ کلاس کو نوازتا ہے، کبھی بیوروکریسی کو سب کچھ مفت بانٹتا ہے اور کبھی اپنے نجی کلبر کاروباروں کو نوازتا ہے۔ بدلے میں نچوڑا اسے جاتا ہے جو پہلے ہی ادھ موا ہے۔ بجائے اس کے کہ معاشی مساوات کو فروغ دیا جائے، اشرافیہ دن دیہاڑے عوامی وسائل کو شیر مادر سمجھ کر دھڑلے سے ڈاکا ڈالتی ہے اور ہر سیاسی گروہ مفاد کی اس گنگا میں خوب نہاتا ہے۔
بل پر صرف غیرمساوی اور غیرمنصفانہ ہونے کے ہی نہیں بلکہ تکنیکی اعتراضات بھی کیے جا رہے ہیں۔ کئی افراد نے نشاندہی کی ہیکہ یہ بل نہ صرف پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2016 کے سیکشن 7 کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ DRA کے اختیارات پر بھی ڈاکہ ہے۔ قانون کہتا ہے فیس کا اختیار ریگولیٹر کے پاس ہے، مگر یہاں نجی یونیورسٹی کو خود فیس بڑھانے کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
حکومت کی حماقتیں جاری ہیں اپوزیشن نے ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی بجائے صرف مسلم لیگ (ن) سے ٹکرانے کی پالیسی پر جمہوری و آئینی طریقے سےعمل کیا تو حکومت کی ’’مزید حماقتیں‘‘کسی نہ کسی کواڈیالہ کے “زندان حماقت‘‘ میں پہنچا دینگی ۔بہتر ہے ’’مزید حماقتیں‘‘ مت کریں https://t.co/JxVSggGzG7
آیت نور کی بازیابی کیلئے ہری پور کے صدیق اکبر چوک میں احتجاج جاری ہے۔اسٹیج سے نعرے لگ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی والوں کی بیٹی آیت نور
ن لیگ والوں کی بیٹی آیت نور
پیپلزپارٹی والوں کی بیٹی آیت نور
علماء کی بیٹی آیت نور
تاجروں کی بیٹی آیت نور
یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے 14 دن گزر گئے پانچ سالہ معصوم بچی بازیاب نہیں ہو سکی پولیس اس معاملے کو پہلے دن دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
#JusticeForAyatNoor
سہیل آفریدی یہ پانچ سال کی بچی ہری پور سے غائب ہوئی ہے یہاں پر تحریک انصاف نے تینوں سیٹیں جیتی تھیں۔
خان صاحب کو رہا تو تم نہيں کروا سکتے اس مظلوم والد کی فریاد سن سکتے ہیں یا نہيں؟ یا کمپنی نے تمہارے کانوں میں سیسہ پگلا کر ڈال دیا ہے؟
کیا تمہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں bad governance اتنی کرنی ہے کہ تحریک انصاف کی قبر کھد جائے؟
پاکستان میں شوگر مافیا کی طاقت کا ننگا ناچ
مصدق ملک کمیٹی کےچیئرمین تھےانہوں نے 2لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی،مزیدایکسپورٹ کی اجازت دینےسےانکار کیاانہیں کمیٹی سےہٹاکراسحاق ڈارکوکمیٹی کاچیئرمین بنایاگیا انہوں نے7لاکھ80ہزارٹن چینی ایکسپورٹ کردی اورپھر اسی سیزن کے اندر3لاکھ ٹن امپورٹ کی، مفتاح اسماعیل کا انکشاف
یاد رہے کہ قیمتوں میں ردوبدل سے شوگر مافیا چند کروڑ نہیں بلکہ سینکڑوں ارب روپے کا منافع کماتا ہے۔
ن لیگ، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی ہر دور میں اس مافیا نے قوم کے اربوں لوٹے، اور جو قومی مفاد کے تحفظ کے ذمہ دار تھے انہوں نے لٹوائے ہیں۔
ڈاکٹر خلیق الرحمٰن پر کوٹلی پولیس کی بربریت، تشدد اور ناروا سلوک
گاڑی پارکنگ کے ایک معمولی سے معاملے پر ڈاکٹر خلیق الرحمٰن، ان کی اہلیہ اور معصوم بیٹی کے ساتھ مبینہ طور پر روا رکھا جانے والا سلوک انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ایک معزز ڈاکٹر کو ہراساں کرنا، ان پر اور ان کی اہلیہ پر تشدد کرنا، اہلِ خانہ کو تھانے لے جانا اور بعد ازاں انہیں بے جا پولیس تحویل میں رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
ہم کب تک یوں ہی صرف مذمت کرتے رہیں گے؟
اس سے بھی زیادہ افسوسناک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر یہ واقعہ کوٹلی پولیس کی جانب سے پیش آیا۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی ڈاکٹرز کے ساتھ تشدد کریں تو پھر عام شہری انصاف اور تحفظ کے لیے کس سے رجوع کرے؟
ڈاکٹر پر تشدد صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے طبی شعبے اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے۔
#doctorunderattack
#WeStandWithOurWhiteuniformforces
حکومت نے جان بوجھ کر سستی چینی ایکسپورٹ کر کے مہنگی چینی امپورٹ کی، جس سے 20 شوگر ملز مالکان خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کا اضافی منافع پہنچایا گیا، مفتاح اسماعیل
لاہور سروسز ہسپتال میں C Arm machine For surgeries پچھلے تین ماہ سے خراب ہے جس سے آرتھوپیڈک سرجنز مریضوں کی سرجری کرنے میں انتہائی مشکلات آ رہی ہے
ڈاکٹروں نے کئی بار ایڈمن کو بھی کہا لیکن کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی
پرانا کنٹریکٹر اس کو چیک کرتا رہتا تھا لیکن اس کا کنٹریکٹ تین ماہ سے ختم ہو گیا ہوا
جسکی وجہ سے سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز اور مریض انتہائی مشکلات کا شکار ہیں
کیا یہ پنجاب حکومت کے خلاف سازش نہیں؟؟
کیوں اتنے اہم ہسپتال کی مشینری کی دیکھ بھال کے لیے کسی سے کنٹریکٹ نہیں کیا گیا
مریم نواز صاحبہ سے گزارش ہے کہ فوری اس کا نوٹس لیں