عمران خان نے جیل میں بیٹھے بیٹھے اپنا خواب پورا کر لیا کراچی میں تیسرا شوکت خانم کینسر ہسپتال بنا کر، 29 دسمبر کو افتتاح ہو گا، ان شاءاللہ
اب شوکت خانم کینسر ہسپتال کویٹہ میں بھی بنایا جائے گا، ان شاءاللہ
منظور پشتیں نے پختونوں کے ساتھ ھونے والے ظلم ،زیادتی اور ہر وہ بات کا جو پشتونوں کے ساتھ ھوتا رہا ہے اس خطے میں وہ انٹرنیشنل لیول تک پہنچایا اور پشتونوں کو بھی چاہیے منظور پشتیں کا ساتھ دیں۔ اور اپنے اوپر ھونے والے ظلم و زیادتی کو نا برداشت کریں۔ اپنے وسائل کو کسی دوسرے کے سپرد نہ ھونے دیں۔ انہی کی خاطر پشتونوں ہے ظلم کا بازار سجا رکھا ہے ۔کبھی دہشت گرد تو کھبی غدار کے نام سے پشتونوں کو بدنام کرتے ہیں۔
@ImranRiazKhan@HamidMirPA
بلی تھیلے سے باہر!
شاکر اعوان
@ShakirAwan88
دہشت گردی آئی نہیں دہشت گرد لائے گئے۔ عوامی حکومت کو ناجائز طور پر گرانے اور عوامی نمائندوں کے جبری اغواء کے بعد اصل عزائم سامنے آرہے ہیں۔
باڑہ میں ہونے والا سانحہ Mineral Massacre ہے۔
یہ ہے ابوبکر کا بھائ قاری بلال جو دہست گرد ہے جس کو کل کا اٹھایا ہے ابھی تک کوئ پتا نہیں جرم یہ ہے میرا بھائ ہے امام مسجد ہے اس نے کوئ آئن نہیں توڑا کوئ الیکشن نہیں چوری کیا کسی ماں کے بیٹے کو گولیاں نہیں ماری کوئ 53ارب کی کرپشن نہیں کی بلکے بچوں کو اللہ کا کلام سیکھاتا ہے اور گھر سے اغوا کر لیا مدرسہ بند بچوں کی تعلیم بند ہے
چالیس ارب کی فائر وال لگا دی۔ دو سو صحافی باندر بنادیے۔ نیوز چینلز کو سرکس بنا دیا اور اخے فرق نہیں پڑتا۔ اربوں کے اشتہارات چلا دیے۔ درجنوں نئے چینل چلا دیے، ہزاروں لوگ بھرتی کرلیے ، فوج کے کپتانوں اور میجروں کو عائشہ سنبل اور پاپا کی پری بنا دیا اخے فرق نہیں پڑتا۔ پوری کور جتنی فوج آئی ایس پی آر میں بٹھا دی اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ رجیم چینج کے بعد پہلا چھاپا سوشل میڈیا ورکرز کے گھروں میں مارا ، آخری بندہ ابھی بھی سوشل میڈیا کے ورکر کا بھائی اٹھایا اور کہتے ہیں فرق نہیں پڑتا۔ جن جوتوں سے تمہیں اصلی والا فرق پڑتا ہے وہ بھی ہمیں معلوم ہے۔ وقت اس کا بھی آجائے گا۔ لیکن جو فرق ابھی تمہارے سروں پر پڑ رہا ہے وہ بھی اتنا پڑے گا اتنا پڑے گا کہ پاڑ کے رکھ دے گا۔ اخے فرق نہیں پڑتا۔
کے پی حکومت کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے منرل بل پاس نہیں ہونے دیا ، بلوچستان حکومت نے بل پاس کیا اور الاٹمنٹ تک کردی گئی ہے ، یہ معاملہ آئینی عدالت میں زیر التوا ہے ، میرے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ پورے بلوچستان کے مائنز اینڈ منرلز الاٹ کر دیے گئے ہیں، کامران مرتضیٰ
@KamranM69045926
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
نعیم اشرف بٹ نے پہلے پبلک TV پر ایثار رانا کیساتھ پروگرام میں انکشاف کیا کہ دو ممالک پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ عمران خان سے اپنے مسائل حل کیے جائیں ان دو ممالک میں سے ایک مسلمان ملک ہے اور وہ ملک بہت زیادہ ایکٹو ہے، اس ملک نے تحریری طور پر بھی پاکستان سے کہا ہے کہ عمران خان کیساتھ مسئلہ حل کیا جاۓ، نعیم اشرف کا اشارہ سعودی عرب کی طرف تھا، نعیم اشرف نے مزید کہا کہ وہ ملک بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے اور وہ چاہتا ہے پاکستان میں ایک ایسا مقبول لیڈر ہو جو بلوچستان سے کشمیر تک مقبول ہو اور حالات کو نارملائز کرنے میں مدد کرے
نعیم اشرف نے یہ لاجک پیش کی کہ اس ملک کو پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے اور وہ مدد صرف اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان کے اپنے اندرونی حالات ٹھیک ہوں گے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نعیم اشرف بٹ نے یہ خبر کیوں دی، کیونکہ ایجنسیوں کے کہے بغیر ARY جیسے چینل پر اس خبر کو چلانا فوج کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں
اب یہ بھی نہیں تھا کہ نعیم اشرف بٹ نے اچانک سے خبر دے دی تو یہ خبر چل گئی، تین دن پہلے یہ خبر پبلک TV پر اور پھر ARY نیوز پر اور پھر دو دن کے وقفے کے بعد ماریہ میمن کے پروگرام ARY نیوز پر اس خبر کو چلوایا گیا، یعنی باقاعدہ اس خبر کو منظم طریقے سے چلوایا جا رہا ہے
آخر اس خبر کے پیچھے فوج کے کیا عزائم ہیں ؟
🥀عمران خان نے قوم کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ تم نے اس کے دو سال تک کے بچوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے وہ نہ جھکا نہ بھاگا نہ ہارا
