نسلوں کے درمیان بڑھتی خلیج:
Gen X، Millennials، Gen Z اور Alpha کا مکالمہ
ثقافتی تنوع اور عالمی امن: کیا مکالمہ ہی واحد حل ہے؟
اختلاف سے مفاہمت تک: وہ مکالمے جنہوں نے تاریخ بدل دی
علم، تہذیب اور بین الثقافتی مکالمے کی روایت
مکمل لیکچر کیلئے وزٹ کیجئے
https://t.co/LenErPQvVf
یومِ شہادت امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروقؓ
آپؓ کا عہدِ خلافت عدل، تقویٰ، شجاعت، سادگی اور رعایا پروری کی روشن مثال ہے۔ حضرت عمرؓ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ اصل حکمرانی اقتدار سے نہیں، عدل و امانت سے قائم ہوتی ہے۔
تو اے بادِ بیاباں از عرب خیز
ز نیلِ مصریاں موجے برانگیز
بگو فاروقؓ را پیغامِ فاروقؓ
کہ خود در فقر و سلطانی بیامیز
درونِ خویش بنگر آن جہاں را
کہ تخمش در دلِ فاروقؓ کشتند
(علامہ محمد اقبالؒ)
اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے عدل، کردار اور تقویٰ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
#HazratUmarFarooq
#FarooqEAzam
#Justice
#IslamicHistory
جب انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اسے اپنے جانے کا احساس نہیں ہوتا، مگر اس کا دکھ دوسروں کو محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح جب انسان کے اندر انسانیت، احساس اور رحم کمزور پڑ جائے تو اس کی تکلیف وہ خود نہیں، بلکہ پورا معاشرہ محسوس کرتا ہے۔
انسانیت، اُنس اور محبت سے ہی انسان کی پہچان ہے۔
از محبت تلخها شیرین شود
از محبت دردها شافی شود
رومیؒ
#Humanity #Compassion #Respect
Despite external pressures & limited resources, Pakistan became Nuclear state. Pakistan’s policy emphasizes regional peace & stability, however, it maintains unified posture to deter & responsibly respond to any external aggression.
#YoumeTakbeer
جب اللہ تعالیٰ کی صفات، جیسے رحم ، علم ، عدل، سچائی اور حکمت انسان کے کردار میں نمایاں ہو جائیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا فیتھ زندہ اور فعال ہے- لیکن اگر یہ صفات انسان کے رویّوں اور اعمال میں ظاہر نہ ہوں، تو پھر فیتھ محض ایک دعویٰ رہ جاتا ہے، ایک ایسا تصور جو زبان تک محدود ہے اور دل و کردار تک نہیں پہنچ سکا- فیتھ کی اصل پہچان اس کے دعوے میں نہیں بلکہ عملی اظہار میں ہے-
مکمل مضمون: مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، مئی 2026
Ancient cite of Taxila, once served as the greatest learning center of the Gandhara Civilization, is among world’s old hubs for civilizations & faith traditions. The chants of Buddhist monks were heared once again at the ancient Dharmarajika Stupa in Taxila after nearly 15 years. Presence of Buddhist monks & diplomats from Sri Lanka, Thailand, Nepal, Vietnam & Myanmar demonstrated that this heritage still resonates deeply across Asia. It also reflects Pakistan’s great potential for religious & educational tourism as well as the role for inter-faith harmony. Govt. should preserve & maintain these historical sites & facilitate visitors by offering hassle-free services, including easier visas, to attract a larger number of foreign tourists.
