“I am deeply saddened to hear about the passing of Lady Annabel Goldsmith. My family shared this heartbreaking news with me today while I am in prison.
Annabel was a wonderful grandmother to my sons and an exceptionally kind and compassionate person. During my visits to London, I would stay with her along with my sons. She became like a mother to me, especially after losing my own mother in 1985.
Her passing is a profound loss. My heartfelt thoughts are with all her children and grandchildren. She will be dearly missed by all of us. If I were not in prison, I would have attended her funeral along with my sons, Sulaiman and Kasim”
Illegaly incarcerated Imran Khan's message from Adiala Jail (October 21, 2025)
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
“I am deeply saddened by the loss of precious lives in today’s terrorist incident in the Orakzai region. Whether they are civilians, police officers, or army personnel, it is our own people, who are being martyred in these military operations. Among those martyred today were a Colonel and a Major, which is extremely tragic. Offering prayers for the elevation of all the martyrs’ ranks in Jannah and for the swift recovery of those injured.
The flawed policies and mistaken priorities of the mafia presently imposed on the nation have led Pakistan, especially Khyber Pakhtunkhwa, into an alarming and unprecedented wave of terrorism. Even though two months still remain, this year Pakistan has witnessed a record number of terrorist incidents, resulting in an enormous loss of life on a scale difficult to find precedent for. I have repeatedly stated that the complete eradication of terrorism in Pakistan, including Khyber Pakhtunkhwa, is impossible without dialogue among four key stakeholders: the Khyber Pakhtunkhwa government, the people of the tribal areas, the Afghan government, and the Afghan people. The current regime’s policy of conflict and confrontation is only worsening the situation.
I have repeatedly directed the Khyber Pakhtunkhwa government to oppose unnecessary military operations initiated against our own citizens. Peace had been restored across these regions during our tenure. It is deeply regrettable that the current Khyber Pakhtunkhwa government has failed to implement my vision for peace and has been unable to distance itself from the war-driven policies of the federal government and security agencies, as it should have. In these circumstances, there is no option left but to bring a change in the provincial government. I therefore announce the appointment of Sohail Afridi as the new Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa.
The policy of fighting terrorism through drone strikes, jet bombings, and mortar shelling is a profoundly foolish strategy that has kept the nation trapped in a vicious cycle of terrorism. After today’s terrorist attack and the resulting martyrdoms, our security forces will inevitably retaliate, which will provoke a counter-response, and the cycle will continue endlessly.
During our three-and-a-half-year tenure, terrorism was at its lowest level in Pakistan’s history, even though Afghanistan was then under the pro-India and anti-Pakistan Ashraf Ghani regime. I personally visited Afghanistan and invited Ashraf Ghani to Pakistan in an effort to improve bilateral relations. Due to our practical measures and effective diplomacy, the country was spared the kind of instability we are witnessing today.
In contrast, the current rulers, who have unlawfully seized power, have completely failed to engage with the new government in Afghanistan (to secure Pakistan’s interests). Instead, after forty years of hospitality, Afghan refugees have been humiliated and forcibly expelled in a deeply painful manner. Bilawal Bhutto held the position of Foreign Minister for over a year and traveled across the world; yet at this most critical juncture in history, he did not visit Kabul even once, nor did he take any step to improve relations with the Afghan government.
For lasting peace, it is essential that this issue be viewed in a broader perspective, and that all stakeholders come together to resolve matters through dialogue and mutual understanding. I am confident that the change in Khyber Pakhtunkhwa’s leadership will mark a new beginning. Support from public representatives, tribal elders, and local jirgas will be sought, and all parties will engage in constructive dialogue to eradicate terrorism from its roots and find a durable solution. 1/2
باریک واردات۔ یعنی اس منصوبے کیلیے اہم ترین اثاثہ منصور علی خان بھی لانچ کرنا پڑ گیا ہے، اس نے بھی پورا کلپ سنے بغیر یا ایجنڈے کے تحت صرف دو ریاستی حل کا لفظ سن کر وڈیو لگا دی۔ جبکہ اسکے آگے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے والے بارڈرز والی بات چھوڑ دی۔
منصور جیسا قیمتی اثاثہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے میں ضائع کر دیا گیا
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
بیگناہ قید کا ایک سال : 366 دن
ایک باشعور، زہین پاکستانی نوجوان، اپنے والدین کے بڑھاپے کا سہارا، بہنوں کا لاڈلا۔
بنا کسی جرم بنا کسی قانونی جواز کے دیار غیر میں قید ہے۔ خاندان سے تو دور جنید کو کسی وکیل کسی قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل نہیں۔ والدہ غم سے نڈھال ہیں ان کی طبیعت ناساز ہے۔
پاکستانی رجیم کے کرداروں کو یہ رہائی منظور نہیں ان کو آوازیں بری لگتی ہیں کیونکہ شعور اور آگاہی ان کی اپنی بقا کے لئے خطرہ بن جاتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے احکام اعلی سے اپیل ہے یا تو پاکستانی حکومت سے ان کے نا کردہ گناہوں کے ثبوت مانگے جائیں یا جنید کو فی الفور رہا کیا جائے۔
#JusticeForJunaidAndSalman
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
@Asad_Umar عمران خان کرکٹر سے زیادہ مسلم امہ کے عظیم لیڈر ہیں وہ اس وقت جو تاریخ کی جنگ لڑ رہے ہیں اللہ پاک صدقہ پاک محمد کا عمران خان کو ضرور کامیاب کریں گے
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
"دنیا میں نظام حکومت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا اخلاقی نظام ہر سطح پر، مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی اخلاقیات ہے لیکن عاصم لأ کے تحت موجودہ نظام میں اخلاقیات کی پستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
قرآن پاک میں بارہا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔
موجودہ نظام ظلم اور اخلاقی گراوٹ کی جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا خاتمہ یقیناً اسی نظام کی تباہی پر ہی ہو گا۔ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے، فتح آپ کی ہی ہو گی۔
افغانستان نا صرف دیرینہ ساتھی ہے بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ ایسے میں پوری قوم اور بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جس قدر ممکن ہو انہیں امداد فراہم کریں۔
علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔
موجودہ سیلابی صورتحال میں ہمارے “بلین ٹری منصوبے” کی اہمیت و ضرورت کا ایک مرتبہ پھر بھرپور اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے میرے ویژن کی روشنی میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کو بورس جانسن، ورلڈ اکنامک فورم سمیت عالمی سطح پر شاندار پذیرائی ملی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ “ٹین بلین ٹری” مہم پر ازسرنو توجہ مرکوز کریں۔ سوشل میڈیا بھی اس ضمن میں آگہی مہم کا آغاز کرے تاکہ درخت موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔"
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام
(9 ستمبر، 2025)
1/3
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
Tahajjud is Hope, No matter how tough life gets, you're not alone, and there's always hope in the darkness. So, never underestimate the power of tahajjud, for it can ignite a light within your soul that will lead you through the darkest of times.
مرد کے دکھ بڑے بے زبان ہوتے ہیں، وہ نا تو ماں کو گلے لگا کر رو سکتا ہے نا باپ کے سامنے، اندر سے ختم ہو رہا ہوگا لیکن دوستوں میں گھل مل جائے گا.
رات کو اپنی کسی خواہش پہ فاتحہ پڑھ کر، صبح پھر بھی مسکراتا دکھائی دے گا. ٹوٹ کر روئے گا بھی تو صرف خود کے ساتھ
مرد بڑی پیاری چیز ہے ❤️