پیارے فالورز!
یہاں میں نے صرف اچھی کمپنیز کا لسٹ فراہم کیا ہیں، یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ساری کمپنیز میں انویسٹ کریں۔ اس میں چوز کرسکتے ہو۔ اس میں زیادہ تر کمپنیز بلوچپ ہیں اور کچھ کمپنیز ابھی گروتھ کررہی ہیں جس کا مستقبل اچھا ہے! ایک ایک دو دو شئیرز بھی ہر مہینہ لے سکتے ہو
اپنی زندگی میں اس میں سے کوئی ایک Online سکلز ضرور سیکھیں، یہ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے اور یہ بلکل فری ہے، کوئی کلاسز نہیں, صرف موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی ضرورت ہے!
Software / AI-Assisted Programming
Trading: Gold, Silver, Oil, Crypto
Digital Marketing
UI/UX Design
عمران خان کے دور میں جب عالمی منڈیوں میں فی بیرل قیمت 120 ڈالرز تھی تو پاکستان میں پیٹرول 140 روپے لیٹر تھا۔
آج فی بیرل 100 ڈالرز ہے تو پاکستان میں 458 فی لیٹر ہے۔ اس وقت دس باپ کی اولادیں میڈیا چکلے کے دلال لفافہ صحافت حرامزادے آسمان سر پر اٹھا رکھے تھے کہ مہنگائی ہے۔ حرامزادو
$Worm — blending blockchain with digital life 👀
A unique concept built around an on-chain organism powered by a neural system inspired by biology.
Momentum is building and the narrative stands out in a crowded market.
Not just another token — this is a concept people watch.
Volatility is there, but so is attention.
Contract: DwDtUqBZJtbRpdjsFw3N7YKB5epocSru25BGcVhfcYtg
Chart: https://t.co/KiWhlARoJI
Website: https://t.co/WdPOJKUHGb
دزد نیم شب کا رقیب ( حصہ اول )
ویسے تو یہ کتاب کہیں بھی بہت پرانی کہانیوں کا احاطہ نہیں کرتی کیونکہ یہ کتاب کسی عمر رسیدہ سیاستدان کی بجائے ایک نوجوان کی جانب سے لکھی گئی ہے اور پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب تو اب کل کی کہانیاں ہیں لیکن یہ کتاب وہاں سے دلچسپ موڑ لیتی ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کے متعلق اپنی پالیسی کا کھل کر اظہار کیا اور وزیر مراد سعید نے اس کو لیکر ایک پریس کانفرنس کردی تو فوج کے اندر تشویش کی شدید لہر دوڑ جاتی ہے اور قدم قدم پر یہ اشارے ملتے ہیں کہ فوج اسرائیل کے متعلق اپنا موقف بدل چکی ہے۔ جی ہاں ، یہ عاصم منیر ، عاصم ملک یا پی ڈی ایم کے حکومت میں آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ یعنی اسرائیل کی طرف جو پالیسی شفٹ ہے یہ عاصم منیر کا نہیں فوج کا فیصلہ ہے۔
خیر جتنا حصہ پڑھا ہے اس میں کھل کر پاکستان میں دہشتگردی کے اس حصے کو موضوع بنایا گیا ہے جس کا سامنا ایک نوجوان ایک طالبعلم اور ایک سیاسی رہنما مراد سعید نے اپنی زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ کیا۔ سوات میں ہونے والے آپریشن کو تو مراد سعید نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ اس کے بدترین اثرات کو خود پر اور اپنے خاندان پر بھگتا۔ کسی آپریشن میں میں ریلیف کا کام کرتے ہوئے مراد سعید نے وہ سب دیکھا اور محسوس کیا جو باقی پاکستان نہیں دیکھ پاتا۔ کسی جگہ کے حالات مراد سعید اپنے ان دوستوں اور کولیگز سے جانتا رہا جو آپریشن زدہ علاقوں سے تھے۔
