معصوم بچی کے سامنے ایک باپ پر ڈنڈوں سے حملہ، ویگو ڈالے میں سوار افراد کی مبینہ غنڈہ گردی دیکھ سکتے ہیں!
موٹرسائیکل سوار جو اپنی چھوٹی معصوم بچی کے ساتھ سفر کرتے دیکھا جا سکتا ہیں، ویگو ڈالے میں سوار 2 افراد نے اس بچی کے باپ پر صرف اس بات پر تشدد کا نشانہ بنایا کہ تم میرے سامنے سےکراس کیوں ہوئے،اس بہس پر ویگو ڈالے والے نے ڈنڈوں کے ساتھ مصوم بچی کے باپ پرپرحملہ کر دیا، اپکی نظر میں ایسے درندے نما انسان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اور اسکی نشاندہی میں مدد کریں؟
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب ��ثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو ��ھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پ��لے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم ک�� قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہ��، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
“The recent escalation between Pakistan and India has once again proven that Pakistanis are a brave, proud, and dignified nation.
I have always said, "Mulk bhi mera, Fauj bhi meri" (this country is mine, and so is the army). Just as our soldiers defeated Modi on both aerial and ground fronts, the people of Pakistan—especially on social media—exposed and dismantled Modi and the RSS’s narrative at a global level.
By targeting innocent civilians such as children, women, the elderly, and civilian infrastructure in Pakistan, Modi displayed cowardice. Our forces responded with strength and precision. We stand in full solidarity with the families of both civilians and military personnel who were martyred in these cowardly attacks.
I pay tribute to the Pakistan Air Force and all our military personnel for their professionalism and outstanding performance. Unlike Modi, who targets civilians and public infrastructure, our forces successfully hit only the aircraft and installations directly involved in the attacks.
Narendra Modi harbors deep hatred for Pakistan. The fearless attitude shown by Pakistanis during this conflict must have only fueled his anger. He is likely furious and may attempt another false-flag operation, similar to what he orchestrated in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir. We must stay alert and fully prepared. I had predicted this scenario back in 2019 as well. Modi will also try to inflict economic damage on Pakistan. In case of any new attack, the nation must remain united and ready.
During wartime, a swift response is absolutely vital. Wars are fought as much with nerves as with weapons—perhaps 60 percent of it depends on mental strength. That is why it is crucial to have leadership that enjoys the people’s trust and can make bold and timely decisions in the face of aggression.
In a state of war, the military needs public support more than ever. The morale of the nation becomes the strength of the armed forces. That is why I’ve consistently emphasized that we must not isolate our people, and we must breathe life back into our justice system”
Illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family at Adiala Jail today, in reference to India’s attack on Pakistan and the Pakistani nation’s resilient response (May 13, 2025)
1/2
“پاک بھارت حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ “فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے”- جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-
مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ��ن بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں-
میں پاک فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مودی کی طرح سویلنز اور سول تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے پاکستان پر حملے میں شامل طیاروں اور تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کر کے کامیابی حاصل کی-
نریندرمودی پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو ��ا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ کرنے کی کوشش کرے گا جیسا جموں کشمیر میں کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا۔ میں 2019 میں بھی اس حوالے سے پیشنگوئی کر چکا تھا- مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
دوران جنگ فوری ردعمل دینا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔
حالت جنگ میں فوج کو عوام کی حمایت کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور قوم کا مورال بہت اہمیت رکھتا ہے جو فوج کا سہارا بنتا ہے۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو "آئیسولیٹ" نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید ��ابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات میں بھارت کے پاکستان پر حملے اور پاکستانی قوم کے جوابی ردعمل کے حوالے سے گفتگو
(13-05-2025)
1/2
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر خواتین پر تشدد کا ایک اور واقعہ، کسٹم حکام کے مطابق خواتین نے سامان چیکنگ پر جھگ��ا شروع کیا تھا۔ کسٹم حکام خاتون کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے۔
جب سے آپ نے اس نئی جنگ کو ہم پر مسلط کرنے کا فیصلہ کیا تھا اُس دن سے لے کر دو دفعہ عوامی طاقت سے دہشتگردوں کونکالنے اور آج دن تک آپ کو وارن کرتا رہا کہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرو۔ ۷ ہزار سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت ۸۰ ہزار بے گناہوں کی قربانی اور لاکھوں شہریوں کو بے گھر کرنے کے بعد ملک میں امن آیا تھا۔ گلگت سے وزیرستان، باجوڑ سے بلوچستان پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا کیونکہ اپنی relevance قائم رکھنے کے لیے ایک اور ڈالری جنگ کا سہارا درکار ہے جو ہاتھوں سے پھسلتی طاقت کو دوام دینے کا راستہ بنے بھلے اس کا ایندھن پوری قوم بن جائے (افراد کی) خوشحال مستقبل کی ضامن بیرونی امداد اور اندرونی وسائل پر قبضوں کی سبیل اسی سے جاری رہنی ہے۔ اپنی اس desperation میں ملک کو جس نہج پرپہنچا دیا گیا ہے۔۔۔ اس سے آگے ملک کی سلامتی آپ کی اپنے آئینی حدود میں واپسی اور اپنے اصل کام پر توجہ کرنے پر منحصر ہے نہ کہ سیاسی انجینئرنگ اور زراعت سے لے کر مویشی منڈیوں تک کے انتظامات دیکھنے میں۔ حالات دیکھیں اور اپنی ترجیحات دیکھیں۔ کل کو دوسرے ملکوں میں اپنے ناموں سے مکرنے سے بہتر ہے، آج اپنے ملک کو بسنے دو۔ اپنے لوگوں کو جینے دو۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہیش پر دم نکلے ، مریم نواز کی یہ خواہیش پوری نہیں ہو گی کہ عمران خان اپنی رہائی کے لئے منت سماجت کرے البتہ خان سے اڈیالہ جیل میں یہ منت ضرور کی گئی ہے کہ آپ کی نااہلی تین ماہ میں ختم کر دی جائے گی آپ اپنے رویے کو تبدیل کریں لیکن خان نے انکار کر دیا
#JusticeForIqra
سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکل��ٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری ��رفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے
“I am deeply grateful to Saudi Crown Prince HRH Mohammed bin Salman for responding to my appeal and releasing nearly 7200 poor and deserving Pakistani citizens from Saudi prisons.
