حکومت جشن منا رہی کے ٹل ایل پی کا احتجاج ختم ہو گیا۔ کئی دوست بھی خوش ہیں کہ اچھا ہوا اس احتجاج کو کچل دیا گیا۔ اچھی بات ہے حکومت اور عوام کے لئے زندگی اور ٹریفک معمول پر لوٹ گیا۔
مگر مجھے ہمارے ملک کے "پڑھے لکھے" اور "سلجھے" ہوئے طبقے سے خوف آرہا ہے کہ ان کہ لئے ٹی ایل پی کے کارکنان پر سیدھے فائر کرنا یا ان کارکنان کو جان سے مار دینا کسی قسم کی تشویش کا باعث بھی نہیں۔ کسی انکوائری کا مطالبہ بھی ضروری نہیں کہ تمام مرنے والے اسلحے سے لیس تھے یا نہتے۔
ان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار کو گولیاں ماری کر قتل کرنے کی خبر سامنے آئی۔ یقین جس نے بھی پولیس پر گولیاں چلائی اسے قرار واقعی سزا ہونی چاہئے۔ مگر کیا اس کا مطلب ہے کہ ٹی ایل پی کے دھرنے میں ہر ایک شخص کے پاس اسلحہ تھا۔ ہر ایک شخص پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنا چاہتا تھا۔ کیا ان سوالوں کو جواب ڈھونڈنا سیاسی شعبدہ بازی ہے، یا پاپولزم ہے، یا ریاست مخالف ایجنڈا ہے؟
ٹی ایل پی جھتے بناتی ہے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، تھانوں کا محاصرہ بھی کرتی ہے، زبردستی بلاسفیمی کے پرچے بھی کرواتی ہے، اگر کوئی احمدیہ جماعت کو کافر نا بولے تو اس کو بھی کافر گردانتی ہے۔ مگر ان تمام جرائم کی سزا قانون اور آئین میں درج ہے اور معزرت کے ساتھ ان میں سے کچھ اقدام تو ریاست کے نظر عملی طور پر جرم بھی نہیں۔
جب ریاست کو ان کے اس جوش اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان سے معاہدے ہوتے ہیں اور جب ریاست کو ان کے جوش اور ولولے سے الجھن ہوتی ہے تو سیدھے فائر۔
کسی کو دہشت گرد یا شدت پسند گردان کر کیا اس کے انسانی حقوق ختم کئے جا سکتے ہیں؟ سیدھے فائر ۲۶ نومبر کو بھی کئے گئے تھے اور تب بھی ریاست چاہتی تھی کہ ہم پی ٹی آئی کو شرپسند مان کر سوال کرنا بند کردیں۔ جس صحافی نے زیادہ سوال کئے اسے اغوا کر لیا گیا۔
کوئی شدت پسندی کے نام پر خون بہا رہا ہے تو کوئی روشن خیالی کے نام پر۔ سستی صرف انسان کی زندگی ہوئی۔ اگر جتھوں کو تیار کرکے کسی پر توہین کا الزام لگا کر اسے قتل کر دینا قدامت پسندی ہے تو لعنت ایسی قدامت پسندی پر اور اگر سیدھے فائر کرکے نہتے مظاہرین کو قتل کرنا روشن خیالی ہے تو لعنت ایسی روشن خیالی پر۔ مجھے دونوں سے کوئی سروکار نہیں اور میں دونوں کی طرف سے تنقید اور تضحیک خوشی خوشی قبول کرتا ہوں۔ مجھے یہ اطمینان ہے کہ میں نا کسی کی محبت میں اندھا ہو گیا نا کسی کی نفرت میں۔
آپ سب کو اپنا اپنا بغض مبارک ہو۔
This reel by Abbass Bukharii is the best thing I’ve heard so far on the Pak India Situation.
Every word. Sensible. From the heart. And so true.
Slow clap, Respect and Salute.
ہزاروں میل دور نہ آنسو رکتے ہیں نہ دل ٹھہرتا ہے
عرفات ….. معرفت کا دروازہ ہے
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
جس روز اڈیالہ کے ایسے قید خانے میں ایک آرمی چیف یا کسی فوجی جنرل کو اسکے جرائمز کی وجہ سے اس طرح “پر تعیش” ، “وی وی آئی پی” ، “سسرالی گھر” اور “فائیو سٹار ہوٹل” والی “سہولیات” میں قید رکھا گیا تو پاکستان اس روز حقیقی طور پر درست سمت میں چل پڑے گا اور ترقی بھی کرے گا۔
Rafah was brutally bombed by Israel last night, where displaced people were seeking shelter in a designated safe zone. People were burnt alive, babies beheaded. What a sick world we live in where the outrage is so muted for such despicable violence.
#AllEyesonRafah#ceasefirenow