شعبۂ نرسنگ محض ایک ذریعۂ معاش نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت، ایثار اور پاسداریِ حیات کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ تاریخِ طب اس حقیقت کی شاہد ہے کہ کٹھن ترین حالات، ہنگامی کیفیات اور لمحات میں نرسنگ اسٹاف نے صبر، استقامت اور جذبۂ خدمت سے انسانی جانوں کے تحفظ میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر ناگزیر ہے کہ حکومتِ شعبۂ صحت و نرسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تحقیقی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید جِلا بخشنے اور نرسز کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے مؤثر و دوررس اقدامات عمل میں لائے۔
پاکستان اس شعبے میں بے پناہ استعداد اور صلاحیت کا حامل ہے، اور اگر نرسنگ کے شعبے کو عالمی معیار کے مطابق مزید فروغ دیا جائے تو نہ صرف ملک کے اندر طبی نظام کو مستحکم کیا جا سکتا ہے بلکہ تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کو دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات کیلئے بھیجا جا سکتا ہے، جو ایک جانب عالمی انسانی خدمت میں معاون ثابت ہوگا اور دوسری جانب پاکستانی نوجوانوں کیلئے باوقار روزگار اور قیمتی زرِ مبادلہ کا مؤثر ذریعہ بھی بنے گا۔
یومِ نرسز کے موقع پر خدمتِ انسانیت کے اس عظیم فریضے سے وابستہ تمام افراد کو خراجِ تحسین۔
#NursesDay
Tashkent - Uzbekistan: Diplomacy of the Heart Conference,
Keynote speech on “Islam & Peace: Ethical Foundations & Diplomacy of Heart”
Key Points:
Allama Iqbal says to God:
جہان تہی ز دل و مشت خاک من ہمہ دل
In all this vast universe, nothing possesses a heart. But, every single grain of my dust, every infinitesimal atom of my being, is itself a heart. My entire existence is nothing but heart.
- Heart is deeper than rivers & oceans who can fathom Heart Hoo (Sultan Bahoo)
- Some types of Heart in Qur’ān
i- Safe Heart
Satisfied Heart (2:260)
Protected heart (26:89)
Pious Heart (22:32)
Submissive Heart (57:16)
ii- Dynamic Heart
Turning Heart (6:110)
Trembling Hearts (8:2)
Receiving Guidance(64:11)
iii- Ailing Heart
Heart in disease (33:32)
Heart in doubt (9:45)
Sinful Heart (2:283)
Deviated Heart (61:5)
iv- Dead Heart
Sealed Heart (45:23)
Hardened Heart (3:159)
Stained Heart (83:14)
Blind Hearts (22:46)
Locked Heart (47:24)
- Qalb & fuwād, both are used for heart in Arabic. Fuwād is passionate state. Quran commands:
“The (Prophet’s [ﷺ]) heart (fuwād) did not lie (in seeing) what he (saw).” (53:11)
“And the heart (fuwād) of Moses’ mother became empty” (28:10)
- H̱adīth Qudsī
“There is a piece of flesh in the body if it becomes good the whole body becomes good but if it gets spoilt the whole body gets spoilt and that is the heart.”
“Neither My Earth nor My Heavens can contain Me, but the heart of a Believing Servant, contains Me”
- Qur’ān (18:28)
“and do not obey one whose heart We have made heedless (neglectful) of Our remembrance”
i.e., leader should not have advisor whose heart is neglectful.
- Sufis criticize mere rituals without heart’s awakening.
“You never made your heart perform the prayer, what use if you offer it outwardly Hoo” (Sultan Bahoo)
- Sufis played instrumental role in establishing harmony in Muslims world. They harmonized their teachings with pre-existing local traditions.
- Today we need passionate heart (fuwad) for humanity to work for peace & harmony.
Thanks to Dr. Bahman Bakhtiari & organizers Baskerville Institute, Youth Union of Uzbekistan & The Stirling Foundation.
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
انسان دوسروں کے ساتھ جو رویہ، اخلاق اور سلوک اختیار کرتا ہے اور اپنے وجود سے معاشرے کو جو کچھ دے کر جاتا ہے، وہ اس کا حقیقی حصہ اور اس کی اصل کمائی ہے- کیونکہ انسان کے کردار، عمل اور خدمت پر اس سے باز پرس ہوگی۔ انسان کے ساتھ نہ اس کی دولت دنیا سے جاتی ہے اور نہ اس کا جاہ و منصب، بلکہ صرف اس کے اعمال اس کے ہم سفر بنتے ہیں-
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺ و حق باھُوؒ کانفرنس،کراچی 3 مارچ 2024ء