I have always strived to use my position and influence to improve the lives of ordinary Pakistanis. This is precisely the reason for me entering in politics, and I will continue to advocate for it as long as I live.” - Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan
“صاحبزادہ حامد رضا کے گھر اور مدرسے پر غیر قانونی چھاپے کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔ اردلی حکومت ایک جانب مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے اور دوسری جانب ��نسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم اس چھاپے کے بعد مذاکرات کا عمل فوری طور پر روک رہے ہیں۔ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان اور ہمارے اتحادی کے گھر پر چھاپہ ہماری مذاکراتی کمیٹی پر حملہ ہے۔ اس دوغلے پن اور بدنیتی پر مبنی مذاکراتی عمل سے کوئی خیر برآمد نہیں ہو سکتی-
میں نے اپنی جماعت کو ہدایت جاری کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان میں قانون کی حکمرانی، جمہوریت کی بقا اور انسانی حقوق کی پابندی کی خاطر اعتماد میں لیں۔ ہم اس جعلی حکومت کے خلاف گرینڈ قومی ایجنڈا پر کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں ہر جانب عدم استحکام کے ڈیرے ہیں۔
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچ گمشدہ افراد کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے جس کے لیے ماہ رنگ بلوچ اپنی آواز بلند کر رہی ہیں بلوچستان والا حال اب پورے ملک کا ہے، تحریک انصاف کے بھی کئی کارکنان لاپتہ ہیں۔ہم اس مسئلے میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے اس معاملے کو رکھیں گے۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی ، استحکام ممکن نہیں ہے۔
میں اسٹیبلشمنٹ سے اپنی ذات کی خاطر کچھ نہیں مانگتا۔ میں اگر ان سے بات کروں گا تو وہ صرف ملک اور قوم کی بہتری کے لیے ہو گی۔ اصل کنٹرول تو ان کے ہاتھ میں ہے۔باقی سب ان کی کٹھ پتلیاں ہیں جو ان کے اشاروں کی منتظر رہتی ہیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 سینیر ترین جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کا قیام کیا جائے تاکہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات میں ملوث اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔اس کے بغیر ہمیں کوئی کمیشن قابل قبول نہیں ہے۔
بددیانت افراد کبھی نیوٹرل ایمپائرز کی حمایت نہیں کرتے۔ جوڈیشل کمیشن کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ یہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ خود نو مئی کے فالس فل��گ اور 26 نومبر کے قتل عام میں ملوث ہے۔ نو مئی کو انہوں نے خود چوکیوں سے فوج اور پولیس کو غائب کیا، خود آگ لگائی اور خود سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر کے الزام بے گناہ سیاسی کارکنان پر ڈال دیا۔ 26 نومبر کو بھی ہمارے لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا اور ہمیں ہی دہشتگرد قرار دیا گیا۔ ہمارے کم از کم 14 لوگوں کو شہید کیا گیا، کئی افراد زخمی اور گمشدہ ہیں، ہزاروں لوگوں کو بے گناہ جیلوں میں ڈال دیا گیا جو جیلوں سے باہر ہیں وہ ضمانت کے لیے کبھی ایک عدالت، کبھی دوسری عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کوئی ان کی شنوائی نہیں کر رہا۔
ملک ریاض کا حالیہ بیان ہے کہ اگر وہ اپنا منہ کھولیں گے تو بہت سے لوگوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں ملک ریاض سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بتائیں پچھلے 30 سال میں کون کون سے ججز ، جرنیلوں اور سیاست دانوں نے ان سے پیسے اور دیگر مالی فوائد حاصل کیے تا کہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ کون سے چہرے اس گندگی میں ملوث رہے ہیں۔ یہ سب جو آج بوگس القادر ٹرسٹ کیس پر تنقید کر رہے ہیں کتنے دودھ کے دھلے ہیں دنیا کو معلوم ہونا چاہیئے۔
اوور سیز پاکستانیوں کو میرا پیغام ہے کہ اس حکومت کو ترسیلات زر بھیجنا اپنے ہاتھ خون سے رنگنے کے مترادف ہے۔ یہ حکومت اپنے ہی شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہے لہذا ان کو ترسیلات زر بھیجنے کا سختی سے بائیکاٹ کریں” - سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو
Former Prime Minister Imran Khan's conversation with lawyers and media at Adiala Jail - January 22, 2025
"To extend Yahya Khan Part 2's hold on power and to cover up the events of May 9th (2023), Chief Justice Qazi Faez Isa did not hear our petitions regarding the May 9th false flag operation and the election rigging of February 8th (2024). The worst human rights violations in history were committed against PTI. From Zille Shah to Sami Wazir, there is a long tale of oppression and tyranny against us. We have not been able to get justice from any court across the country. The courts are paralyzed, but even today, the illegitimate government fears that if a judge hears our petitions on human rights violations on merit, they might actually deliver justice. But no matter what they do, it is a divine law that a reign of tyranny and oppression cannot last long.