اب تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ تمہیں واپس جانا پڑے گا۔
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
"تین دوست ممالک اصرار کر رہے ہیں کہ عمران خان سے معاملات طے کیے جائیں۔ ان میں سے ایک اسلامی ملک ہے، جس نے تحریری طور پر بھی کہا ہے، کیونکہ یہ ان کے بھی اپنے مفاد میں ہے اور ان کے چیلنجز بھی ہیں، اور پاکستان ان کے چیلنجز کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ان کی مدد کر رہا ہے۔ یہ ممالک کہہ رہے ہیں کہ ایک ایسا مقبول لیڈر چاہیے، جس کی جڑیں عوام میں ہوں اور وہ بلوچستان اور کشمیر میں بھی حالات بہتر کر سکے۔ ایک بڑے عالمی ادارے کی شخصیت پاکستان آئی اور ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی"۔ نعیم اشرف بٹ
@NaeemAshrafBut2
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
اہم پیغام
فیس بک پر ہنسنے والی ایموجیز ( 😂 )کے سیلاب نے فوج کو بہت زیادہ زچ کردیا ہے۔ اس کے ہنگامی جوابات تیار کیے جارہے ہیں ۔ اس سے جان چھڑانے کے مختلف طریقے سوچے جارہے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ، ولاگز ، پوسٹس میں اسکی بار بار نشاندہی کریں۔ یہ عوامی ردعمل کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔ جتنے زیادہ لوگ اس ایکٹویٹی میں شریک ہوں گے فوج کے لیے انکو ٹارگٹ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
اس ردعمل کو ووٹ بنا دیجیے ، اسے آئینہ بنا دیجیے ، اسے بائیکاٹ جیسی مہم بنا دیجیے۔ پاکستان میں 100 ملین یعنی دس کروڑ لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کل کاسٹ ہونے والے ووٹس سے بھی ڈبل تعداد ہے۔ ہر فوجی ، ہر افسر اسکے خاندان کا ایک ایک شخص فیس بک دیکھتا ہے۔ ان کو اپنے جذبات دکھائیں ۔ ٹریس ہونے کا خطرہ ہے تو متبادل اکاونٹس بنا لیں لیکن حصہ ضرور ڈالیں شکریہ۔
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی اربوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
چار ہمسائے ہیں۔ تین دشمن بنا لیے ہیں۔ تینوں سے تجارت بند ہے۔ چوتھے سے مہنگے قرضے لیے اب اسکے پراجیکٹس بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں۔ ایک میں فوج موومنٹ نہیں کرسکتی۔ دوسرے میں گورنر راج ، تیسرے میں کٹھ پتلی حکومت اور چوتھا حمایت کے بدلے ٹھگوں کو دے رکھا ہے پانچویں میں بھی عوامی نماندہ حکومت نہیں۔ ملحق ریاست میں شدید احتجاج دھرنے چل رہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد کوئی جرنیل کہے گا یہ سارا سیاسی مسئلہ تھا۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں تھیں۔ ملک ہی ایسا تھا۔ گرمی ہے بہت تھی۔ دور ہی بہت تھا۔
ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے مطابق، گورنر راج نافذ ہوتے ہی انہوں نے سرکاری گاڑی واپس لینے کے لیے ڈی سی کو باقاعدہ خط لکھا، لیکن گاڑی واپس لینے کے بجائے ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سرکاری گاڑی اس وقت پشاور میں موجود ہے۔ ڈی سی آئیں اور گاڑی لے جائیں! گاڑی واپس کرنے کے لیے تیار ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج کرنا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔ آفتاب عالم
#pakistan @AftabAlamPTI
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
باڑہ میں پولیس فائرنگ سے ایک بے گناہ محنت کش نوجوان، ہابیل ولد عبدالغفور، سکنہ عزیز مارکیٹ اکاخیل، شہید ہوگیا۔ افسوس کہ وہ احتجاج کا حصہ بھی نہیں تھا بلکہ ایک ہوٹل میں مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا تھا۔
آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا غریب نوجوان کو محنت کرکے روزی کمانے کا بھی حق نہیں؟
اس نوجوان کے قتل کے ذمہ دار گورنر راج لگانے کے تمام افراد ہیں، جن میں پولیس، فیصل کریم کنڈی اور ان کے ہینڈلرز شامل ہیں۔
ذرا سوچئے: "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے!" یعنی ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنلز باہر جا کر دوسروں کی جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں… اور ہم کہہ رہے ہیں، "شکریہ، ہماری تعلیم و تربیت اور ٹریننگ کامیاب رہی!" جو جا رہے ہیں، زیادہ تر وہ پڑھے لکھے ہیں۔ جو رہ رہے ہیں، وہ موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔ طارق ملک
#pakistan @ReplyTariq
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