چاہے سوات ، چاہے وزیرستان ، باجوڑ یا خیبر جس بھی جگہ کا احوال مراد سعید نے قلمبند کیا وہاں کچھ چیزیں مشترک تھیں۔ تمام علاقوں میں پھیلنے والے دہشتگرد عناصر ماضی میں فوج سے منسلک رہے۔ جب انہوں نے دوبارہ ان علاقوں میں پنجے جمانے شروع کیے تو فوج ان سے لاتعلق رہی اور تاثر یہ پھیلتا رہا کہ یہ فوج کے اپنے لوگ ہیں۔ پھر انہی لوگوں کی کو فوج کی حمایت کی شواہد بھی ملتے رہے۔ پھر اچانک سے جیسے کسی بیرونی اشارے پر بغیر پیشگی اطلاع بغیر وارننگ کے اور بغیر کسی تیاری کے پوری قوت سے فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔
یہاں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ فوجی آپریشنز کے دوران بربریت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ فوج کی استعداد دہشتگردوں سے لڑنے میں بہت محدود ہے اور کارپٹ بمباری کرکے اور طاقے کا بے تحاشا استعمال کرکے پورے علاقے کو ملیامیٹ کردینے کو دہشتگردی کا مقابلہ کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو سینکڑوں ہزاروں معصوم لوگ نشانہ بنتے ہیں وہ کولیٹرل ڈیمج ہوجاتا ہے اور اس کا عوامی ردعمل کیا ہوتا ہے نا فوج اسے جانچتی ہے اور نا ہی اسکی پرواہ کرتی ہے۔ پھر یہ کولیٹرل ڈیمج بھی وجوہات کے انبار میں فوج کے خلاف نفرت کے ایک بہت بڑی وجہ بنا ہے۔
پی ٹی ایم کے خلاف قومی اسمبلی میں مراد سعید کی ایک ویڈیو بہت وائرل ہوتی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مراد سعید فوج کی حمایت کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مراد سعید نے اسکی بھی تفصیل سے وضاحت کی ہے اور یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے کہ ایک شخص جو زمانہ طالبعلمی سے فوجی آپریشنز ، سمگلنگ ، اور دہشتگردی کیخلاف لڑتا رہا وہ کیسے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے گروپ کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ محسن داوڑ سے متعلق کچھ دلچسپ انکشافات بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ رہا کہ فوج کی موجودگی ، فوج کا نیٹ ورک اور انٹیلی جنس بنیادی سے بنیادی سطح پر بھی موجود ہے۔ مراد سعید نے جب جب کوئی “ ریڈ لائن “ کراس کی کسی نا کسی کرنل صاحب ، جی او سی صاحب یا جنرل صاحب یا ان کا کوئی حواری پیغام لے کر آپہنچا اور “ ریاستی مفادات “ بتانے کی کوشش کی۔ مگر یہی نیٹ ورک اور انٹیلی جنس اس وقت بالکل غائب ہوجاتا ہے جب دہشتگرد کسی خطے میں پنجے گاڑنا شروع کرتے ہیں ، اپنی تعلیمات پھیلانا شروع کرتے ہیں یا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔
اگلے حصے پر تبصرے کے لیے فرصت کا انتظار فرمائیے اور اپنی فرصت کا بندوبست کرتے ہوئے یہ کتاب ضرور پڑھیے تاکہ آپ کے دماغ میں از خود پنپنے والے خدشات اور عسکری اکاونٹس کی جانب سے پھیلائے جانے والے کیڑے دونوں مر جائیں۔
عمران خان ایک قد آور ر لیڈر کی طرح صرف ملک کا سوچ رہا تھا اور ہے
چند چھوٹے لوگ صرف اداروں کا سوچ رہے تھے
اور کچھ بونے صرف اپنی ذات کے فائدے کا
اور آج پاکستانی چھوٹے لوگوں اور بونوں کی انا کی قیمت ادا کر رہے ہیں-
افسوس پاکستان کی ۷۵ سالہ تاریخ بونوں کے مفادات کی یرغمال رہی-
فارم 47 والے درباردیوں اور حافظ کی آقاو نے ہمارے پیارے نبی کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔ کیا اب بھی نہیں سمجھو گے کہ یہ سب اسرئیل کے دلال ہے جو ہمارے اوپر مسلط ہے؟
تم یہودیوں کو پنگاہیں فراہم کرو، تم یہودیوں کو مسلمانو کے خاتمے کے لیے ہواٸی اور بحری اڈے فراہم کرو، تم یہودیوں کے ساتھ مسلمانو کے خلاف سازشیں کرو اور تم پھر شکوہ کرتے ہو کہ ایران نے ہمیں کیوں ٹارگٹ کیا۔ میر جعفرو
We Stand with #Iran ✌️