نبی کریم ﷺ، مولا علی علیہ السلام، سیدہ العالمین جناب فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا، حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کے ذکر مبارک اور فضائل و مناقب کے بیان کو کسی فرقے سے منسلک کرنا یا فرقہ واریت سے تعبیر کرنا
انتہا درجے کی جہالت ہے
اللہ کے بندو !
نبی کریم ﷺ اور آپ کے اہل کسا اہل بیت اطہار( علی ، فاطمہ حسین و حسن) سلام اللہ علیہم پوری کائنات میں سب سے اعلی ، افضل اور کامل پاکیزہ نفوس ہیں
جو کوئی ان نفوسِ قدسیہ کی پیروی و اطاعت کرے گا
اس کو دنیا و آخرت میں یقینی فلاح ملے گی
کہ ان نفوس قدسیہ کی مودت نفس ، روح اور وجود کو پاک کرتی ہے
شخصیت میں عمدہ صفات کو اجاگر کرتی ہے
نفس پاک ہو کر نفس مطمئنہ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور روح پاک ہو کر لطیف ہو جاتی ہے
اور اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم کے طفیل پہلے رسول اللہ ﷺ اور پھر اللہ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اہل بیت رسول ﷺ کی مودت کو فرض کیا ہے
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بار بار اہل بیت رسول ﷺ کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنے اور اہل بیت رسول ﷺ کا دامن تھامنے کا حکم دیا
اہل بیت رسول ﷺ کی مودت کے بغیر فلاح ممکن نہیں ہے
یہ کسی فرقے کا عقیدہ نہیں ہے
آپ کے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے
اور پریکٹیکلی ثابت شدہ حقیقت ہے
تمام اولیاء و صوفیاء و صالحین کے جو انبیاء کرام کے بعد دنیا کے بہترین لوگ ہیں
سب کے سب نے برکت ، رحمت اور فضیلت اہل بیت رسول ﷺ کی مودت سے پائی ہے
رسول اللہ ﷺ نے علم و کرم و فضل کے جتنے چشمے جاری کئے ہیں
سب مولا علی علیہ السلام کے ذریعے سے جاری کئے ہیں، ولایت کا علم ہو یا قرآن کا فہم ہو
یا ایمان کی دولت ہو
سب کچھ اہل بیت رسول ﷺ کے وسیلے سے ہی ملتا ہے
اور وہ فرقہ پرست مولوی جو آپ کو اہل بیت رسول ﷺ سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
درحقیقت ابلیس کے نمائندے ہیں
#دین_اسلام
#حق_علی_مولا
امیر المومنین مولا علی علیہ السلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حکومتوں کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی
کہ جو بھی حالات رہے
بہر حال یہ تینوں حکومتیں عوام کی منتخب حکومتیں تھیں،
مولا علی علیہ السلام نے مگر بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی، کیونکہ وہ ناجائز طریقے سے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے،
امام حسن علیہ السلام بھی بڑا لشکر لے کر باغی حکومت کو کچلنے کیلئے آئے
امام ، کا سپہ سالار بک گیا ، جنگ بندی کا معاہدہ کرنا پڑا تو اس شرط پہ کیا کہ گیا کہ بنو امیہ، مسلمانوں کو ان کے خلیفہ کو منتخب کرنے کا حق واپس کریں گے
اور جب اس معاہدے کو توڑ کر بنو امیہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا
تو امام حسین علیہ السلام اس کیخلاف کھڑے ہوئے کہ یزید ناجائز طور پر مسلط کیا گیا تھا.
نبی کریم ﷺ سے لے کر امام حسین علیہ السلام تک ، محمد و اہل بیت محمد ﷺ کی لڑائی ناجائز حکومتوں کیخلاف تھی
کہ ناجائز طور پر مسلّط شدہ حکومت ہمیشہ انسانیت اور معاشرے کو تباہ کرتی ہے
پاکستان پہ بھی ایک ناجائز حکومت مسلط ہے
اور پاکستان کا جو حال ہے
وہ سب کے سامنے ہے
#پاکستان
حسین (ع) فقط ایک فرد کا نام نہیں بلکہ حسین (ع) ایک نظام کا نام ہے، حسین (ع) ایک فکر کا نام ہے، حسین (ع) ایک شعور کا نام ہے ، حسین (ع) ایک آگہی کا نام ہے۔۔حسین (ع) ایک بیداری کا نام ہے..
"دین کا دوسرا نام حسین ہے" ❤
حسینؑ بہت مشکل بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ مشکل اتنا کہ عمرِ سعد جیسے مفتی کی سمجھ میں نہ آئے اور آسان اتنا کہ حُر جیسے سپاہی کی سمجھ میں آجائے۔”
علامہ امجد رضا جوہری