तक़दीर के फ़ैसलों से शिकवा नहीं करते,
हर ज़ख़्म को दुनिया में तमाशा नहीं करते,
कुछ दर्द मुक़द्दर की अमानत हैं साहिब,
हर राज़ को महफ़िल में उछाला नहीं करते।
https://t.co/KatGUMpdAT
There was once a relationship of hope and shared destiny with the people of Kashmir in Imran Khan's government. A vision in which the people of Kashmir stood at the centre, their will the only legitimate foundation for any future. That vision spoke of dignity, of self-determination, of a people free to decide their own path without the shadow of coercion.
That relationship has been systematically dismantled.
In its place now stand the recent policies of control, silence, and force. Asim Munir has broken the soul of the relationship. Where there should have been listening, there is command. Where there should have been space for the voice of Kashmiris, there is enforced quiet. Where there should have been respect for their political will, there is the machinery of restriction, surveillance, and suppression.
The people of Kashmir are not a territorial claim to be managed, nor a security problem to be solved by force. They are a people whose freedom and consent remain the only legitimate measure of any settlement.
We therefore demand clearly, unapologetically, and without compromise that the will and freedom of the people of Kashmir be respected. Not managed. Not delayed. Not redefined by those who hold the guns and the offices.
عاصم منیر، شہباز شریف، گورنر سمیت تمام وفاقی کابینہ اور کور کمانڈرز آج پشاور میں تھے تو وہ جنازے میں کیوں نہیں گئے؟
یہی ٹولہ سہیل آفریدی پر الزام لگاتا تھا کہ وہ چند جنازوں میں ہی گیا- تو خود سب کہاں گئے؟
عدالت نے دو شہیدوں کی ماں کی انصاف کی اپیل داخل دفتر کر دی ،لیکن یاد رکھیں خدا ماؤں کی اپیلیں داخل دفتر نہیں کرتا وہ اپنے مکرر کیے وقت پر ایسا انصاف کرے گا کہ ظالموں کے لئے کرہ ارض پر کوئی پناہ نہ ہو گی
آج سے پچاس سو سال بعد ہم سب اس دنیا میں نہیں ہونگے، سب نے مر جانا ہے۔ لیکن یہ شان اللہ نے ارشد شریف کو ہی عطا کی، جنازے میں لاکھوں لوگوں کا شریک ہونا، چار سال سے قبر پر پھول نہیں سوکھے ، روزانہ لوگوں کا قبر پر حاضری دے کر دعائیں کرنا شہید ارشد شریف کے ہی نصیب میں لکھا تھا۔
کیا ہی کمال زندگی پائی ہے ارشد شریف نے ۔۔ ورنہ یہاں طویل اور طاقتور حکمران رہنے والے جنرل مشرف کے جنازے میں بیس لوگ بھی شریک نہ ہوئے، قبر کا کسی کو پتا نہیں۔
ارشد صاحب کے قاتل اور اس قتل پر خاموش رہنے والے سیاستدان، ججز، جرنیل اور صحافی بھی ایک دن مر ہی جائیں گے لیکن پاکستانی قوم اور انسانیت کے ہیرو ارشد شریف رہتی دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
اللہ پاک ارشد شریف شہید کے درجات بلند فرمائے ! آمین
#شہید_ارشد_شریف
تمہاری آنکھوں میں کچھ ایسا سکون ملتا ہے
جیسے بھٹکے ہوئے دل کو اپنا جہاں ملتا ہے
تم مسکرا دو تو دن سنور جاتا ہے میرا،
تمہارا ذکر ہو تو دل کو قرار ملتا ہے۔
https://t.co/LGbDiUVsHi
رانا ثنا اللہ کے مطابق ”دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع“ کے لوگوں کو تین آفرز دیئے گئے
1. اداروں کی مدد سے دہشتگردوں کو آبادی سے نکالے
2. یا عوام آبادیوں سے باہر آئے تاکہ دہشتگردوں سے نمٹا جائے
3. آواز میوٹ ہوگئی (کچھ برداشت کرنے کی بات ہوئی، غالباً کولیٹرل ڈیمج کی بات ہو رہی ہے)
ڈاکو ڈفر الائنس خود دہشتگردوں کو واپس لے کر آئی اور اب اس کا بوجھ مقامی آبادی پر ڈال رہی ہے۔
معزز چیف جسٹس صاحب میں نےآپ کو12 جولائی 2022 خط لکھا تھا میری جان کوخطرہ ہے مجھے تحفظ دیں!
معزز چیف جسٹس صاحب آپ مجھےتحفظ نہ دےسکے میں شہید ہوگیا۔ آج میری شہادت کو چار سال ہو گئے ہیں اب تو مجھے انصاف دے دیجئے۔
انصاف کا طالب
آپ کی قوم کا ارشد شریف
شوہر کے دوست کے قریبی عزیز کی مہندی اور سرکاری پروٹوکول ۔۔
راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کی ایم پی اے شازیہ رضوان صاحبہ کے شوہر کے دوست کے قریبی عزیز کی مہندی کی تقریب میں ایم پی اے صاحبہ لال نیلی بتیوں والی سرکاری گاڑیوں کے جاہ و جلال کے ساتھ شرکت کررہی ہیں۔ حکومت کی کفایت شعاری مہم اور پنجاب حکومت کی سادگی کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی۔
کچھ روز پہلے ایم پی اے شازیہ رضوان صاحبہ کی پنجاب اسمبلی میں عظمی بخاری صاحبہ کے بال ٹھیک کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔
ایک ہزار سال پرانی آپ سے میں نے تاریخ سنی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آج بھی ایسے د ایسٹ انڈیا کمپنی موجود ہے، اور باہر ایسٹ انڈیا کمپنی وضیفہ دے رہی ہے، ایثار رانا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
احسان غنی اپریل 2013 میں آئی جی خیبر پختون خوا بنے، ستمبر 2013 میں عہدے سے فارغ ہو گئے۔ تب سہیل آفریدی 24 سال کے تھے، یونیورسٹی پڑھ رہے ہوں گے۔ 2013 میں IG لگنے والے نے 13 سال بعد وزیراعلٰی سہیل آفریدی کو کیسے انکار کیا ہو گا۔
کم از کم دماغ کا استعمال ہی کر لینا چاہیے