@TheKingDaughtaa This is Chowk Yadgar, one of the most famous places in Peshawar city. It's well known for its sweet and refreshing. You can also see the famous Yadgar Qulfi in the background. Whenever I visit Chowk Yadgar, I always stop for a drink there. The taste is amazing, natural, fresh.
اس گاؤں میں اصول و قواعد رائج کرنے والے صوفی عبداللہ نامی شخص عظیم شخصیت تھے اللّٰہ انھیں جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے
��ہاں قبرستان کے ڈسپلن کے علاوہ اور بھی کافی کچھ منفرد ہے نکاح صرف مسجد میں ہوتے ہیں ڈھول یا آتش بازی کی اجازت نہیں
آواز کا جادو یا ��ل کا اخلاص ؟
آج کے دور میں نعت خوانی اکثر آواز، اسٹیج اور مائیک کی کوالٹی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم بناوٹ اور دکھاوے کی چمک دمک میں اتنے کھو گئے ہیں کہ وہ "اثر" کہیں کھو گیا ہے جو کبھی سادگی اور اخلاص کا خاصہ تھا۔
مگر آج اس معصوم بچے کی آواز نے روح کو تڑپا دیا۔ نہ کوئی بناوٹ، نہ شہرت کی تڑپ، بس ایک سچی تڑپ اور محبتِ رسول ﷺ ❤️
عمرہ اور حج کرنے والے کے لیے چند گذارشات :
۱. وقت ضائع نہ کریں، کیونکہ (ح��م میں) ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔
۲. خریداری (شاپنگ) میں وقت ضائع نہ کریں
۳. حرم سے باہر نماز ضائع نہ کریں، اور باجماعت نماز کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
۴. اگر آپ کو اپنے ملک سے کھانا لانے کی ضرورت ہو تو صرف ضرورت کے مطابق لیں، کیونکہ یہ تفریحی سفر نہیں ہے۔
۵. زیادہ نہ کھائیں، کیونکہ اس سے سستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے
۶. فون کے استعمال (چیٹنگ، تصاویر، ویڈیوز اور کالز) سے پرہیز کریں، سوائے انتہائی ضرورت کے۔
۷. کسی کو دھکا نہ دیں اور ہجوم میں لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کریں۔
۸. صحن (مطاف) میں دعا کے دوران لوگوں کی توجہ نہ بھٹکائیں۔
۹. نرم مزاج بنیں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔
۱۰. اللّٰه ہر جگہ دعا قبول کرتا ہے، لہٰذا کسی دوسرے کا بارکوڈ استعمال کر کے ریاض الجنہ میں داخل ہونے کے لیے دھوکہ دہی نہ کریں۔
۱۱. کعبہ کے صحن (مطاف) میں داخل ہونے کے لیے حیلہ سازی کر کے احرام نہ پہنیں۔
۱۲. عام لوگوں اور خاص طور پر سیکیورٹی اہلکاروں سے بحث و تکرار سے بچیں۔
۱۳. ضرورت کے بغیر خود کو کسی دوسرے کے ساتھ نہ باندھیں؛ چاہے وہ عبادت ہو، کھانا ہو یا سونا، اپنی تنہائی پر توجہ دیں۔
۱۴. ضرورت پڑنے پر ادویات اور پین کلر کا استعمال کریں۔
۱۵. شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے آرام دہ لباس پہنیں۔
۱۶. اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو مفت ملنے والے قرآن مجید کی خواہش نہ کریں، اسے ان کے لیے چھوڑ دیں جنہیں واقعی ضرورت ہے۔
۱۷. اپنی عبادت کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ریاکاری اور حسد سے بچ سکیں۔
۱۸. مناسک کو اچھی طرح یاد کریں، انہیں کسی کاغذ پر لکھ لیں، خاص طور پر مخصوص مقامات کی دعائیں اور اذکار۔
۱۹. مذہبی نگران پر مکمل انحصار نہ کریں، کیونکہ اکثر کمپنیاں صرف انتظامی نگران فراہم کرتی ہیں۔
۲۰. اپنے دل سے دعا مانگیں، کتابوں سے صرف عام دعائیں نہ پڑھیں۔
۲۱. وہاں اپنے نیک عمل کو چھوٹا سمجھیں تاکہ اللّٰه کے ہاں وہ بڑا بن جائے۔
۲۲. کسی کے عمل کو حقیر نہ سمجھیں، آپ نہیں جانتے کہ کس کا عمل قبول ہوا اور کس کا مردود۔
۲۳. زمزم کے پانی کے بارے میں یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ یہ بذاتِ خود ناممکن کو ممکن بناتا ہے، یہ صرف ایک سبب ہے اور اللّٰه ہی اسے جاری رکھنے یا روکنے پر قادر ہے۔
۲۴. ہوٹل یا خیمہ صرف سونے کی ایک صاف جگہ ہے، قریب ہونا مستحب ہے، اس سے زیاد�� کی لالچ نہ کریں۔
۲۵. اگر تحائف خریدیں تو اللّٰه کی رضا کے لیے خریدیں، اور یہ کام سفر سے صرف تین گھنٹے پہلے کریں۔
۲۶. اگر قوانین اجازت دیں تو مستحق افراد کو صدقہ دیں اور ان کے سامنے مسکرائیں۔
