خلع لینے پرحنا ظریف باپ کے ہاتھوں قتل،شوہر کے ہاتھوں حنا جاوید قتل،ٹک ٹاکر عائشہ گلا منا کے قتل میں باپ اور بھائی ملوث۔2026 کے پہلے6ماہ میں خواتین کے خلاف تشدد کے 3,172، 2025 میں 6,543 کیسز سامنے آئے۔ دیکھیے
Every other day, a new hashtag. Every few days, another woman is killed—by her husband, father, brother, or in-laws.
How long will we keep demanding justice after another woman is dead?
When will enough finally be enough?
#justiceforHina
its been 16 years to the muneeb and mughees butt case. first instance for many of us when we were left appalled by the cruelty of the world. may they rest in peace.
سائنس آپ کو خدا کا ثبوت نہیں دے سکتی۔ آپ نے خدا کو محسوس کرنا ہے تو ایسے کریں جیسے انسان ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ خدا کو اپنے باطن میں محسوس کریں، اسے فطرت کی ہر چیز میں محسوس کریں۔ لیکن اپنے آپ کو اتنی مقدس ہستی نہ سمجھیں کہ خدا ایک سائنسی حقیقت کے طور پہ آپ کے سامنے آئے گا۔
امریکا ایران معاہدہ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر سے نیچے آگئی ہیں حکومت پاکستان کو بھی اب جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جس طرح قیمتیں بڑھائی تھیں اسی طرح آج ہی کم بھی ہونی چاہیں۔۔
آج تین دفعہ کے وزیراعظم اور چار سال سے وفاق میں one page کے اقتدار کے مزے لینے والے نواز شریف صاحب نے گلگت میں تقریر نہیں کی بلکہ قوم کے اجتماعی شعور کو تازیانے مارے ہیں، یہ 2026 اور انٹرنیٹ، AI کا زمانہ ہے، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس دور میں بھی کوئی سیاستدان اتنی دیدہ دلیری، تسلسل، ثابت قدمی اور ڈھٹائی سے عوام کو بیوقوف بنا سکتا ہے؟ الیکشن میں دونوں جماعتوں کے سیاسی قائدین کی منافقت اور جھوٹ سے لبریز تقریریں سنیں تو لگتا ہے کہ یہ سیاستدان نہیں بلکہ مداری ہیں جو جلسوں میں لائے گئے عوام سے کہتے ہیں، “بچہ جمہورا گھوم جا” اور وہ گھوم جاتا ہے، یار کوئی حد ہوتی ہی بیوقوف بنانے اور جھوٹ بولنے کی۔ یہ کتنے معصوم چہرے بنا کر ووٹ لینے کیلئے ہر پانچ سال بعد بیس سال پرانی تقریر اٹھا کر ورغلانے، بہلانے اور پھسلانے آ جاتے ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ جو لوگ صبح شام عورت کی حرمت کے دعوے دار بنتے ہیں، وہی ہر بحث میں اپنی سوچ کا بھونڈا پن بے نقاب کر دیتے ہیں۔
کسی خاتون کے لباس پر اعتراض کو اگر رد کر دیا جائے تو فوراً جواب آتا ہے, اپنی ماں، بہن، بیٹی کو بھی ایسا پہناؤ.. اور یہیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ مسئلہ لباس نہیں، سوچ ہے۔
کیونکہ جو شخص بحث میں عورت کو صرف جسم، لباس اور مرد سے جڑے رشتوں کے پیمانے پر ناپے، وہ عورت کو انسان نہیں سمجھتا وہ اسے ایک آبجیکٹ سمجھتا ہے۔ ایک ایسی شے، جس پر تبصرہ بھی کیا جا سکتا ہے، جسے کنٹرول بھی کیا جا سکتا ہے، اور جسے اپنی مرضی کے مطابق جج بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ لوگ دن رات عورت کو objectify کرتے ہیں، کبھی لباس کے نام پر، کبھی ، کبھی اخلاقیات کے نام پر۔
ان کی گفتگو میں عورت کا ذہن، شخصیت، رائے اور انسانیت کہیں نہیں ہوتی؛ صرف اس کا جسم ، اس کا لباس ، اس کا رہن سہن اوع اس پر مرد کا اختیار موضوع بنتا ہے اور کوئی عورت اگر اپنی مرضی، اپنی رائے یا اپنی شناخت کے ساتھ سامنے آئے تو ان کو بے چینی ہو جاتی ہے۔
جو ذہن عورت کو ہر وقت جسم، لباس اور مرد کے رشتوں کے دائرے میں قید رکھے، وہ عورت کو ہر حال میں ایک شے بنا کر دیکھتے ہیں۔
غور طلب بات اس طرح کی گفتگو کرنے والے اکثر افراد کا ایک اور معاملے پر ہم خیال ہونا ہے!
The best thing to come out of regime change is how it completely shattered Shehbaz Sharif and PMLN’s long built myth of being the “best administrators.” Their failures on nearly every front exposed reality, and Pakistan is better off with that illusion gone.
رنگ و روغن، ڈیکوریشن اور نمائشی منصوبے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں لاتے۔ نا روزگار ہے، نا سکون، نا معاشی استحکام، اور ناہی بنیادی تحفظ۔
دیکوریشن کا کیا کریں جب عوام کو اگلے وقت کی روٹی کا نہیں پتہ۔
اس عورت کا درد دیکھیں۔۔ https://t.co/DheC6AJzb9
Men chanting take it off at women isn’t liberation. Its control dressed up as progress. Policing women’s clothing, whether demanding more or less, is still misogyny. The fact they continued to shout take it off after the burka was off says it all!
Just imagine how cruel Pakistan’s ruling elite is! First, they raised petroleum prices to record levels despite having pre-war stocks. Then, they slashed business hours and mobility so drastically that most Pakistanis barely survived. Now they are hiking taxes on the already overburdened people!
This paragraph by Richard Feynman hits so hard:
“Fall in love with some activity, and do it! Nobody ever figures out what life is all about, and it doesn’t matter. Explore the world. Nearly everything is really interesting if you go into it deeply enough. Work as hard and as much as you want to on the things you like to do the best. Don’t think about what you want to be, but what you want to do. Keep up some kind of a minimum with other things so that society doesn’t stop you from doing anything at all.”