I am deeply grateful to Saudi Crown Prince HRH Mohammed bin Salman for responding to my appeal and releasing nearly 7,200 poor and deserving Pakistani citizens from Saudi prisons. I have always tried to use my position and influence to improve the lives of ordinary Pakistanis. This was one of the reasons I entered politics, and I will continue to strive for it for as long as I live.
Neither Bushra Bibi nor I have financially benefited from the Al-Qadir Trust in any way. Malik Riaz will testify that I was the only Prime Minister who never sought anything from him for personal or financial gain. Unlike Zardari, I did not have a Bilawal House built for me, nor did I sell One Hyde Park at double its value, like the Sharif family did. The future of Pakistan's youth is important for me, and it was for this reason that Al-Qadir University was established.
They have used every tactic to cause me agony. I strongly condemn the social media campaign launched by our opponents against Bushra Bibi. The opposition has been slinging mud at Bushra Bibi for the past six years just so they can somehow malign my character. Those who claim to be our well-wishers, but become part of their propaganda are not our well-wishers, but are playing into the enemy’s hands by carrying out their mission."
سابق وزیراعظم عمران خان ک�� اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“یحییٰ خان پارٹ 2 کے اقتدار کو طول دینے اور 9 مئی کے واقعات کو چھپانے کے لیے قاضی فائز عیسیٰ نے 9 مئی فالس فلیگ آپریشن اور 8 فروری انتخابی دھاندلی سے متعلق ہماری پٹیشن نہیں سنی۔ تحریک انصاف کے ساتھ تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ظلِ شاہ سے لے کر سمیع وزیر تک ہمارے ساتھ ظلم و جبر کی ایک طویل داستان ہے۔ ہمیں ملک بھر میں کسی بھی عدالت سے انصاف نہیں مل سکا۔ عدالتیں مفلوج ہیں،آج بھی ان کو یہی خوف ہے کہ کوئی جج میرٹ پر ہماری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی درخواستیں نہ سن لے اور کہیں ہمیں انصاف نہ مل جائے۔ یہ جو بھی کر لیں خدائی قانون ہے کہ ظلم و جبر کا دور زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔
میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے میری اپیل پر 7200 کے قریب غریب اور مستحق پاکستانیوں کو سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیا۔ میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ اپنے عہدے/اثرورسوخ سے عام پاکستانیوں کی زندگی سنوارنے کا اقدام کر سکوں۔ میرا سیاست میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا اور میں تا دم اس کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گا-
مجھے یا بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہے۔ ملک ریاض اس بات کی گواہی دیں گے کہ میں واحد وزیراعظم تھا جس نے ان سے اپنے ذاتی یا مالی فائدے کے لیے کوئی چیز طلب نہیں کی۔ زرداری کی طرح بلاول ہاؤس نہیں بنوایا اور نا ہی شریف خاندان کی طرح ون ہائیڈ پارک دگنی قیمت پر بیچا ہے۔ میرے لیے ��اکستان کے نوجوانوں کا مستقبل اہم تھا اور اسی کے لیے القادر یونیورسٹی قائم کی۔
انہوں نے مجھے تکلیف دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ بشریٰ بی بی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے چلائی جانے والی سوشل میڈیا کمپین کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔اپوزیشن پچھلے چھ سال سے بشریٰ بی بی پر کیچڑ اچھال رہی ہے تا کہ کسی طرح سے میری کردار کشی کی جا سکے۔جو ہمارے خیر خواہ ہوتے ہوئے ان کے پروپگنڈے کا حصہ بنتے ہیں وہ ہمارے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن کے مشن کی تکمیل کر رہے ہیں۔“
@MaryamNSharif ہمارے محلے میں ایک غریب ادمی ہے اس کا گھر صرف 5 لاکھ کی وجہ سے قبضہ کر لیا ہے اس ادمی نے صرف 2 مہینے کا ٹائم مانگا ہے لیکن انہوں نے اج اس کے گھر پر قبضہ کر لیا اس گھر کا اس نے 50 لاکھ دیا ہوا ہے صرف 5 لاکھ کا ٹائم نہیں ملا