صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
#Politicians should not be allowed to go aboard for health issues period . If they can’t get medical treatment in pakistan they should resign and go home or pay for it themselves . #pakistan this superiority has to stop ! Also shows ur health system is not good enough .
Funerals have begun for the 14 babies who were killed in a fire at Islamabad’s Institute of Medical Sciences.
Families have accused hospital staff and emergency services of abandoning the infants.
اسلام اباد میں حکومت کی ناک کے نیچے چودہ نومولود جل کر کوئلہ بن جاتے ہیں۔ متعلقہ وزیر استعفی دینا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم منع کر دیتے ہیں۔ صرف سیکرٹری کو دو مہینے کی چھٹی تنخواہ سمیت بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ ہے آج کے پاکستان کی کہانی۔
پمز ہسپتال کی انتظامیہ جھوٹ بولنے اور بددیانتی کی عادی ہو چکی ہے۔ لاشیں چھپانے کے معاملے پر بھی جھوٹ بولا، زخمیوں کی تعداد پر بھی جھوٹ بولا!مطیع اللہ جان۔
Five-year-old Ayat Noor’s rape case: Ayat Noor’s father, family and people of Haripur are demanding the harshest possible punishment, including public execution, for those found guilty.
#JusticeForAyatNoor
اگر یہاں کسی جنرل کرنل کر اولاد ہوتی پھر بھی کیا ایسے ہی ہوتا ؟
یہ 5000 رینجرز کی نفری اور اسلام آباد پولیس بچوں کو بچانے کے وقت کہاں تھی ؟ متاثرہ والد کا سوال
میڈیکل سہولیات ہیں تو بچے وہاں پر ہیں آدھے KPK کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے :اختیار ولی
تو اچھا ہوتا یہ بچے نہ ہی ہوتے شاید ان کی زندگی بچ جاتی:محمد مالک
وہ تو ایک الگ بات ہے حادثات ہوتے ہیں :اختیار ولی
یہ حادثہ نہیں ہے یہ قتل ہے :محمد مالک
Javed Latif admitting what I have been saying for the last 4 years :
1. Vote of no confidence against Imran Khan was brought with the support of the then establishment.
2. The Feb 2024 election was stolen and PMLN installed to rule the country without mandate.
He doesn’t explain why PMLN accepted to form the governments in Islamabad and Lahore despite a heavy defeat in the elections. Fear of IK ?
مصطفی کمال نے کہا کہ جیسے پورا ملک چل رہا ہے ویسے ہی ہسپتال بھی چلے گا ہم پمز کو کیسے مثالی بنا سکتے ہیں ان کی یہ بات سن کر میرا یہ سوال ہے کہ ایک ایسا شخص جو نومولود بچوں کے بارے میں ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے اسے وزیر صحت ہونا بھی چاہیے یا نہیں ! ریما عمر ۔۔
اربوں کے منصوبے اسلام آباد میں بن گئے لیکن عام آدمی کے بچوں کے لئے ہسپتال بہتر نہیں ہوسکا۔لوگوں کے بچے آگ میں جلوا دیے، پوچھیں اس ماں سے جس نے نو ماہ بچہ اپنے پیٹ میں رکھا اس پرکیا گزر رہی ہے۔
اس سے زیادہ زیادتی کیا ہوگی کہ #pimstragedy کے دوسرے دن بھی نہ صرف یہ کہ وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تک اپنے عہدے پر قائم ہے؟CDA ایمرجنسی سروسز کے ذمہ داران سے تو کسی نے سوال تک نہیں کیا!! کل ہی کہا تھا جونکہ بہت غریب لوگ ہیں کچھ نہیں ہونا!!
ہسپتالوں میں بھی مرتے ہیں تو غریب کے بچے مرتے ہیں، سکولوں میں بھی مرتے ہیں تو غریب کے بچے مرتے ہیں۔ یہ جو حکمران طبقہ ہے، جو بارہ، بارہ ارب روپے کے لگژری جہاز لے کر اپنے بیٹے جنید صفدر کو ہنی مون پر بھیج رہے ہیں، وہ کچھ شرم کریں اور وہی بارہ ارب روپے پمز ہسپتال پر لگا دیں، پولی کلینک پر لگا دیں۔ اربوں روپے ریڈ زون کی تزئین و آرائش، تنصیبات اور دیگر تقریبات پر خرچ کیے جاتے ہیں، وہ اخراجات کم کرکے ہسپتالوں پر لگائے جائیں!فلک ناز چترالی۔
غریب ہسپتال میں جاۓ گا مارا جاۓ گا ، یونیورسٹی جاۓ گا مارا جاۓ گا ، بازار جاۓ گا مارا جاۓ گا ، حقوق مانگے گا مارا جائے گا جان چھڑا کر باہر جانے کی کوشش کرے گا کشتی میں ڈوب کر مارا جاۓ گا ۔۔
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔
I would suggest PM and his cabinet should have all their tests and treatment at PIMS from now on and their children/grandchildren should only be birthed at PIMS.
No inquiry will ever be needed again, as all certification and SOPs shall be up to the mark.