ایسا دروازہ بنیں جس سے خیر آئے۔
اگر دروازہ نہ بن سکیں، تو ایسی کھڑکی بنیں جس سے روشنی اندر اترے۔
اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو، تو ایسی دیوار بن جائیں جو تھکے ہوئے وجود کو سہارا دے۔
منقول
لڑکوں تم بڑے ہوگے تو تمھیں افسوس ہوگا، جوں جوں تمہارا تجربہ بڑھتاجائے گا تمہارے خیالات میں پختگی آتی جائے گی اور یہ افسوس بھی بڑھتا جائے گا یہ خواب پھیکے پڑتے جائیں گے تب تم اپنے آپ کو فر یب نہ دے سکو گے۔
بڑے ہو کر تمہیں معلوم ہو گا کہ زندگی بڑی مشکل ہے ، جینے کے لیئے مرتبے کی ضرورت ہے ، آسائش کی ضرورت ہے اور اس کے لیے روپیے کی ضرورت ہے اور روپیہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہوتا ہے ، مقابلے میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے ، دھوکا دینا پڑتا ہے ، غداری کرنی پڑتی ہے ، یہاں کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا.
دنیا میں دوستی، محبت، انس، سب رشتے مطلب پر قائم ہیں۔محبت آمیز باتوں، مسکراہٹوں، مہربانیوں، شفقتوں ان سب کی تہ میں کوئی نہ کوئی غرض پوشیدہ ہے. یہاں تک کہ خدا کو بھی لوگ ضرورت پڑنے پر یاد کرتے ہیں اور جب خدا دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں اس کے وجود سے منکر ہو جاتے ہیں اور دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے اگر تم سادہ لوح ہوے تو دنیا تم پر ہنسے گی، تمہارا مذاق اُڑاے گی اگر عقل مند ہوے تو حسد کرے گی اگر الگ تھلگ رہے تو تمھیں چڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمھیں خوشامدی سمجھا جائے گا اگر سوچ سمجھ کر دولت خرچ کی تو تمہیں پست خیال اور کنجوس کہیں گے اور اگر فراخ دل ہوئے تو بے وقوف اور فضول خرچ سمجھے گی.
عمر بھر تمھیں کوئی نہیں سمجھے گا، نہ سمجھنے کی کوشش کرے گا ، تم ہمیشہ تنہا رہوگے حتی کہ ایک دن آئے گا اور چپکے سے اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے…یہاں سے جاتے وقت تم متحیر ہوگے کہ یہ تماشا کیا تھا...؟
اس تماشے کی ضرورت کیا تھی…؟
یہ سب کچھ کس قدر بےمعنی اور بے سود تھا…؟
~ تحریر: شفیق الرحمان
پہلے مجھے لگتا تھا کہ بات کرنا ہی مسئلوں کا حل ہے،
لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ "کمیونیکیشن" نہیں، بلکہ "انڈرسٹینڈنگ" مسئلوں کا حل ہے۔
بعض اوقات آپ بات کرتے ہیں تو اگلے کو وہ صرف شور ہی سنائی دے رہا ہوتا ہے۔