۲۷. تمام مسلمانوں، حرمین کے منتظمین اور خاص طور پر اپنے جاننے والوں کے لیے غائبانہ دعا کریں اور انہیں بتائیں نہیں۔
۲۸. حرم کے کبوتروں کو اس جگہ دانہ نہ ڈالیں جہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں۔
۲۹. وضو کے پانی میں اسراف نہ کریں، اور بیت الخلا کو ویسا ہی صاف چھوڑیں جیسا آپ نے پایا تھا، بلکہ اس سے بھی بہتر۔
۳۰. لوگوں کی جتنی ہو سکے مدد کریں، یہ ایک عظیم عبادت ہے۔
اللّٰه ہمیں اور آپ کو جلد از جلد اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے ۔
عمرہ اور حج کرنے والے کے لیے چند گذارشات :
۱. وقت ضائع نہ کریں، کیونکہ (حرم میں) ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔
۲. خریداری (شاپنگ) میں وقت ضائع نہ کریں
۳. حرم سے باہر نماز ضائع نہ کریں، اور باجماعت نماز کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
۴. اگر آپ کو اپنے ملک سے کھانا لانے کی ضرورت ہو تو صرف ضرورت کے مطابق لیں، کیونکہ یہ تفریحی سفر نہیں ہے۔
۵. زیادہ نہ کھائیں، کیونکہ اس سے سستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے
۶. فون کے استعمال (چیٹنگ، تصاویر، ویڈیوز اور کالز) سے پرہیز کریں، سوائے انتہائی ضرورت کے۔
۷. کسی کو دھکا نہ دیں اور ہجوم میں لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کریں۔
۸. صحن (مطاف) میں دعا کے دوران لوگوں کی توجہ نہ بھٹکائیں۔
۹. نرم مزاج بنیں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔
۱۰. اللّٰه ہر جگہ دعا قبول کرتا ہے، لہٰذا کسی دوسرے کا بارک��ڈ استعمال کر کے ریاض الجنہ میں داخل ہونے کے لیے دھوکہ دہی نہ کریں۔
۱۱. کعبہ کے صحن (مطاف) میں داخل ہونے کے لیے حیلہ سازی کر کے احرام نہ پہنیں۔
۱۲. عام لوگوں اور خاص طور پر سیکیورٹی اہلکاروں سے بحث و تکرار سے بچیں۔
۱۳. ضرورت کے بغیر خود کو کسی دوسرے کے ساتھ نہ باندھیں؛ چاہے وہ عبادت ہو، کھانا ہو یا سونا، اپنی تنہائی پر توجہ دیں۔
۱۴. ضرورت پڑنے پر ادویات اور پین کلر کا استعمال کریں۔
۱۵. شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے آرام دہ لباس پہنیں۔
۱۶. اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو مفت ملنے والے قرآن مجید کی خواہش نہ کریں، اسے ان کے لیے چھوڑ دیں جنہیں واقعی ضرورت ہے۔
۱۷. اپنی عبادت ��و پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ریاکاری اور حسد سے بچ سکیں۔
۱۸. مناسک کو اچھی طرح یاد کریں، انہیں کسی کاغذ پر لکھ لیں، خاص طور پر مخصوص مقامات کی دعائیں اور اذکار۔
۱۹. مذہبی نگران پر مکمل انحصار نہ کریں، کیونکہ اکثر کمپنیاں صرف انتظامی نگران فراہم کرتی ہیں۔
۲۰. اپنے دل سے دعا مانگیں، کتابوں سے صرف عام دعائیں نہ پڑھیں۔
۲۱. وہاں اپنے نیک عمل کو چھوٹا سمجھیں تاکہ اللّٰه کے ہاں وہ بڑا بن جائے۔
۲۲. کسی کے عمل کو حقیر نہ سمجھیں، آپ نہیں جانتے کہ کس کا عمل قبول ہوا اور کس کا مردود۔
۲۳. زمزم کے پانی کے بارے میں یہ عقیدہ نہ رکھیں کہ یہ بذاتِ خود ناممکن کو ممکن بناتا ہے، ��ہ صرف ایک سبب ہے اور اللّٰه ہی اسے جاری رکھنے یا روکنے پر قادر ہے۔
۲۴. ہوٹل یا خیمہ صرف سونے کی ایک صاف جگہ ہے، قریب ہونا مستحب ہے، اس سے زیادہ کی لالچ نہ کریں۔
۲۵. اگر تحائف خریدیں تو اللّٰه کی رضا کے لیے خریدیں، اور یہ کام سفر سے صرف تین گھنٹے پہلے کریں۔
۲۶. اگر قوانین اجازت دیں تو مستحق افراد کو صدقہ دیں اور ان کے سامنے مسکرائیں۔
۲۷. تمام مسلمانوں، حرمین کے منتظمین اور خاص طور پر اپنے جاننے والوں کے لیے غائبانہ دعا کریں اور انہیں بتائیں نہیں۔
۲۸. حرم کے کبوتروں کو اس جگہ دانہ نہ ڈالیں جہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں۔
۲۹. وضو کے پانی میں اسراف نہ کریں، اور بیت الخلا کو ویسا ہی صاف چھوڑیں جیسا آپ نے پایا تھا، بلکہ اس سے بھی بہتر۔
۳۰. لوگوں کی جتنی ہو سکے مدد کریں، یہ ایک عظیم عبادت ہے۔
اللّٰه ہمیں اور آپ کو جلد از جلد اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے ۔