راجا ریاض کو ڈمی اپوزیشن لیڈر بناتے ہیں پھر وہ نگران وزیر اعظم کی پرچی شہباز کو دیتا ہے شہباز آنکھیں بند کرکے قبول کرتا ہے پھر راجا ریاض ن لیگ میں شامل ہوجاتا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ اس نورا کشتی اور کھلی بے غیرتی کو عوام سپورٹ کرے؟ آپ ہر روز عمران خان کو سچا ثابت کر رہے ہیں
آسان الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں ۔۔
جتنے “سرعام” پروگرام آپ نے کیے اور لوگوں کے (اپنی طرف سے) جرائم پکڑے
کسی دن وہ سب اکٹھے ہو جائیں اور آپ کو جیل میں تُنوا دیں اور کہیں “دیکھا مکافات عمل”
تو
وہ آپ کی “جگ بیتی” ہوگی یا “آپ بیتی” ؟؟
۔۔
ناضرین کیا خیال ہے جواب آئے گا ؟؟
پی ڈی ایم نے 16 ماہ کی حُکومت میں 10 ارب رُوپے کے اشتہارات دئیے میڈیا کو۔
اے آر وائ کی رپورٹ
مطلب 62 کروڑ رُوپے فی مہینہ۔ اب آپ کو پتہ چلا کہ یہ کیوں اپنے مالک کے خلاف نہیں بھونکتے۔
دیر لگی آنے میں ان کو شکر پھر بھی آئے تو ۔۔۔ جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر میں ڈیڑھ سال بعد آخر خبر پہنچ ہی گئی کہ پٹرول مہنگا ہو گیا ہے اور عوام بجلی کے بل ادا کرنے کے قابل نہیں رہے ۔ دراصل منصورہ جانے والے ڈاکیے کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا اور اب اسے چھوڑ دیا گیا ہے ۔
چیئرمین عمران خان کا ملک کے محنت کش طبقے کیلئے پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام جس میں انہوں نے سماج میں تمام شعبہ ہائے حیات سے منسلک افراد کو ملک میں جاری ظلم و استحصال کے خلاف اور حقیقی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
خان سرخروح ہوا۔ سرخ لکیریں لگانے والے دوست پریشان۔ معاملات ہاتھ سے نکلنے لگے ہیں۔ الیکشن کی آمد آمد ہے۔ اب خان الیکشن بھی لڑے گا۔ جیتے گا بھی اور وزیراعظم بھی بنے گا۔ انشاللہ
عمران خان پہلے فیئر ٹرائل سے محروم۔ پھر بنیادی حقوق سے محروم۔ اب prison rules کے تحت قیدی سہولیات سے محروم۔ عالمِ اسلام کے لیڈر کو چھوٹے سیل میں رکھنے والے بونے، عوام کے غم و غصے سے نہیں بچ سکتے۔ پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔۔۔ عمران تھا، ہے اور رہے گا۔ انشاءاللّٰہ
معتصب جج کے بوگس فیصلے کے مُنہ پر پہلا طمانچہ۔
پشاور کے بہادر اور جانباز عوام کو مبارکباد۔ عمران خان کو کوئی مائنس نہیں کرسکتا، کیونکہ عوام انہیں پورے پاکستان یونہی پلس کرتے جائیں گے۔ پی ڈی ایم میں ہمت ہے تو الیکشن کا اعلان کرے۔
💯% true..
جنرل باجوہ نے سازش کر کے پہلے ہمیں ہماری جو سیٹیں بنتی تھیں وہ نہیں لینے دیں تاکہ ایک کمزور اتحادی حکومت بنے�� اسکے بعد جب حکومت بنی تو شروع دن سے ہی سازشیں شروع کر دیں
(عمران خان)
باجوڑ میں بم دھماکے جس کے نتیجے میں 40 قیمتی جانیں ضائع جبکہ 150 افراد زخمی ہوئے، پر نہایت رنجیدہ ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ترجیحات کے از سرِ نو تعیّن کا تقاضا کرتا ہے۔ اہلِ اقتدار سیاسی انجینئرنگ سے رُخ موڑ کر دہشت گردی کے انسداد کو ریاستی وسائل اور کوششوں کا مرکز بنائیں۔
پاکستان دہشت گردی کی ایک اور لہر کا ہرگز متحمّل نہیں ہوسکتا۔
PTI worker Sohail Khan was shot on the 9th of May while exercising his constitutional right to protest peacefully against the unconstitutional and unjust abduction of his party chairman, Imran Khan.
His leg had to be amputated but then in yet another case of blaming the victim, he was picked up by the police and jailed.
The silence of the human rights organisations and our journalist community is shocking when the same day 16 were confirmed shot dead, 9 missing but feared to be killed, 3 had their legs amputated and 1 is paralysed.
In which civilised society is such barbarism tolerated?
We will be registering an FIR against the police.
پاکستان تحریک انصاف کے کارکن سہیل خان کو 9 مئی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ اپنی جماعت کے چیئرمین عمران خان کے غیرآئینی اور غیرمنصفانہ اغواء کیخلاف پرامن احتجاج کا حق استعمال کرنے میں مصروف تھا۔
اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی مگر مظلوم کو ہی مجرم بنانے کے سلسلے کے تحت اسے پولیس نے پھر اٹھا لیا اور قید میں ڈال دیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی برادری کی خاموشی باعثِ تعجّب ہے حالانکہ اسی روز 16 شہریوں کو مصدّقہ طور پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا، 9 لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وفات پاچکے ہیں، 3 پاکستانیوں کی ٹانگیں کاٹنا پڑیں جبکہ 1 شہری اپاہج ہوگیا۔
دنیا کے کس مہذب معاشرے میں یہ بربریت برداشت کی جاتی ہے؟
ہم پولیس کےخلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔
محض مجھے نااہل کروانے اور جیل میں ڈالنے کی غرض سے کسی بھی معاملے میں ملوث کرنے (مجھ�� مورودِ الزام ٹھہرانے) کے خبط میں مبتلا مجرموں کے نا��ائق ٹولے نے ایک مرتبہ پھر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔
انہوں نے مجھے سائفر والے تماشے کو پورے اہتمام سے بےنقاب کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا ہے۔
کل میں کسی لگی لپٹی کے بغیر تمام تفصیلات قوم کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے 17 برس میں (پہلی مرتبہ) بہترین معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایک حکومت کا تختہ الٹنے اور ان مجرموں، جو ملک کو تباہی کے گھاٹ اتار چکے ہیں، کو اقتدار میں لانے کیلئے ایک سازش رچائی گئی۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ تفصیلات ٹیلی ویژن پر چلنے والے کسی بھی ڈرامے سے بڑھ کر دلچسپ اور سحر انگیز ہوں گی۔