حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)
سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات (بدعت) پیدا کرنا ہے(دین میں) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
(صحیح بخاری، ۷۲۷۷)
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تم پر ناگوار گزرے“ ۔
(جامع ترمذی، ۲۳۸۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سےکوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(بخاری، ۱۳۷۹)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جب الله تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اُسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی (جو اُس کے لئے نقصان دہ ہو) سے بچاتا ہے.
ترمذی 2036
(حاکم 7857، 7464؛ حبان 669؛ ابی شیبہ 36855؛ مشکوٰۃ 5250)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا تم پر ناگوار گزرے“ ۔
(جامع ترمذی، ۲۳۸۹)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم سلطان (بادشاہ) یا ظالم امیر (حاکم) کے سامنے عدل و انصاف کی بات (حق کی بات) کہہ دی جائے.
ابوداؤد 4344
(ترمذی 2174؛ ماجہ 4011؛ نسائی 4214؛ مسند احمد 19033، 19035؛ مشکوٰۃ 3705)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں” ۔
(ترمذی،۳۷۷۵)
رضی اللہ تعالی عنہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)