یہاں پر ایسے لوگ بھی ہیں جعل سازی، دو نمبری اور گھریلو کیسز پر قا��ون حرکت میں آتا ہے اور وہ اُسے خان صاحب سے جوڑ دیتے ہیں کہ میرے پر اس لیے سختی کی جا رہی ہے کہ میں خان صاحب کا/کی سپورٹر ہوں اور سٹے سٹرونگ کی کمپین شروع
مسئلہ فارم 47 نہیں،125 یونین کونسلز ہیں ہر یونین کونسل میں 9 وارڈز ہیں پہلے فیز میں 1125 امیدوار لانا ہونگے، پھر دوسرے فیز میں 500 امیدوار تیسرے فیز میں 250 امیدوار لانا ہونگے یعنی کل 1875 امیدوار لانا ہونگے۔۔پہلے بھی امیدوار نہ ہونے کیوجہ سے ن لیگ نے الیکشنز ملتوی کرا دئیے تھے
شفیع جان اسمبلی میں ثبوت پیش کرتے ہوئے🚨
جو ملٹری اپریشن سوات میں ہوا جو وزیرستان میں ہوا اس کو اے این پی سپورٹ کرتی ہے,,ایم پی اے شفیع جان نے اسنفد یاروالی کی ویڈیو کے پی کی اسمبلی میں چلا دی !!
جس ریاست کے غریب عوام دو وقت کے کھانا نہ کھا سکے خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو جائے جبکہ اسی شہر میں فوجی ہیڈکوارٹر میں رہنے والے کالے چشمے لگا کر گھومیں تو سمجھ جائیں کہ سپہ سالار کنجر ہے -
صلاح الدین ایوبی، فروری 1191
وفاقی وزراء کی حقائق سے عاری پریس کانفرنس پر پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل:
وفاقی وزراء عطا تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ کی آج کی پریس کانفرنس مکمل طور پر جھوٹ، گھبراہٹ اور سیاسی انتقام کا ملغوبہ تھی۔ حکومت اپنی ناکامی، معاشی تباہی اور عوام دشمن پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے عمران خان صاحب اور انکی بہنوں پر مسلسل بہتان تراشی کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو قید کرکے پریس کانفرنسوں کے ذریعے سچ بدلا نہیں جا سکتا قوم بخوبی جانتی ہے کہ انتقامی کارروائیاں کیوں اور کس کے کہنے پر ہو رہی ہیں۔
تارڑ صاحب بار بار ’’جیل سہولیات‘‘ کا ڈرامہ رچا کر جھوٹ کو سچ ثابت نہیں کر سکتے۔ عمران خان صاحب کو تو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں، وکلاء اور سیاسی رفقاء سے ملاقاتیں طویل عرصے سے بند ہیں، اور 2 دسمبر کو ایک مہینے بعد صرف 20 منٹ کی ملاقات ڈاکٹر عظمیٰ خانم سے کروائی گئی۔ ورزش کے لیے بائیسیکل کو ’غیر معمولی سہولت کہنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر حکومت کے پاس کسی شاہانہ سہولت کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے، ورنہ روزانہ کی چیخ و پکار کسی حقائق کی جگہ نہیں لے سکتی۔
عمران خان صاحب کی بہنوں کے خلاف الزام تراشی حکومت کی اخلاقی پستی اور شدید بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے، ورنہ روزانہ نئی کہانیاں بنا کر پریس کانفرنس کرنا حکومت کی کمزوری کا کھلا اعتراف ہے۔ اسی طرح یہ دعویٰ کہ جیل سے ملک دشمن بیانیہ چلایا جا رہا ہے، دراصل حکومت کی اپنی ناکامیوں، بڑھتی مہنگائی اور عوامی ناپسندیدگی سے خوفزدہ ذہنیت کی علامت ہے۔ پاکستانی عوام اپنی سیاسی رائے دینے کا آئینی حق رکھتے ہیں یہ حق کوئی حکومت ان سے چھین نہیں سکتی۔
حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود عالمی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے عمران خان صاحب کی گرفتاری کو غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر قرار دیا ہے، جبکہ کامن ویلتھ سمیت متعدد عالمی ادارے 2024 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ وہ شواہد ہیں جو حکومتی بیانیے کو روزِ اول سے رد کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ حکومت کی اپنی دھاندلی، ناکامی اور گھبراہٹ ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ملاقات بند کرنے کی دھمکی دینا کونسے آئین و قانون کی پاسداری ہے؟
حکومت جتنے مرضی جھوٹے مقدمے بنا لے، جتنی چاہے کردارکشی کر لے، عوام کے دلوں میں عمران خان صاحب کی محبت اور اعتماد ختم نہیں کر سکتی۔ پورے پاکستان کی عوام آج عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور پی ٹی آئی آئینی حقوق، عوامی ��ینڈیٹ اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر پوری قوت سے کھڑی رہیگی۔
منجانب
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف
ناجائز حکومت نے عمران خان سے جیل میں فیملی کی ملاقات بند کرنے کا اعلان کر اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھوکا ہے۔
میری بات یاد رکھنا، یہ فیصلہ ان کو بہت بھاری پڑنے والا ہے۔
یہ عادل راجہ اور شہزاد اکبر کو واپس لائیں گے
خواجہ آصف کو لندن ٹرین میں ایک پاکستانی نے کہا کہ یوں نہ گھوما کرو جو تمہاری حرکتیں ہیں تمہیں کوئی چاقو مار دے گا
اس واقعہ کے بعد پاکستانی نے میڈیا طوفان برپا کر دیا اور خواجہ آصف نے اس شخص کو ہتھکڑی لگوانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن پولیس نے کہا کہ اس بات پر گرفتاری نہیں بنتی
یہ حرامی سمجھتے ہیں ��ر جگہ عثما�� انور اور علی ناصر رضوی بیٹھے ہیں