میرے والدِ محترم، رہنما پاکستان تحریکِ انصاف و سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید گزشتہ چار سال سے ظلم و جبر کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں قید ہیں۔آج اچانک طبیعت ناساز ہونے پر انہیں جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا،جہاں پیٹ میں موجود رسولی کی سرجری کی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سرجری کے بعد آرام اور مناسب طبی نگہداشت کے بجائے انہیں فورا واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔چار سال گزرنے کے باوجود ظلم و جبر بھی میاں محمود الرشید کے حوصلے کو نہیں توڑ سکا۔ ایک بیٹی کے لیے اپنے والد کو اس حالت میں جاننا انتہائی کربناک ہے۔ پوری قوم سے ان کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل ہے۔
I haven’t been able to attend Parliament’s session in recent times due to illness. But honestly speaking- i’ve lost trust in every institution including Parliament.
عمران خان نے نظام ننگا کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے آرڈر میں میڈیکل رپورٹس پر بات کرنے سے منع کیا تھا۔ نہ میڈیکل رپورٹس ہمیں ملیں، نہ فیملی نے اور نہ ہی خان صاحب کے ڈاکٹرز نے ان پر کوئی بات کی، لہٰذا ہماری طرف سے عدالتی حکم کی کوئی توہین نہیں ہوئی۔
دوسری طرف حکومت اور اس کے ٹاؤٹس ہر قدم پر عدالتی حکم کی توہین کرتے رہے۔ منیب فاروق اور حسن ایوب جیسے صحافی تو کل سے ہی ٹی وی پروگراموں میں کہہ رہے تھے کہ خان صاحب کو شفاء لے کر ہی نہیں جائیں گے، صرف پمز لے کر جائیں گے۔
یہیں سے حکومت کی نیت پہلے ہی عیاں تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں بلکہ توہینِ عدالت کرنے جا رہی ہے۔
shameful how a former PM is being denied medical treatment even after a court has ordered it. Even more shameful, that leaders of both parties PMLN and PPP have spent the better part of their convictions in private hospitals, domestic and foreign.
Yet most shameful has been Law Minister announcing on national television that “authorities” have decided that SC order is outside “legal parameters”.
as hybrid defense minister loves to say:
کوئی شرم، کوئی حیا، کوئی گریس ہوتی ہے
My dearest Insafians,
With a heavy yet hopeful heart, I plead with every single one of you: please remain calm, stay strong, and refuse to let any propaganda shake our unity.
In this difficult hour, let us stand together as one family praying, hoping, and believing that our beloved Imran Khan recovers fully and returns home to Bani Gala, safe and healthy.
Insha Allah, that day is near. Our love and prayers will carry him there.
عمران خان کو جیل میں 3 سال ہو گئے، پچھلے 8 ماہ سے فیملی کی ملاقات بند ہے، سیاسی رہنماؤں کو عدالتوں میں لایا جاتا تھا، عمران خان کیلئے صرف جیل ٹرائل ہے، عمران خان نے میڈیکل بنیاد پر ایک بار بھی ضمانت نہیں مانگی، دوسرے رہنماؤں کی طرح گھر کے کھانے والی سہولت بھی میسر نہیں۔
ہم 3 عورتیں کھڑی ہیں، جتنے کیسز بنانے ہیں، بنا دو، کیا کر لو گے؟ زیادہ سے زیادہ مار دو گے، ہم نہیں ڈرتے۔ ہم شہادت قبول کر لیں گے، لیکن اپنے بھائی اور اپنے مُلک کے لیے کھڑے رہیں گے۔ علیمہ خان
#pakistan@Aleema_KhanPK
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Salute to the brave Indian students, parents, and citizens standing for democracy, free speech, and justice. Repression is never a sign of strength. Whether it’s RAF Assistant Commandant Sonia Sehrawat in India or ASP Sher Bano Naqvi in Pakistan, abuse of power in uniform is unacceptable. Brutality has no borders—and neither should our demand for accountability.
1/ Iranian people demand complete and remorseful punishment of the aggressors.
All Irainan officials stand firmly behind their supreme leader and people until this goal is achieved.
عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اعلامیے میں ایران کی مذمت تو ہے لیکن عالمی دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کی غنڈہ گردی کا نام تک نہیں
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
I’ve heard that the remaining members of Epstein’s network have devised a conspiracy to create an incident similar to 9/11 and blame Iran for it. Iran fundamentally opposes such terrorist schemes and has no war with the American people.